---فائل فوٹو 

مشیرِ اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ بار بار یاد دہانی کے باوجود صوبے کو اس کا حق نہیں دیا جارہا۔

بیرسٹر محمد علی سیف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک طرف دہشت گردی کا سامنا ہے تو دوسری طرف صوبے کے فنڈز روک دیے گئے ہیں، دہشت گردی صرف ایک صوبے کا نہیں پورے ملک کا مسئلہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت دہشت گردی کے مسئلے پر سنجیدہ ہے تو کے پی کو معاشی طور پر مضبوط کرے، پن بجلی سمیت دہشت گردی کی مد میں صوبے کے بقایاجات جَلد ادا کرے۔

بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ فاٹا انضمام کے بعد ضم شدہ اضلاع کے فنڈز بھی صوبے کو نہیں دیے جا رہے، دہشت گردی سنگین مسئلہ ہے، اس پر سیاست سے گریز کیا جائے۔

.

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

بلوچستان کے 3 بڑے مسائل کون سے ہیں؟

 رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا اور آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ بلوچستان یوں تو قدرتی وسائل، معدنیاتی دولت، گہرے گرم سمندر سمیت کئی نعمتوں سے مالا مال ہے مگر اس سب کچھ کے باوجود صوبہ ترقی کے تناسب میں ملک کا سب سے پست صوبہ تصور کیا جاتا ہے۔

صوبے میں بجلی، پانی، گیس جیسی بنیادی سہولیات 21ویں صدی میں بھی ایک خواب کی مانند ہیں جبکہ تعلیم، صحت، روزگار، انفرا سٹرکچر، صنعتیں اور کاشت کاری جیسی اہم ضروریات صرف نام کی حد تک ہیں۔

ستم بالائے ستم صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال انسانوں سے جینے تک کا بنیادی حق چھین رہی ہے۔ ایسے میں یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ صوبے کے 3 ایسے بڑے کون سے مسئلے ہیں جو عوام کی نظر میں سب سے اہم ہیں۔

یہ بھی پڑھیےگورننس کی خرابی کو ریاست سے جوڑنا درست نہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی

وی نیوز نے اس سوال کے جواب کی تلاش کے لیے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے صوبے کے 3 بڑے مسائل سے متعلق پوچھا تو عوامی حلقوں کی جانب سے کئی اہم مسائل کو اجاگر کیا گیا لیکن ایک مسئلہ ایسا تھا جس پر ہر شعبے سے تعلق رکھنے والا شخص متفق تھا۔ عوام کے مطابق صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کی بگڑتی صورتحال ہے۔

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے سینئر صحافی سید علی شاہ نے کہا کہ امن و امان کی بری صورت حال سے بلوچستان میں معاملات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ آئے روز بدامنی کے واقعات نے تعلیم، صحت اور سماجی زندگی کو مفلوج کردیا ہے جبکہ لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے ذہنوں پر اس ماحول نے کچھ ایسا اثر ڈالا ہے کہ لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ باہر نکلے تو کوئی حادثہ نہ ہو جائے جبکہ والدین بچوں کو پکنک پر بھی نہیں جانے دے رہے ہیں۔ حالیہ شدت پسندی نے جہاں نظام زندگی متاثر کیا ہے وہیں عوام کو خوف میں بھی مبتلا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیےصورتحال واضح ہے ریاست نے رہنا ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنی ہے، صدرمملکت آصف زرداری

کوئٹہ کے مقامی تاجر عرفان الحق کے مطابق امن و امان کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں جس میں سب سے پہلا معاشی عدم استحکام ہے۔ اگر کسی بھی علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو تو تاجر برادری ایسے علاقوں میں انویسٹمنٹ نہیں کرتی۔ جس کی حالیہ مثال یہ ہے کہ صوبہ بلوچستان سے 5 ہزار سے زائد تاجر دیگر علاقوں کی طرف ہجرت کر گئے ہیں۔ ایسے میں اگر تاجر کسی مخصوص علاقے میں انویسٹمنٹ نہیں کریں گے تو وہاں روزگار کے مواقع پیدا ہونا مشکل ہو جائیں گے اور بے روزگاری کے سبب نوجوان منفی سرگرمیوں کی طرف راغب ہوں گے۔ اس کے علاوہ کسی بھی علاقے میں  بدامنی صوبے میں سیاحت کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ اگر سیاح نہ آئیں تو  چھوٹے کاروباری طبقے کے مسائل میں اضافہ ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر صوبے میں امن بحال ہو جائے تو بلوچستان کے آدھے مسائل حال ہوسکتے ہیں۔

عوامی حلقوں نے صوبے کا دوسرا سب سے بڑا مسئلہ بری طرز حکمرانی کو قرار دیا ہے۔ وی نیوز سے بات کرتے ہوئے سینئر صحافی سعدیہ جہانگیر نے کہا کہ  صوبے میں گورننس نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ ملک اور بالخصوص صوبے میں ہونے والے حالیہ الیکشن میں ہونے والی دھاندلی اور اس کے نتیجے میں ایوانوں میں پہنچنے والے لوگ کسی سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔

سعدیہ جانگیر نے بتایا کہ ہر آنے والی حکومت عوامی مسائل کو حل کرنے کے سنہرے خواب تو عوام کو دکھاتی ہے لیکن اقتدار کی سیڑھیاں چڑھتے ہی ان دعووں کو بھول جاتی ہے۔

اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو ہر سال اربوں روپے کا بجٹ دیا جاتا ہے لیکن یہ بجٹ نہ جانے کہاں خرچ ہوتا ہے کیونکہ صوبے میں نہ تو بہتر تعلیمی ادارے موجود ہیں اور نہ ہی صحت کی مناسب سہولیات۔ اس کے علاوہ بلوچستان ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں موٹر وے جیسی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ صوبے میں گورننس جیسی کسی شے کا وجود نہیں۔

سعدیہ جہانگیر نے کہا کہ ماضی میں لوگ بیڈ گورننس کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے تھے لیکن نوجوانوں نسل کو اپنے حق کا علم ہے۔ نوجوان کا اعتبار ایوان سے اٹھ گیا ہے تب ہی سب حق چھینے پر یقین رکھتے ہیں۔

صوبے کا تیسرا بڑا مسئلہ بے روز گاری کو قرار دیا ہے۔ لوگوں کا شکوہ ہے کہ صوبے میں بے روزگاری کی شرح ہر گزرتے سال کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔

تجزیہ نگاروں کا موقف ہے کہ بلوچستان کی آبادی کا 60 فیصد نوجوانوں پر محیط ہے۔ جن میں سے 2023 کے اعداد وشمار کے مطابق 32 فیصد خواندہ ہیں جبکہ باقی نوجوان یا تو ہنر مند ہیں یا تجارت سے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔ جہاں تک بات ہے پڑھے لکھے نوجوانوں کی، ان کے لیے سرکار نوکریاں فراہم کرنے میں بُری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ سرکاری محکمے فنڈز کی کمی کے سبب نئی نوکریاں پیدا نہیں کر پا رہے ہیں جبکہ صوبے میں صنعتیں بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کے علاوہ پڑھے لکھے طبقے کے لیے فری لانسنگ کا آپشن بھی موجود نہیں کیونکہ صوبے کے 50 سے 60 فیصد علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بہتر نہیں۔ ایسے میں یہ پڑھا لکھا طبقہ بے روزگاری کا بوجھ ہی اٹھائے پھرتا ہے۔

 احمد خان نے بتایا کہ دوسری جانب صوبے کے بیشتر نوجوان سرحدی تجارت سے منسلک ہیں لیکن موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے سبب پاک ایران اور پاک افغان سرحد گزشتہ ایک سال سے بند ہے جس کی وجہ سے یہ طبقہ بھی بے روزگار ہوتا جارہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلوچستان بلوچستان کے سلگتے مسائل بلوچستان کے مسائل

متعلقہ مضامین

  • نہریں نکالنے کا مسئلہ حل ہونا چاہے، سیاستدانوں کو جماعتوں سے بالاتر ہوکر سوچنا ہوگا، چوہدری شافع
  • بلوچستان کے 3 بڑے مسائل کون سے ہیں؟
  • دہشتگردی ایک فتنہ، اسے محبت سے ختم کیا جا سکتا ہے: خواجہ آصف
  • خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کیخلاف بہادری کا مظاہرہ کیا، آرمی چیف
  • دہشت گردی سنگین مسئلہ، اس پر سیاست سے گریز کیا جائے، بیرسٹر سیف
  • مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی میں تیز ی سے اضافہ ہوا
  • دہشت گردی کے فتنے کو محبت سے ختم کیا جا سکتا ہے، خواجہ آصف
  • پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور اس کا حقیقی حل
  • دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہم سب متحد ہیں، یوسف رضا گیلانی