لاہور میں خاتون کے قتل کا معمہ حل، آشنا سمیت دو ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
لاہور:
لاہور کے علاقہ جوہر ٹاؤن میں 38 سالہ خاتون کے لرزہ خیز قتل کا معمہ حل کر لیا گیا، پولیس نے مقتولہ کے آشنا اور اس کے ساتھی کو گرفتار کر لیا۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا کی جانب سے واقعہ کا نوٹس لینے کے بعد ایس پی انویسٹی گیشن صدر کی سربراہی میں پولیس ٹیم تشکیل دی گئی جس نے جدید ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
انچارج انویسٹی گیشن تھانہ جوہر ٹاؤن معظم الیاس چیمہ کے مطابق گرفتار ملزمان میں مقتولہ ناصرہ کا آشنا محمد وقاص اور اس کا ساتھی خاور شامل ہیں۔ مقتولہ کے بیٹے نے اپنی والدہ کے اغواء کا مقدمہ تھانہ جوہر ٹاؤن میں درج کروا رکھا تھا، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو ٹریس کیا۔
پولیس کے مطابق ملزم محمد وقاص نے معمولی تلخ کلامی کے بعد خاتون ناصرہ کو منہ پر سرہانہ رکھ کر بے دردی سے قتل کر دیا۔ قتل کے بعد نعش کو بوری میں بند کر کے اپنے ساتھی خاور کے ساتھ مل کر رکشہ میں لے جا کر BS نہر چھانگا مانگا ضلع قصور میں پھینک دیا۔
تھانہ چھانگا مانگا میں خاتون کی لاش ملنے پر نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس کی تفتیش کے دوران پولیس نے شواہد اکٹھے کر کے اصل ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے اس کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین کو جنسی استحصال اور قتل کرنے والے کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اور پراسیکیوشن کی مشترکہ کوششوں سے ملزمان کو سخت سے سخت سزا دلوائی جائے گی۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے بھی پولیس ٹیم کی کارکردگی کو سراہا اور نقد انعام اور تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انویسٹی گیشن ملزمان کو کر لیا کے بعد
پڑھیں:
امریکا؛ 15 سالہ طالبعلم کیساتھ جنسی تعلق استوار کرنے پر خاتون ٹیچر گرفتار
امریکا میں ایک اسپیشل ایجوکیشن ٹیچر 30 سالہ کرسٹینا فارمیلا کو سنگین جرم میں حراست میں لے لیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کرسٹینا فارمیلا نے 2017 میں ٹیچنگ لائسنس حاصل کیا تھا اور 2020 سے اسکول سے منسلک تھی۔
انھوں نے اسکول میں 2021 سے بطور فٹ بال کوچ طلبا کے لیے رضا کارانہ خدمات انجام دیں۔
ایک 15 سالہ طالب علم کی والدہ نے تھانے میں رپورٹ درج کرائی کہ انھوں نے بیٹے کے موبائل پر ٹیچر کے نازیبا پیغامات دیکھے ہیں۔
والدہ کا بیان میں مزید کہنا تھا کہ اسکول ٹیچر نے متعدد بار بیٹے کے ساتھ جنسی تعلق استوار کیے ہیں۔
پولیس نے ٹھوس شواہد ملنے پر اسکول ٹیچر کو اس وقت کار سے گرفتار کیا جب وہ اپنے شوہر کے ساتھ کسی مسئلے پر بحث کر رہی تھی۔
پولیس کو دیئے گئے بیان میں استانی نے طالب علم کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ نازیبا میسجز اسی نے پہلے میرے فون سے اپنے نمبر پر کیے تھے۔
بقول اسکول ٹیچر بعد ازاں طالب علم اس جھوٹی چیٹ کی بنیاد پر مجھے بلیک میل کرتا رہا ہے اور جب میں نے منع کیا تو میرے خلاف کیس کردیا۔
ٹیچر نے پولیس کو بتایا کہ میں خوبصورت ہوں اور جاذب نظر ہونا ہی میری غلطی ہے۔ یہ لڑکا بھی خود میرے پیچھے لگا تھا۔
اسکول ٹیچر نے مزید بتایا کہ میرے ساتھ ہمیشہ سے یہی مسئلہ رہا ہے لوگ میری خوبصورتی سے متاثر ہوکر تعلقات استوار کرنے کے لیے ایسے ہی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔
پولیس نے اسکول ٹیچر کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد اس شرط پر ضمانت پر رہا کردیا کہ وہ اسکول میں کسی بھی 18 سال سے کم عمر طالب علم سے بات چیت نہیں کریں گی۔
علاوہ ازیں اسکول ٹیچر پر کیس کا فیصلہ ہونے تک عوامی مقامات پر بھی 18 سال کم عمر بچوں سے بات چیت پر پابندی ہوگی۔
کیس کی سماعت کے لیے اسکول ٹیچر کو 14 اپریل کو پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔