وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ کی سعید اللہ خان نیازی کے انتقال پر تعزیت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
میانوالی: وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ مرحوم سعید اللہ خان نیازی کے انتقال پر تعزیت کے لیے ان کے گھر پہنچے۔ انہوں نے مرحوم کے بھائیوں، سینئر صحافی حفیظ اللہ نیازی اور سیاستدان انعام اللہ نیازی سے اظہار تعزیت کیا اور مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے سعید اللہ خان نیازی کی سیاسی و سماجی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک باوقار سیاستدان تھے، جن کے انتقال پر گہرا دکھ ہے۔ عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت اور عوام سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے۔ آمین۔
Post Views: 1.ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گورنر سندھ کی ملیر میں ٹینکر ٹکر سے جان بحق جوڑے کے لواحقین سے ملاقات اور اظہار تعزیت
فائل فوٹو۔کراچی کے علاقے ملیر ہالٹ پر ٹینکر کی ٹکر سے میاں بیوی اور ان کے بچے کے جاں بحق ہونے کے معاملے پر گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے لواحقین سے پھر ملاقات کی اور اظہار تعزیت کیا۔
اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے ساتھ کراچی کے بلڈر ز کو لایا ہوں، گورنر سندھ نے ملیر ہالٹ ٹریفک حادثے میں جاں بحق میاں بیوی کے لواحقین کے لیے 80 ،80 گز کے پلاٹ دینے کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا میں چاہتا ہوں کہ دونوں میاں بیوی کے لواحقین کو دو، دو کروڑ روپے دیے جائیں۔
گورنر سندھ نے کہا کہ غریب کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی کوریج کم ہوتی ہے، میں اس خاندان کے ساتھ رابطے میں رہوں گا۔
انہوں نے کہا کوشش کروں گا کہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں، انتظامیہ کو موقع دینا چاہتا ہوں کہ وہ لائحہ عمل ترتیب دیں اور آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔
گورنر سندھ نے کہا کہ وزیراعظم یا کوئی اور نوٹس لے نہ لے میں نے تو واقعے کا نوٹس لے لیا، یہ کراچی کا معاملہ ہے اس پر سب کو ساتھ دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا آج ایک مرتبہ پھر دکھی دل کے ساتھ بیٹی زینب کے گھر موجود ہوں، پارٹی کے عہدیداران، ارکان اسمبلی اور سینیٹرز بھی موجود ہیں۔
گورنر سندھ نے کہا کہ عید سے پہلے بھی پارٹی کے رہنمائوں کے ساتھ یہاں آیا تھا، ہم نے عید سادگی سے منانے کا اعلان کیا اور زینب کے واقعے کو ہر سطح پر اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا زینب کا واقعہ شہر کی تمام اکائیوں کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے، ہمارے پاس کوئی جواب نہیں کہ آئندہ زینب جیسا کوئی واقعہ نہ ہو۔