تاجروں کا عید سیزن مایوس کن رہا؛ خریداری کی شرح میں نمایاں کمی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
کراچی:
رواں برس عید الفطر کا سیزن تاجروں کے لیے مایوس کن رہا جب کہ خریداری کی شرح میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔
گزشتہ برسوں کی طرح تاجروں کا 2025ء عید سیل سیزن بھی انتہائی مایوس کن ثابت ہوا۔ہوشربا مہنگائی، کساد بازاری اور قوتِ خرید میں حوصلہ شکن کمی نے تاجروں کے کاروبار اور غریب و متوسط طبقے کی عید کی خوشیاں منانے کے خواب بکھیر دیے۔
عید سیزن کے دوران مارکیٹوں میں رونق، چہل پہل اور گہما گہمی کے باوجود مطلوبہ خریداری سرگرمیوں کا فقدان رہا۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں بھی تاجر خریداروں کی راہ تکتے رہے اور صرف ایک سال میں عید پر فروخت ہونے والے سامان کی قیمتوں میں 40 تا 50فیصد اضافہ ہوا۔
عید الفطر سے قبل ہونے والی خریداری گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 تا 30 فیصد کم رہی۔ عید پر فروخت کے لیے گوداموں میں جمع کیا گیا 60تا 70فیصد سامان دھرا کا دھرا رہ گیا اور تاجروں کے مطابق رواں سال بمشکل 15ارب روپے کا مال فروخت ہوسکا۔
آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے بتایا کہ تباہی سے دوچار کاروبار، محدود آمدنی اور تسلسل کے ساتھ بڑھتی ہوئی ہوشربا اور ناقابلِ برداشت مہنگائی عوام کی عید کی خوشیاں بھی نگل گئی۔
انہوں نے کہا کہ قوتِ خرید نہ ہونے کے سبب عید کی زیادہ تر خریداری خواتین اور بچوں کے ریڈی میڈ گارمنٹس، جوتے، پرس، کھلونے، ہوزری، آرٹیفیشل جیولری اور زیبائش کے سستے سامان تک محدود رہی جب کہ بیشتر خریداروں نے خواہشات کے برعکس صرف ایک سوٹ خریدنے پر ہی اکتفا کیا۔
تاجروں نے عید سیل کے حوالے سے سال 2025کو 2024 سے بھی بدتر اور تباہ کن قرار دیا ہے۔ عید شاپنگ کے حوالے سے مخصوص اور معروف تجارتی علاقوں کلفٹن، ڈیفنس، صدر، طارق روڈ، حیدری، گلشنِ اقبال، ناظم آباد، ملیر، لانڈھی، گلستانِ جوہر، لیاقت آباد، بہادر آباد، جوبلی، جامع کلاتھ، اولڈ سٹی اور دیگر علاقوں کی 200 سے زائد مارکیٹیں عید کی روایتی خریداری کی منتظر رہیں۔
عتیق میر نے کہا کہ ملک میں کسی غیرمتوقع سیاسی و معاشی بحران کے اندیشوں کا شکار تاجر مال منجمد ہوجانے کے خوف سے زیادہ اسٹاک جمع کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہے۔ موجودہ صورتحال سے تاجروں کے لیے کاروباری و گھریلو اخراجات پورا کرنا مشکل اور ادھار پر لیے گئے مال کی ادائیگیوں کے لالے پڑگئے ہیں۔
انہوں نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حسبِ روایت رواں سال بھی ماہِ رمضان میں مصنوعی مہنگائی مافیا اور موقع پرستوں نے مہنگائی کی روک تھام کے حکومتی اداروں کی ملی بھگت سے اشیائے خور و نوش کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچاکر غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی اور ان کے لیے زندگی کی بنیادی سہولیات کا حصول مشکل ترین بنادیا۔
تاجر رہنما نے شہر میں امن و امان کے ذمے دار اداروں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک میں پولیس، ڈاکو اور لٹیرے ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئے۔ جو لٹیروں سے بچ گیا وہ پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔ پارکنگ مافیا نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور میئر کراچی کے احکامات کو ہوا میں اڑاتے ہوئے بدمعاشی اور غنڈہ گردی سے پارکنگ فیس وصول کی جاتی رہی۔
انہوں نے کہا کہ مقامی و غیر مقامی گداگروں کی فوجِ ظفر موج شہر میں دندناتی رہی جن کی روک تھام کے لیے سرکاری سطح پر کوئی بھی حکمت عملی اختیار نہیں کی گئی۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تاجروں کے کے لیے عید کی کہا کہ
پڑھیں:
سوناکشی سنہا اور ظہیر اقبال کی شادی کے بعد پہلی عید، ویڈیوز وائرل
ممبئی: بولی وڈ اداکارہ سوناکشی سنہا اور ان کے شوہر ظہیر اقبال نے اپنی شادی کے بعد پہلی عید جوش و خروش سے منائی۔ یہ دن ان کے لیے ایک خاص سنگ میل ثابت ہوا، جسے انہوں نے محبت، خوشی اور اسٹائل کے ساتھ منایا۔
اداکار جوڑے کو عید کے موقع پر ایک دوست کے گھر جاتے دیکھا گیا، جہاں انہوں نے عید کی خوشیاں اپنوں کے ساتھ بانٹیں۔ انسٹاگرام پر وائرل ہونے والی پاپارازی ویڈیوز میں دونوں کا دلکش انداز نمایاں تھا، جہاں انہوں نے میڈیا کو عید کی مبارکباد بھی دی۔
سوناکشی سنہا اور ظہیر اقبال کی جوڑی ہمیشہ مداحوں کی توجہ کا مرکز بنی رہتی ہے۔ اس خاص موقع پر ظہیر نے سفید شرٹ اور بلیک پینٹ میں اپنی شخصیت کو نمایاں کیا، جبکہ سوناکشی آل بلیک ڈریس میں شاندار نظر آئیں۔ ان کی خوشگوار مسکراہٹ اور خوش مزاجی نے مداحوں کے دل جیت لیے۔
عید کی تقریب کے دوران سوناکشی نے نہ صرف عید کی مبارکباد دی بلکہ گڑی پڑوا کے تہوار پر بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ان کی اس محبت بھری ادا کو مداحوں نے خوب سراہا۔
View this post on InstagramA post shared by F I L M Y G Y A N (@filmygyan)
ظہیر اور سوناکشی، جنہوں نے گزشتہ سال شادی کی تھی، اپنی محبت بھرے لمحات اور خوشگوار زندگی کے باعث مداحوں کے پسندیدہ جوڑوں میں شامل ہو چکے ہیں۔