Express News:
2025-04-03@09:23:54 GMT

خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں دفعہ 144 نافذ

اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT

پشاور:

خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں عوامی تحفظ اور امن و امان کے پیش نظر کل 2 اپریل 2025 کو دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔

ڈپٹی کمشنر کے نوٹیفکیشن کے مطابق صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک ٹانک ڈیرہ روڈ تا شیخ مارکیٹ بائی پاس، اور بائی پاس تا ڈبرہ ہر قسم کی آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ہنگامی سروسز مستثنا ہوں گے جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ ایک ہفتہ قبل ٹانک میں ڈی ایس پی سٹی کی وین پر دہشت گردوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا تاہم پولیس کی فوری جوابی کارروائی کے دوران ایک زخمی حملہ آور ساتھیوں سمیت فرار ہوگیا تھا۔

.

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

علی امین گنڈاپور کا وزیراعظم کو پن بجلی منافع کے بقایاجات کی ادائیگی کیلئے خط

اسلام آباد: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے وزیر اعظم شہباز شریف کو مراسلہ ارسال کرتے ہوئے صوبے کے پن بجلی کے خالص منافع کے بقایاجات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 161(2) میں پن بجلی کے خالص منافع کا معاملہ واضح کیا گیا ہے۔ آئین کے مطابق پن بجلی گھروں سے حاصل ہونے والے منافع کی رقم متعلقہ صوبوں کو ملنا ہے، جبکہ اس کی شرح کا تعین مشترکہ مفادات کونسل نے کرنا ہے۔

مشترکہ مفادات کونسل نے 1991 میں قاضی کمیٹی میتھاڈالوجی (کے سی ایم) کی منظوری دی تھی، جس کے تحت 1992 میں اس وقت کے شمال مغربی سرحدی صوبے (خیبر پختونخوا) کو چھ ارب روپے کی پہلی ادائیگی ہوئی تھی۔ 1997 میں نیشنل فنانس کمیشن اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی کے سی ایم فارمولے کی توثیق کی۔

2016 میں وفاقی حکومت نے اس معاملے سے متعلق ایک عبوری طریقہ کار متعارف کروایا، جسے مشترکہ مفادات کونسل نے بھی منظور کیا۔ اس کے تحت پن بجلی کے خالص منافع کی شرح 1.10 روپے فی کلو واٹ آور مقرر کی گئی، جس میں سالانہ پانچ فیصد اضافہ طے کیا گیا۔ تاہم، اس طریقہ کار کے تحت باقاعدگی سے ادائیگیاں نہ ہونے کی وجہ سے خیبر پختونخوا کے 75 ارب روپے کے بقایاجات جمع ہو گئے۔

2018 میں خیبر پختونخوا حکومت نے کے سی ایم فارمولے پر مکمل عملدرآمد کے لیے وفاقی حکومت سے رجوع کیا، جس کے نتیجے میں مشترکہ مفادات کونسل نے پن بجلی کے خالص منافع کی شرح کا تعین کرنے کے لیے ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی۔ اس کمیٹی نے دسمبر 2019 میں اپنی رپورٹ پیش کی، جس کی مشترکہ مفادات کونسل نے توثیق کر دی۔ اس رپورٹ میں مالی سال 2016-17 کے لیے کے سی ایم فارمولے کے مطابق خیبر پختونخوا کے 128 ارب روپے بقایاجات کی تصدیق کی گئی۔

بعد ازاں، صوبوں کو پن بجلی کے خالص منافع کی ادائیگیوں کے معاملے کا “آؤٹ آف دی باکس” حل تجویز کرنے کے لیے ایک اور کمیٹی تشکیل دی گئی، جس نے تمام شراکت داروں سے تجاویز طلب کیں۔ خیبر پختونخوا حکومت نے اپنی تجاویز پلاننگ کمیشن کو ارسال کر دی ہیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ خیبر پختونخوا کو درپیش مالی بحران کے پیش نظر آؤٹ آف دی باکس کمیٹی کا اجلاس جلد بلانے کے لیے پلاننگ کمیشن کو احکامات جاری کیے جائیں، تاکہ آئین کے تقاضوں اور مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں کے مطابق اس دیرینہ مسئلے کا منصفانہ حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم خیبر پختونخوا کے عوام کو ان کے آئینی اور قانونی حقوق دلانے میں قائدانہ کردار ادا کریں گے۔

Post Views: 1

متعلقہ مضامین

  • ٹانک میں سیکورٹی خدشات کے باعث کرفیو نافذ
  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی کے گھر پر نامعلوم افراد کی فائرنگ
  • ٹانک میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر آج کرفیو نافذ
  • وزیراعلی کے پی نے پن بجلی کے خالص منافع کے بقایا جات کی ادائیگی کیلئے وزیراعظم کو مراسلہ ارسال کر دیا
  • پن بجلی کا منافع ادا کرو، علی امین نے شہباز شریف کو مراسلہ لکھ دیا
  • علی امین گنڈاپور کا وزیراعظم کو پن بجلی منافع کے بقایاجات کی ادائیگی کیلئے خط
  • اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کو مستعفی ہوجانا چاہیے، عمران خان
  • کے پی سے سینیٹ کی 11 نشستیں سال گزرنے کے بعد بھی خالی
  • بلوچستان میں عید پر دفعہ 144 نافذ