روس نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی تجاویز مسترد کردیں
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
ماسکو: روس نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی تجاویز کو مسترد کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ یہ تجاویز تنازع کے بنیادی مسائل کا حل پیش نہیں کرتیں۔
روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ امریکا کی پیش کردہ تجاویز روس کے اہم مطالبات کو پورا نہیں کرتیں، اس لیے ان کو موجودہ شکل میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روس سے بڑھتی ہوئی ناراضگی کھل کر سامنے آ رہی ہے۔ ٹرمپ نے ماسکو پر معاہدے میں تاخیر کا الزام لگایا اور روسی تیل خریدنے والے ممالک پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔
روس کا مؤقف ہے کہ یوکرین کو نیٹو میں شمولیت کے ارادے ترک کرنے ہوں گے، روس کو ان چار یوکرینی علاقوں پر مکمل کنٹرول ملنا چاہیے جنہیں وہ اپنا حصہ قرار دیتا ہے، اور یوکرین کی فوجی صلاحیت کو محدود کیا جانا چاہیے۔ تاہم، یوکرین ان مطالبات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
ادھر، کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بھی اس تنازع کو "بہت پیچیدہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاملے کو حل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں درکار ہیں۔
روس کا دعویٰ ہے کہ وہ یوکرین کے توانائی انفراسٹرکچر پر حملے نہ کرنے کے امریکی معاہدے پر عمل کر رہا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے مطابق، روسی وزیر دفاع نے صدر ولادیمیر پیوٹن کو یوکرین کی مبینہ خلاف ورزیوں پر بریفنگ دی ہے، جو امریکی حکام نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر مائیک والٹز اور سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو تک پہنچا دی گئی ہیں۔
جنگ کے چوتھے سال میں داخل ہونے کے ساتھ ہی ٹرمپ کا مؤقف بھی بدلا ہے۔ پہلے وہ روس کے حوالے سے نرم رویہ رکھتے تھے، لیکن یورپی اتحادیوں کے دباؤ کے بعد انہوں نے سخت موقف اختیار کر لیا ہے۔
.
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
روسی پراسیکیوٹر جنرل نے طالبان پر پابندی ختم کرنے کی درخواست دیدی
روس نے 2003ء میں طالبان کو ممنوعہ دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا، اب بتدریج افغانستان پر حکمرانی کرنے والی اس اسلامی تحریک کے ساتھ تعلقات استوار کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ روس کے پراسیکیوٹر جنرل نے سپریم کورٹ میں طالبان پر پابندی ختم کرنے کی درخواست دے دی۔ روسی خبر ایجنسی کے مطابق جنرل پراسیکیوٹر آفس نے ملک کی سپریم کورٹ سے طالبان پر عائد پابندی کو معطل کرنے کی درخواست کی ہے۔ روس کی سپریم کورٹ 17 اپریل کو طالبان پر عائد پابندی ہٹانے پر غور کرے گی۔ روس نے 2003ء میں طالبان کو ممنوعہ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا، اب بتدریج افغانستان پر حکمرانی کرنے والی اس اسلامی تحریک کے ساتھ تعلقات استوار کر رہا ہے۔
گذشتہ برس روسی صدر پیوٹن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں طالبان کو اتحادی بھی قرار دے چکے ہیں۔ گذشتہ سال نومبر میں روس میں مقامی و عالمی دہشتگرد تنظیموں پر عائد پابندی عبوری طور پر اٹھانے کا بل پیش کیا گیا تھا، جس سے روس کی جانب سے طالبان سے تعلقات مزید بہتر کرنے اور تعاون بڑھانے کی راہ ہموار ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔