ابھی بھی بہت دم ہے، آنکھ کی سرجری کے بعد دھرمندر کا پیغام
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار دھرمندر کے مداح اداکار کی آنکھ پر پٹی بندھی دیکھ کر پریشان ہوگئے۔
اداکار نے اسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پریشان مداحوں کو اپنی خیریت کے بارے میں آگاہ کردیا۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے 89 سالہ لیجنڈری اداکار نے کہا کہ ابھی بھی بہت دم ہے، بہت جان رکھتا ہوں، میری آنکھ کا گرافٹ ہوا ہے۔
انہوں نے اسپتال کے باہر اپنی گاڑی میں بیٹھنے سے قبل مداحوں سے محبت کا اظہار بھی کیا اور انہیں حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ میں بہت طاقتور ہوں۔
سوشل میڈیا پر وائرل مذکورہ ویڈیو کے کمنٹس میں ان کے مداح ان کی جلد صحت یابی کی دعا کر رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق دھرمندر کی آنکھ کی سرجری ہوئی ہے جسے گرافٹنگ کہتے ہیں۔ اس میں متاثرہ قرنیہ جسے انگریزی میں کارنیا کہتے ہیں، کی پیوند کاری کی جاتی ہے اور متاثرہ قرنیہ کو صحت مند ٹشوز سے تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ قرنیہ کے متاثر ہونے کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں۔
Post Views: 1.ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فٹبال پریزینٹر کے “نامناسب لباس” نے نئی بحث چھیڑ دی
معروف ٹی وی پریزینٹر ایلینورا انکارڈونا کے نامناسب لباس نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیزن اسپورٹس چینل کی پریزینٹر ایلینورا انکارڈونا کو ‘ٹرانس پیرنٹ’ متنازع لباس پہننے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
واقعہ یووینٹس اور انٹر کے درمیان میچ کے دوران پیش آیا، جب پریزینٹر نے میچ کی میزبانی کرتے ہوئے ایک ٹرانس پیرنٹ نامناسب لباس کا انتخاب کیا۔
مزید پڑھیں: ورلڈکپ کوالیفائرز؛ برازیل کی بدترین کارکردگی پر ہیڈکوچ فارغ
سوشل میڈیا پر 10 لاکھ سے زائد فالوورز رکھنے والی ایلینورا انکارڈونا کی تصاویر پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا جبکہ کچھ صارفین نے انہیں ‘نئی ڈیلیٹا لیوٹا’ کا خطاب دیا۔
مزید پڑھیں: تاریخ رقم، جاپان فیفا ورلڈکپ کیلئے کوالیفائی کرنے والا پہلا ملک بن گیا
ایک صارف نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ “یہ لباس اسپورٹس براڈکاسٹنگ کے معیارات کے منافی ہے”۔
اسی طرح ایک اور صارف نے انہیں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ “کھیل کی بجائے پریزینٹر کے لباس پر توجہ مرکوز ہو رہی ہے”۔
دوسرے صارف نے ردعمل دیا کہ “یہ ایک اسپورٹس شو ہے، فیشن شو نہیں!”۔
واضح رہے کہ ایلینورا انکارڈونا نے ابھی تک اس تنقید پر کوئی رسمی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
Post Views: 1