تائیوان کے علیحدگی پسندوں کی اشتعال انگیزی کے رکنے تک ان کی سزا بھی نہیں رکے گی ،چینی وزارت خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
تائیوان کے علیحدگی پسندوں کی اشتعال انگیزی کے رکنے تک ان کی سزا بھی نہیں رکے گی ،چینی وزارت خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 2 April, 2025 سب نیوز
بیجنگ :امریکہ، یورپی یونین، جاپان اور چند اور ممالک نے تائیوان جزیرے کے ارد گرد چائنا پیپلز لبریشن آرمی کی مشترکہ مشقوں اور تربیت پر تبصرہ کرتے ہوئے چین کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔
اس حوالے سے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکھون نے 2 اپریل کو رسمی پریس کانفرنس میں کہا کہ مذکورہ تنقید حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے،جس کی چین سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ تائیوان کا مسئلہ خالصتاً چین کا داخلی معاملہ ہے جس میں کسی غیر ملکی مداخلت کی گنجائش نہیں ہے اور آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کو نقصانات علیحدگی پسندوں کی سرگرمیوں اور بیرونی قوتوں کی ملی بھگت اور حمایت سے پہنچے ہیں ۔
ترجمان نے کہا کہ چین کی مشترکہ مشقیں لائی چھنگ ڈہ حکام کی بے تحاشا اشتعال انگیزی کی سخت سزا، تائیوان کی علیحدگی پسند قوتوں کو سخت انتباہ اور قومی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لئے ایک ذمہ دارانہ اقدام ہے۔چینی ترجمان نے کہا کہ تائیوان کے علیحدگی پسندوں کی اشتعال انگیزی کے رکنے تک علیحدگی پسندوں کی سزا ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لئے تمام ضروری اقدامات اختیار کئے جائیں گے ۔
.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: علیحدگی پسندوں کی اشتعال انگیزی
پڑھیں:
امریکہ نے خواہ مخواہ دوسرے ممالک پر محصولات عائد کیے ہیں، چینی وزیر خارجہ
امریکہ نے خواہ مخواہ دوسرے ممالک پر محصولات عائد کیے ہیں، چینی وزیر خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 2 April, 2025 سب نیوز
بیجنگ :چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے روس کے سرکاری دورے کے دوران “رشیا ٹوڈے” انٹرنیشنل میڈیا گروپ کو خصوصی انٹرویو دیا ۔بد ھ کے روزچین امریکہ تجارتی جنگ اور چین کی جانب سے امریکی اشیاء پر مزید محصولات کے حوالے سے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وانگ ای نے کہا کہ ہر ملک کو ترقی کے عمل میں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہر ملک کے اپنے جائز خدشات ہوتے ہیں
لیکن مسائل کے حتمی حل کی چابی دوسروں کے پاس نہیں بلکہ اپنے ہاتھوں میں ہونی چاہئے۔ اپنے اندر وجوہات تلاش کرنے کے بجائے امریکہ نے اپنی ذمہ داریوں سے آنکھیں چرائی ہیں، اور خواہ مخواہ دوسرے ممالک پر محصولات عائد کیے ہیں، اور یہاں تک کہ ان پر بھر پور دباؤ بھی ڈالا ہے.
وانگ ای نے کہا کہ اس طرح کا اقدام نہ صرف موجودہ مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہوگا ، بلکہ عالمی مارکیٹ کو بھی شدید طور پر متاثر کرے گا ، بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی نظام کو کمزور کرے گا ، اور امریکہ کی اپنی بین الاقوامی ساکھ کو بھی نقصان پہنچائے گا۔ “امریکہ فرسٹ” امریکی طرز کی غنڈہ گردی نہیں ہونی چاہیے، اور دوسرے ممالک کے جائز حقوق اور مفادات کو نقصان پہنچانے کی بنیاد پر اپنے مفادات کی بنیاد نہیں رکھی جانی چاہیے۔
وانگ ای نے کہا کہ امریکہ فنٹنائل کے بہانے چین پر دو بار محصولات عائد کر چکا ہے۔ امریکہ میں فنٹنائل کا غلط استعمال ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا سامنا خود امریکہ کو کرنا ہے اور اسے حل کرنا ہے۔ چین آج دنیا میں منشیات کے خلاف سب سے سخت اور جامع پالیسی رکھنے والا ملک ہے۔ اگر امریکہ واقعی فنٹنائل کے مسئلے کو حل کرنا چاہتا ہے تو وہ غیر منصفانہ محصولات کو منسوخ کر کے چین کے ساتھ برابری کی سطح پر بات چیت کرے اور باہمی فائدہ مند تعاون حاصل کرے ۔ چین نے کبھی بھی بالادستی کو قبول نہیں کیا اور اگر امریکہ اندھا دھند دباؤ ڈالنا یا ہر قسم کی بلیک میلنگ جاری رکھے گا تو چین یقیناً اس کا مضبوط جواب دے گا۔وانگ ای نے کہا کہ باہمی احترام دنیا کے ممالک کے تبادلے کے لئے بنیادی اصول ہے اور چین امریکہ تعلقات کے لئے ایک اہم شرط ہے۔