ڈیڈ لائن ختم، افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل سست روی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
---فائل فوٹو
رضاکارانہ طور اپنے ملک واپسی کی ڈیڈ لائن کے ختم ہونے کے بعد افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل سست روی کا شکار ہے۔
لنڈی کوتل میں افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے قائم کیے گئے کیمپ میں کام جاری ہے۔
عید کے تیسرے روز صرف 105 افراد پر مشتمل 5 خاندان واپس جا سکے۔
یاد رہے کہ افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کا عمل یکم اپریل سے شروع ہونا تھا۔
افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کی ڈیڈ لائن ختم.
دستاویز کے مطابق خیبرپختونخوا میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تعداد 7 لاکھ 9 ہزار سے 278 ہے، یہاں افغان مہاجرین کے 43 کیمپس ہیں۔
دستاویز کے مطابق کیمپوں میں 3 لاکھ 44 ہزار 908 افغان رہائش پذیر ہیں، افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین کی تعداد 3 لاکھ 7 ہزار647 ہے۔
واضح رہے کہ 2013ء سے اب تک 4 لاکھ 65 ہزار افغان مہاجرین طورخم کے راستے واپس اپنے وطن جا چکے ہیں۔
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: افغان مہاجرین کی ڈیڈ لائن کا عمل
پڑھیں:
ڈیڈ لائن ختم، 8 لاکھ 85 ہزار افغان باشندے وطن لوٹ گئے
غیر قانونی افغانوں کیخلاف سرچ آپریشن کیے جائیں گے، بائیومیٹرک ریکارڈ محفوظ رکھا جائے گا
غیر افغان باشندوںکو جائیدادیں کرائے پر دینے والے شہریوں کو بھی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا
31 مارچ تک پاکستان چھوڑنے والے غیرقانونی افغان باشندوں کی تعداد 8 لاکھ 85 ہزار 902 ہوگئی۔ پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں اور افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کے ملک چھوڑنے کی ڈیڈلائن ختم ہوگئی ہے جس کے بعد حکومت نے 31 مارچ تک پاکستان چھوڑنے والے غیرقانونی افغان باشندوں کی تعداد 8 لاکھ 85 ہزار902 ہوگئی۔حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ڈیڈلائن گزرنے کے بعد اب سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔ایک سرکاری عہدیدار نے گزشتہ دنوں بتایا تھا کہ ڈیڈ لائن ختم کے بعد ملک بھر میں اے سی سی ہولڈرز کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا۔انہوں نے کہا تھا کہ غیر قانونی افغان شہریوں کو اپنی جائیدادیں کرائے پر دینے والے شہریوں کو بھی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔غیر قانونی افغانوں کا سراغ لگانے کے لیے سرچ آپریشن کیے جائیں گے، اور ان کا بائیومیٹرک ریکارڈ سرکاری ریکارڈ میں رکھا جائے گا تاکہ مستقبل میں ان کے ملک میں داخلے کو روکا جا سکے۔واضح رہے کہ پاکستان 15 لاکھ 20 ہزار رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کرتا ہے، ایک اندازے کے مطابق 8 لاکھ افغان شہریت کے حامل افراد کے ساتھ ساتھ دیگر افراد بھی سرکاری طور پر تسلیم کیے بغیر ملک میں رہ رہے ہیں۔