بلوچ یکجہتی کمیٹی والے دہشت گردوں کی میتیں لینے پہنچ گئے، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
کوئٹہ: ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کوئٹہ اعتزاز گورایا نے کہا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) والے بی ایل اے کے دہشت گردوں کی میتیں لینے پہنچ گئے اور خود کو ان میتوں کا وارث کہا۔ بی وائی سی والے عملے کو مارپیٹ کر لاشیں لے گئے۔ کہا احتجاج کے نام پر شہر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ عوام فیصلہ کرے کہ بی ایل اے کے وارث کون ہوسکتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد نے کہا کہ سب کو پرامن احتجاج کا حق ہے، لیکن کسی کو توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایہ اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ 11 مارچ کو جعفر ایکسپریس پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد شہر میں احتجاج اور توڑ پھوڑ کی وارداتیں سامنے آئیں۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ جعفر ایکسپریس پر حملے کے نتیجے میں 5 افراد کی ہلاکت ہوئی، جن کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ لاشوں کو لینے کا حق صرف ان کے ورثاء کا ہوتا ہے، تاہم ہسپتال میں لاشیں لینے کے لیے بلوچ یکجہتی کمیٹی والے پہنچ گئے، ہسپتال میں انہوں نے توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کی۔ ہسپتال کے کیمرے توڑے گئے، آپٹک فائبر جلایا گیا، پوسٹ آفس اور بینک کے دروازے توڑے گئے۔
انہوں نے کہا کہ حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔ اس کے بعد دوبارہ احتجاجی دھرنا شروع کر دیا گیا، جس میں 2 لاشوں کو لے کر مظاہرین نے سڑکوں پر دھرنا دیا۔ ڈی آئی جی نے کہا کہ ہم نے صحبت پور سے ورثاء کو بلا کر لاشیں ان کے حوالے کیں، لیکن اس کے بعد دوبارہ ایک جتھا آیا۔
اعتزاز گورایا نے کہا کہ ”اگر پولیس نے فائرنگ کی تو وہاں 2 ہزار افراد تھے، تو انہیں گولی کیوں نہیں لگی؟“ ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ احتجاج کا حق ہر کسی کو ہے، لیکن کسی کو سڑکیں بلاک کرنے کا حق نہیں ہے۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد نے کہا کہ دھرنے اور احتجاج کے دوران 61 افراد کو ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا، اور اس واقعے نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید خراب بنا دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ احتجاج کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے، جس کی پابندی کی جانی چاہیے۔
ڈی سی سعد نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے بھی 2 لاشوں کے لیے دھرنا دیا گیا، جس کے نتیجے میں شہر میں کشیدگی اور اضطراب بڑھ گیا ہے۔ تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے حالات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 11 مارچ کو کوئٹہ سے پشاور کے لیے روانہ ہونے والی جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں نے حملہ کرکے مسافروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔
سرکاری دستاویز کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردوں کے خلاف 12 مارچ کی شام کو آپریشن شروع کیا جس میں 190 مسافروں کو بازیاب کرا لیا گیا جبکہ 33 دہشت گردوں کو واصل جہنم کیا گیا، دوران آپریشن 5 اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈی ا ئی جی سی ٹی ڈی بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ انہوں نے توڑ پھوڑ
پڑھیں:
وقف پر قبضہ کرنے والے لوگ ہی احتجاج کر رہے ہیں، کرن رجیجو
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کہا کہ یہ بل مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر حملہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کی مودی حکومت کے وزیر برائے اقلیتی امور و پارلیمانی امور کرن رجیجو نے کہا ہے کہ اپوزیشن وقف بل کو لے کر مسلمانوں کو گمراہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی اے اے کے دوران بھی ایسی ہی افواہیں پھیلائی گئی تھیں۔ کرن رجیجو نے کہا کہ ہم وقف بل کو مکمل عمل کے تحت لا رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جھوٹ پھیلانے والوں کی نشاندہی کریں۔ معاشرے میں تناؤ پیدا کرنے والوں پر نظر رکھیں۔ یاد رہے کہ سال 2024ء میں پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے وقف (ترمیمی) بل پارلیمانی میں پیش کیا تھا۔ بعد ازاں 8 اگست کو یہ بل مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کو بھیج دیا گیا۔ حکومت کی طرف سے پیش کردہ بل کا مقصد وقف ایکٹ 1995 میں ترمیم کرنا ہے تاکہ وقف املاک کو ریگولیٹ کرنے اور ان کے انتظام سے متعلق مسائل اور چیلنجوں کو حل کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ وقف آزادی سے پہلے موجود تھا اور آزادی سے پہلے بھی اس میں ترمیم کی گئی تھی۔ وقف بل کے خلاف جان بوجھ کر احتجاج کیا جا رہا ہے۔ یہ بل ملک کے لئے اچھا بل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں کے ایک طبقے نے وقف املاک پر قبضہ کر رکھا ہے اس لئے وہ احتجاج کر رہے ہیں۔ وقف بل میں کوئی غیر آئینی شق نہیں ہے۔ سب کو مل کر اس بل کی حمایت کرنی چاہیے۔ اس سے پہلے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کہا کہ یہ بل مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر حملہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ بل غیر مسلموں کو ممبر بنا کر وقف بورڈ کی انتظامیہ میں رکاوٹ ڈالتا ہے جو کہ آئین کے آرٹیکل 14، 26 اور 225 کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب صرف ایک ہی مذہب کے لوگ دوسرے مذاہب کے بورڈ میں ممبر بن سکتے ہیں تو پھر وقف بورڈ میں غیر مسلم کیوں۔
بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمانی میں اعلان کیا ہے کہ حکومت موجودہ بجٹ اجلاس کے دوران وقف ترمیمی بل پیش کرے گی۔ اس بل کے تحت زمین کے تنازعات کو حل کرنے کا حق صرف عدالتوں کو دیا جائے گا، اس طرح شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس بل کی ملک بھر کی مسلم تنظیموں کی طرف سے مخالفت کی جا رہی ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اسے "مسلم عبادت گاہوں اور خیراتی اداروں کے خلاف سازش" قرار دیا ہے۔ حال ہی میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی کال پر ملک بھر کے مسلمانوں نے رمضان کے آخری جمعہ کو سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا تھا۔