امریکا نے مشرق وسطیٰ میں طیارہ بردار بحری بیڑے کی تعداد بڑھا دی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کم از کم چار بی ٹو بمبار طیارے بحرہند کے جزیدے ڈیاگو گارسیا Diego Garcia میں امریکی برطانوی فوجی اڈے پر پہنچا دیئے گئے ہیں۔ دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی بمبار طیارے یمن یا ایران تک پہنچنے کیلئے کافی قریب ہے۔ اسلام ٹائمز۔ یمن میں امریکی حملے اور ایران کے ساتھ کشیدگی کے بعد پینٹاگون نے مشرق وسطیٰ میں تعینات طیارہ بردار بحری بیڑے کی تعداد بڑھا کر 2 کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پینٹاگون نے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ایک بحری بیڑا مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کم از کم چار بی ٹو بمبار طیارے بحرہند کے جزیدے ڈیاگو گارسیا Diego Garcia میں امریکی برطانوی فوجی اڈے پر پہنچا دیئے گئے ہیں۔ دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی بمبار طیارے یمن یا ایران تک پہنچنے کے لیے کافی قریب ہے۔
.ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ بمبار طیارے
پڑھیں:
پائیدار ہوابازی فیول کے فروغ سے معاشی ترقی کا حصول ممکن، ماہرین
کراچی:پائیدار ہوابازی فیول کے فروغ کے ذریعے پاکستان نہ صرف قومی توانائی کی سلامتی کو تقویت دے سکتا ہے بلکہ بڑی صنعتی پیداواری سرگرمیوں اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ فصلوں کے نقصان، فضائی آلودگی کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار ملک کے معروف معاشی، توانائی اور ماحولیاتی ماہرین نے کیا،ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے محل وقوع کی وجہ سے ملک میں موجود بے پناہ زراعتی وسائل سے مستفید ہوتے ہوئے پائیدار ہوابازی فیول کے شعبے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
مزید پڑھیں: بہتری نہ آئی تو پی آئی اے ایک دوسال میں بند ہوسکتی ہے وزیر ہوابازی
اس کے علاوہ اپنے وسیع زراعتی پس منظر کی وجہ سے پاکستان چار بنیادی مسائل سے یکساں طور پر نمٹنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے جن میں توانائی کے حوالے سے قومی سلامتی کو محفوظ بنانا، بڑی صنعتی پیداوار میں اضافہ کرنا، بیرونی براہ راست سرمایہ کاری کا حصول اور فصلوں کے ضیاع سے بچنا بھی شامل ہے۔
ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر دیکھیں تو متعدد صنعتی ممالک صنعتوں سے پیدا ہونے والے فضائی آلودگی کو کم کرنے کی تگ و دو میں ہیں اور اس میں ہوابازی کی صنعت بھی شامل ہے۔
مزید پڑھیں: امارات آذربائیجان ایتھوپیا کا پاکستانی ہوابازی شعبے میں سرمایہ کاری کا فیصلہ
ان کا مزید کہنا تھا کہ یورپی یونین، برطانیہ اور امریکا کے تعاون سے پاکستان بھی ہوابازی فیول کی محفوظ پیداوار کو بہترین طریقے سے استعمال کرسکتا ہے کیونکہ دنیا بھر میں اس وقت ہوابازی فیول کی طلب 25 کروڑ میٹرک ٹن سے بڑھ چکی ہے جبکہ متبادل کے طور پر پائیدار ہوابازی فیول کی طلب بڑھ رہی ہے جس سے تبدیل ہوتی صورت حال میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
اس حوالے سے معروف توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہر ڈاکٹر عدیل غیور کا کہنا تھا کہ تجارتی بنیادوں پر پائیدار ہوابازی فیول کی پیداوار کو سالانہ ایک لاکھ ٹن سے دس لاکھ ٹن کے لیے جائے جانے کے امکانات ہیں اور اس سلسلے میں ہماری ریفائنریز کو اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی تاہم جس کے نتیجے میں بلا واسطہ اور بلواسطہ ہزاروں اسامیاں پیدا ہوں گی جس سے معاشی سرگرمیوں کو بھرپور فروغ ملے گا۔