چین اور روس کے درمیان سیاسی باہمی اعتماد مضبوط ہوتا جارہا ہے، چینی وزیر خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 2 April, 2025 سب نیوز

بیجنگ :چین کے وزیرخارجہ وانگ ای نے ماسکو میں روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی۔

بدھ کے روزملاقات کے موقع پر صدر پیوٹن نے صدر شی جن پھنگ کے لیے نیک خواہشات پیش کیں اور خوشی کا اظہار کیا کہ صدر شی کے ساتھ طے شدہ متعدد اتفاق رائے کو عمل میں لایا جارہا ہے۔روس -چین تعلقات اعلیٰ سطح پر ترقی کر رہے ہیں اور مختلف شعبہ جات میں تعاون گہرا کیا جارہا ہے۔”روس -چین ثقافتی سال” کامیابی کے ساتھ منایا جارہا ہے ، جس سے مثبت پیش رفت حاصل ہوئی ہے اور عوامی سطح پر دونوں ممالک کی دوستی مزید مضبوط ہوئی ہے۔ رواں سال عظیم حب الوطنی کی جنگ میں سوویت یونین کی فتح کی 80 ویں سالگرہ منائی جاری ہے ، امید ہے کہ چین روس میں منعقد ہونے والی یادگاری سرگرمیوں میں شریک ہوگا اور نازیوں، فاشزم اور جاپانی عسکریت پسندی کے خلاف فتح کا جشن مشترکہ طور پر منایا جائے گا۔

روس اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے روس – چین جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے تعلقات کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے اور اقوام متحدہ ، شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس ممالک سمیت کثیرالجہتی فریم ورکس کے تحت تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔وانگ ای نے صدر شی جن پھنگ کی جانب سے صدر پیوٹن کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے رہنماوں کی ہدایات میں چین اور روس کے تعلقات مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان سیاسی باہمی اعتماد مضبوط ہوتا جارہا ہے، اسٹریٹجک کوآرڈینیشن مزید قریب ہو رہا ہے، ٹھوس تعاون مضبوط ہو رہا ہے، جس سے دونوں بڑے ممالک کی اپنی اپنی ترقی اور اہم علاقائی اور عالمی امور میں مشترکہ دلچسپی کی حفاظت کی گئی ہے۔ چین اور روس کا تعاون کبھی بھی کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں رہا اور یہ بیرونی مداخلت کے تابع بھی نہیں ہے۔ چین اور روس کے تعلقات وقت کے ساتھ وسیع تر ہو رہے ہیں، اور ان کے درمیان دوستی طویل مدتی مستقبل پر مرکوز ہے۔دورہ روس کے دوران وانگ ای نے اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ بھی بات چیت کی۔

.

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: چین اور روس کے کے درمیان جارہا ہے

پڑھیں:

چین پر اعتماد ہی مستقبل کی جیت ہے، چینی میڈیا

چین پر اعتماد ہی مستقبل کی جیت ہے، چینی میڈیا WhatsAppFacebookTwitter 0 31 March, 2025 سب نیوز

بیجنگ :”چین میں سرمایہ کاری مستقبل میں سرمایہ کاری ہے”۔ یہ چینی لیڈر شپ کی جانب سے دنیا بھر کے لئے ایک انتہائی پراعتماد پیغام اور دعوت ہے۔ چین کے صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ میں بین الاقوامی کاروباری برادری کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ دنیا بھر کے مختلف ممالک اور علاقوں سے وابستہ ٹاپ غیر ملکی کاروباری اداروں کے 40 سے زائد عالمی چیئرمین، سی ای اوز اور کاروباری ایسوسی ایشنز کے نمائندوں نے اس ملاقات میں شرکت کی۔شی جن پھنگ نے کہا کہ غیر ملکی سرمائے کے استعمال سے متعلق چین کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور نہ ہی آئے گی۔ چین قواعد و ضوابط، انتظام اور معیارات سمیت دیگر ادارہ جاتی کھلے پن میں مسلسل توسیع کر رہا ہیں، جس میں بڑی سرمایہ کاری اور کھپت کے امکانات موجود ہیں۔ چین کا ساتھ مواقع کا ساتھ ہے، اور چین پر یقین کرنا ہی مستقبل پر یقین کرنا ہے.

اسی دن ، چینی وزیر اعظم کی صدارت میں ریاستی کونسل کے اجلاس میں ” پورٹس کی اوپننگ اپ کی ترتیب کو بہتر بنانے کے بارے میں متعدد آراء” کو منظور کر لیا گیا، اور سرحد پار ای کامرس کے جامع پائلٹ زونز کی تعمیر کو فروغ دینے کا بندوبست کیا گیا۔ سرحد پار ای کامرس پلیٹ فارم کی تعمیر اور پورٹس کے کھلے پن کو بیک وقت آن لائن اور آف لائن آگے بڑھایا جا رہا ہے ۔ حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے بوآو فورم فار ایشیا کے سالانہ اجلاس 2025 کا مقام، چین کا صوبہ ہائی نان، چین کی زیر تعمیر سب سے بڑی آزاد تجارتی پورٹ اور کھلے پن کا تازہ ترین نمونہ ہے۔اصلاحات اور کھلا پن، 40 سال سے زائد عرصے سے چین کی تیز رفتار ترقی کی کلید ہے ، اور اس سلسلے میں غیر ملکی کاروباری اداروں اور چین کے مابین باہمی فائدے اور جیت جیت کے عمل کا بھی مشاہدہ کیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، غیر ملکی کاروباری ادارے چین کی درآمدات اور برآمدات کا 3/1 حصہ، صنعتی اضافی قیمت کا 4/1 حصہ ، ٹیکس آمدنی کا 7/1 حصہ فراہم کرتےہیں، اور 30 ملین سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں.ساتھ ہی ساتھ چین کی ترقی نے غیرملکی کاروباری اداروں کو وافر منافع اور تیز رفتار ترقی کے مواقع بھی مہیا کیے ہیں۔ ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں جن میں واحد کاروبار سے کاروباری کلسٹر تک، ایک ہی جگہ سے متعدد علاقوں میں ترقی کرنے تک، سنگل فیکٹری سے بڑھ کر انٹرپرائز گروپ تک، ان غیرملکی کاروباری اداروں کی طاقت میں وقت کے ساتھ کئی گنا، درجنوں گنا اور یہاں تک کہ سینکڑوں گنا اضافہ ہوا ہے۔

اس وقت بین الاقوامی صورتحال کو یکطرفہ پسندی اور تحفظ پسندی میں اضافے کے شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی “امریکہ فرسٹ” پالیسی نے بین الاقوامی سطح پر “ڈومینو ایفیکٹ” کو جنم دیا ہے۔ محصولات کی دھمکیوں کے پیش نظر یورپی یونین، کینیڈا، جاپان اور برازیل سمیت متعدد معیشتوں نے کہا ہے کہ وہ جوابی اقدامات کے لیے تیار ہیں۔ اور ہاں، گرین لینڈ پر زبردستی قبضے کے ارادے کی وجہ سے، امریکہ کے ہاتھوں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر بڑی محنت سے قائم کئے جانے والے روایتی نظام کو 1945 کے بعد سے سب سے گہری تقسیم کا سامنا ہے۔ایک طرف، یکطرفہ تحفظ پسندی اور زبردستی قبضے کی دھمکی اور دوسری جانب، جیت جیت تعاون کے لئے کھلےپن کی مسلسل توسیع. یہ دو مخالف منظر نامے آج دنیا کی ترقی میں واضح واٹر شیڈ کی مانند ہیں۔ملٹی نیشنل کارپوریشنز کا چین کے لئے ووٹ چینی نظام پر ان کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔جرمنی کے مرسڈیز بینز گروپ نے چین میں 14 ارب یوآن کی اضافی سرمایہ کاری کا اعلان کرتے ہوئے دنیا کے آر اینڈ ڈی اخراجات کا ایک تہائی حصہ چینی مارکیٹ میں ڈالنے کا فیصلہ کیا ۔

فرانس کے سانوفی گروپ نے بیجنگ میں انسولین کی پیداوار کا مرکز بنانے کے لئے 1 بلین یورو کی سرمایہ کاری کی۔امریکی فیڈ ایکس نے شنگھائی میں بین البراعظمی ٹرانس شپمنٹ سینٹر کی تعمیر کا آغاز کیا، وغیرہ۔ ان کمپنیوں کے انتخاب کے پیچھے چین کے سرحد پار ای کامرس، جامع پائلٹ زونز کا وسطی اور مغربی علاقوں سے سرحدی علاقوں تک پھیلنے کا بلوپرنٹ، چینی مصنوعی ذہانت اور کوانٹم ٹیکنالوجی جیسی نئے معیار کی پیداواری قوتوں سے پیدا ہونے والی بھرپور قوت حیات اورسب سے اہم یہ کہ غیر ملکی صنعتی و کاروباری اداروں کا چین پر اعتماد کرتے ہوئے مستقبل کو جیتنے کا عزم ہے۔ باہمی فائدے اور جیت جیت کے اس مظر نامے میں انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کے تصور اور چین کی مسلسل بہتر ہوتی اوپننگ اپ پالیسی کی کشش کا مظاہرہ ہے۔انسانی ترقی کے چوراہے پر کھڑے چین نے اپنے کھلے ذہن سے زمانے کے اس سوال کا جواب دیا ہے کہ “دنیا کو کس طرح کی ترقی کی ضرورت ہے؟”

جنوبی چین کے صوبہ ہائی نان کی فری ٹریڈ پورٹ سے لے کرشمال مشرقی چین میں صوبہ ہیلونگ جیانگ کی سرحد کے ساتھ کھلی پٹی تک، اے آئی پلس اقدامات سے لے کر بائیو مینوفیکچرنگ کے حامل جدید چین تک، اس قدیم سرزمین پر جیت جیت تعاون کا ایک نیا باب رقم کیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ فرانس کے سانوفی کے سی ای او پاول ہڈسن نے کہا کہ چین نہ صرف “یقین کا نخلستان” ہے، بلکہ بنی نوع انسان کے بہتر مستقبل کے لئے ایک زرخیز زمین بھی ہے۔انسانیت کی تاریخ میں یکطرفہ پسندی جو زمانے کے رجحانات کے خلاف ہے، بالآخر ایک عارضی لہر بن جائےگی اور چین کی جانب سے جاری کردہ دعوت نامہ یقیناً وقت کی سب سے دور اندیش آواز ثابت ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • چین اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے درمیان سیاسی اعتماد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، چینی صدر
  • امن کے لئے بیٹھ کر انتظار نہیں کیا جا سکتا، اسے فعال طور پر حاصل کرنا ہو گا، چینی وزیر خارجہ
  • امریکہ نے خواہ مخواہ دوسرے ممالک پر محصولات عائد کیے ہیں، چینی وزیر خارجہ
  • امریکی وزیر خارجہ کا سٹوڈنٹ ویزا کیلئے درخواست دہندگان کی مزید چھان بین کا حکم
  • اسٹوڈنٹ ویزا کیلئے درخواست دہندگان کی مزید چھان بین کی جائے، مارکو روبیو
  • چین اور روس کے تعلقات کثیر قطبی دنیا کے فروغ کے لیے فائدہ مند ہیں،چینی وزیر خارجہ
  • وزیراعظم کا ایران کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار
  • چین پر اعتماد ہی مستقبل کی جیت ہے، چینی میڈیا
  • چین، جاپان اور جنوبی کوریا کا علاقائی فریم ورکس کے تحت تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق