میانمار زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد 2700 سے بڑھ گئی، 500 مسلمان بھی شامل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
میانمار میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 2719 تک پہنچ گئی ہے۔
ہلاک ہونے والوں میں تقریباً 500 مسلمان بھی شامل ہیں جو اس وقت مساجد میں تھے۔
جمعے کے روز آنے والے 7.7 شدت کے تباہ کن زلزلے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 2,719 تک پہنچ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کیجانب سے زلزلے سے متاثرہ میانمار کے لیے امدادی سامان روانہ
فوجی سربراہ جنرل من آنگ لائنگ نے خبردار کیا ہے کہ یہ تعداد 3000 سے بھی تجاوز کر سکتی ہے کیونکہ امدادی ٹیمیں ابھی مواصلات سے کٹے ہوئے قصبوں اور دیہاتوں تک پہنچ رہی ہیں۔
زلزلے سے 4,500 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں اور تقریباً 440 ابھی تک لاپتا ہیں، جن کے بارے میں جنرل نے کہا کہ انہیں بھی شاید مردہ ہی برآمد کیا جائے گا۔
زلزلے کا مرکز میانمار کے شہروں ساگائنگ اور مندالے کے قریب تھا اور اس نے سڑکیں تباہ کر دیں جبکہ بنکاک تک عمارتیں منہدم ہوئیں۔ میانمار میں چھ اپریل تک سرکاری عمارتوں پر لگے قومی پرچم سرنگوں رہیں گے۔
مندالے میں بدترین تباہیمندالے میانمار کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ تقریباً 17 لاکھ نفوس پر مشتمل یہ شہر زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ پیر کو جنتا نے 2,056 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ 3,900 سے زائد افراد زخمی جبکہ 270 لاپتا ہیں۔
سرکاری اخبار گلوبل نیو لائٹ آف میانمار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تقریباً 500 مسلمان بھی شامل ہیں جو جمعہ کی نماز کے دوران مساجد میں تھے۔
مزید پڑھیے: وزیر اعظم شہباز شریف کی 28 مارچ کے تباہ کن زلزلے پر میانمار کے وزیر اعظم سے تعزیت
مندالے کے سینکڑوں رہائشی کھلے آسمان تلے سوئے کیوں کہ یا تو ان کے گھر تباہ ہو چکے تھے یا وہ آفٹر شاکس کے خوف سے واپس نہیں گئے۔
ان میں سے کچھ کے پاس خیمے تھے لیکن بہت سے لوگوں، بشمول بچوں اور شیر خواروں کے، نے سڑکوں پر کمبل بچھا کر رات گزاری تاکہ وہ تباہ شدہ عمارتوں سے دور رہ سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
میانمار میانمار زلزلہ.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: میانمار میانمار زلزلہ میانمار کے
پڑھیں:
مارچ 2025ء میں دہشتگرد حملوں کی تعداد 11 سال میں پہلی مرتبہ 100 سے متجاوز
رپورٹ کے مطابق تھنک ٹینک نے مارچ کے مہینے کے دوران 105 حملوں کی اطلاع دی، جس کے نتیجے میں 228 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 73 سیکیورٹی اہلکار، 67 شہری شامل ہیں، جب کہ 88 دہشتگرد بھی مارے گئے، مزید برآں، 258 افراد زخمی ہوئے، جن میں 129 سیکیورٹی اہلکار اور اتنی ہی تعداد میں عام شہری شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں مارچ 2025ء میں دہشتگرد حملوں کی تعداد 11 سال میں پہلی مرتبہ 100 سے تجاوز کر گئی۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلکیٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2025ء میں ملک میں تشدد اور سیکیورٹی آپریشنز میں تیزی آئی، اور نومبر 2014ء کے بعد پہلی بار دہشتگردوں کے حملوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی۔ رپورٹ کے مطابق تھنک ٹینک نے مارچ کے مہینے کے دوران 105 حملوں کی اطلاع دی، جس کے نتیجے میں 228 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 73 سیکیورٹی اہلکار، 67 شہری شامل ہیں، جب کہ 88 دہشتگرد بھی مارے گئے، مزید برآں، 258 افراد زخمی ہوئے، جن میں 129 سیکیورٹی اہلکار اور اتنی ہی تعداد میں عام شہری شامل ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے انسداد دہشتگردی کی کارروائیان بھی تیز کیں، جس کے نتیجے میں 83 دہشتگرد ہلاک، 13 سیکیورٹی اہلکار اور 11 عام شہریوں سمیت 107 افراد جاں بحق ہوئے، جب کہ 31 دیگر زخمی ہوئے، جن میں 9 سیکیورٹی اہلکار اور 4 دہشتگرد شامل ہیں۔
مجموعی طور پر دہشتگردوں کے حملوں اور سیکیورٹی آپریشنز میں 335 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 86 سیکیورٹی اہلکار، 78 عام شہری اور 171 عسکریت پسند شامل ہیں۔ عسکریت پسندی کے ڈیٹا بیس (ایم ڈی) کے مطابق، مارچ 2025ء میں اگست 2015ء کے بعد سے مجموعی طور پر سب سے زیادہ ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں، جنوری 2023ء کے بعد سے اسی مہینے میں سیکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد بھی دیکھی گئی، جب 114 اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔جنوری 2023ء کے بعد گزشتہ ایک دہائی میں یہ ملک کی سیکیورٹی فورسز کے لیے دوسرا مہلک ترین مہینہ تھا۔ رپورٹ کے مطابق مارچ کے مہینے میں 6 خودکش دھماکے ہوئے، جو حالیہ برسوں میں ایک مہینے میں سب سے زیادہ ہیں، ان حملوں کے نتیجے میں 59 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 15 عام شہری، 11 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں، جبکہ 33 عسکریت پسند بھی جہنم واصل ہوئے، ان واقعات میں 94 افراد زخمی ہوئے، جن میں 56 سیکیورٹی اہلکار اور 38 عام شہری شامل تھے۔ ان میں سے 3 خود کش حملے بلوچستان میں، 2 خیبر پختونخوا (کے پی) میں اور ایک سابقہ فاٹا میں ہوا، جو اب کے پی کے قبائلی اضلاع کا حصہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے رہے، سب سے قابل ذکر واقعات میں سے ایک 11 مارچ کو بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) بشیر زیب گروپ کی جانب سے جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کرنا تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم 26 یرغمالی جاں بحق اور 33 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ صوبے میں ہونے والے 3 خودکش حملوں میں سے ایک، گاڑی میں ہوا، مبینہ طور پر بی ایل اے ہربیار مری گروپ (بی ایل اے آزاد) سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون خودکش بمبار نے یہ حملہ کیا، جب کہ دوسرے حملے کی ذمہ داری بی ایل اے بشیر زیب گروپ نے قبول کی، بی این پی مینگل کی ریلی کو نشانہ بناتے ہوئے مشتبہ خودکش حملے کا دعویٰ تاحال کسی گروہ نے نہیں کیا۔ مجموعی طور پر بلوچستان میں دہشتگردوں کے حملوں اور سیکیورٹی آپریشنز میں کم از کم 122 ہلاکتیں ہوئیں، جن میں 40 عام شہری، 37 سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے، اور 45 دہشتگرد بھی مارے گئے۔ مزید برآں، ان واقعات میں 148 افراد زخمی ہوئے، جن میں 79 شہری اور 69 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔
کے پی میں کم از کم 206 افراد مارے گئے، جن میں 49 سیکیورٹی اہلکار، 34 عام شہری جاں بحق اور 123 دہشتگرد ہلاک ہوئے، جب کہ 115 افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں 63 سیکیورٹی اہلکار اور 49 عام شہری شامل ہیں۔ صوبہ کے پی میں 124 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں، جن میں 32 عام شہری، 30 سیکیورٹی اہلکار اور 62 دہشتگرد شامل ہیں، جب کہ 65 افراد زخمی ہوئے، قبائلی اضلاع (جو سابقہ فاٹا تھے) میں 82 ہلاکتیں ہوئیں، جن میں 19 سیکیورٹی اہلکار، دو عام شہری جاں بحق اور 61 دہشتگرد مارے گئے، اس مہینے کے دوران کے پی میں 123 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے ساتھ سیکورٹی کارروائیوں میں نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد، گلگت بلتستان یا آزاد جموں و کشمیر میں کسی عسکریت پسند حملے کی اطلاع نہیں ملی, تاہم سیکیورٹی فورسز نے آزاد کشمیر میں ٹی ٹی پی کے ایک عسکریت پسند کو گرفتار کر کے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔