ایران نے ٹرمپ کے جارحانہ بیانات پر سلامتی کونسل میں شکایت درج کر دی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
تہران: ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ بیانات کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں باضابطہ شکایت درج کروا دی ہے۔
ایران کے مطابق ٹرمپ کے بیانات بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے خط میں خبردار کیا کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
ٹرمپ نے اتوار کے روز ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر تہران نے جوہری معاہدے پر واشنگٹن کے ساتھ بات نہ کی تو اسے بمباری اور مزید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ کے ان بیانات پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی دشمنی ہمیشہ سے رہی ہے، اور اگر امریکا نے کوئی غیر ذمہ دارانہ قدم اٹھایا تو اسے سخت جوابی دھچکا دیا جائے گا۔
آیت اللہ خامنہ ای کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکا نے ایران میں بغاوت کی سازش رچی تو ایرانی عوام خود اس کا جواب دے گی۔
.
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹرمپ کے
پڑھیں:
غزہ میں لاپتہ اقوام متحدہ کے 15 رضاکاروں کی اجتماعی قبر سے لاشیں برآمد
غزہ میں ایک ہفتے قبل لاپتہ ہونے والے ریڈ کریسنٹ کے 15 امدادی کارکنوں کی لاشیں اجتماعی قبر سے برآمد ہوئی ہیں۔
خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق غزہ پٹی کے جنوبی علاقے سے ریڈ کریسنٹ کے 8 طبی کارکنوں اور دیگر فلسطینی ریسکیو ورکرز کی لاشیں ریت میں بنی ایک کم گہری قبر سے برآمد ہوئی ہیں۔
یہ کارکن گزشتہ ہفتے اسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بنے اور اُس کے بعد سے لاپتہ ہوگئے تھے۔
اقوام متحدہ کے عہدیداروں نے لاپتہ رضاکاروں کی لاشیں ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے واقعے کو انسانی وقار کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزینوں (UNRWA) کے سربراہ فلپ لزارینی نے سماجی پلیٹ فارم ایکس پر پیر کے روز بتایا کہ لاشوں کو "کم گہری قبروں میں پھینک دیا گیا تھا، جو انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے۔"
ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی (ICRC) نے اتوار کو ایک بیان میں اپنی "سخت مذمت" کا اظہار کیا اور کہا کہ ’’ان کارکنوں کی لاشیں شناخت کے بعد باعزت طریقے سے دفن کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ یہ عملہ اور رضاکار دوسروں کی مدد کرتے ہوئے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے تھے۔‘‘
ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کے بین الاقوامی فیڈریشن (IFRC) کے مطابق، 9 رکنی ریڈ کریسنٹ ٹیم کا ایک کارکن اب بھی لاپتہ ہے۔
یہ گروپ 23 مارچ کو لاپتہ ہوا تھا، جب اسرائیل نے غزہ میں حماس کے خلاف مکمل فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی تھی۔
فلسطین ریڈ کریسنٹ نے کہا کہ اسی علاقے سے 6 سویل ڈیفنس اراکین اور ایک اقوام متحدہ کے ملازم کی لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ان کارکنوں کو نشانہ بنایا تھا، تاہم ریڈ کراس نے حملے کی ذمہ داری کسی پر عائد نہیں کی۔
اسرائیلی فوج نے پیر کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 23 مارچ کو فوجیوں نے گاڑیوں کے ایک قافلے پر فائر کھول دیا، جس میں ایمبولینسز اور فائر ٹرکس شامل تھیں، کیونکہ یہ گاڑیاں بغیر کسی پہلے رابطے کے، ہیڈ لائٹس یا ایمرجنسی سگنلز کے بغیر اسرائیلی پوزیشن کے قریب آ رہی تھیں۔
فوج کے مطابق، اس حملے میں حماس اور اسلامی جہاد کے کئی افراد شہید ہوئے۔
اقوام متحدہ کے انسانی امور کے کوآرڈینیٹر جوناتھن وِٹال نے لاشوں کی برآمدگی کی جگہ کو "اجتماعی قبر" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جگہ ایک کچلی ہوئی ایمبولینس کی ایمرجنسی لائٹ سے نشان زد تھی۔
ان کے ساتھ شائع کی گئی تصاویر میں ریڈ کریسنٹ کی ٹیموں کو ایک بُری طرح تباہ شدہ فائر ٹرک اور اقوام متحدہ کی گاڑی کے پاس سے لاشوں کو کھود کر نکالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے ریڈ کریسنٹ کارکنوں کی ہلاکتوں پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا، لیکن بعد میں رائٹرز کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ انہوں نے لاشوں کو ایک فعال جنگ کے علاقے سے نکالنا ممکن بنایا۔ تاہم، انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ لاشیں ریت میں کیوں دبائی گئی تھیں یا گاڑیاں کیوں کچلی ہوئی تھیں۔