WE News:
2025-04-03@03:12:26 GMT

مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف عید کے بعد کیا کرنے جارہے ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT

مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف عید کے بعد کیا کرنے جارہے ہیں؟

مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے آج کل جاتی امرا میں پارٹی رہنماؤں سمیت دیگر لوگوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے ،کچھ روز قبل سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر میاں رؤف عطا اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میر عطااللہ لانگو  نے ملاقات کی۔

اس ملاقات میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی موجود تھے، ملاقات میں بلوچستان کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، ذرائع کے مطابق بلوچستان بار کے صدر میر عطا اللہ لانگو نے حالیہ صورتحال کے پیش نظر نواز شریف کو بلوچستان کے دورے کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کر لیا۔

دورہ بلوچستان

ذرائع کے مطابق نواز شریف عید کے بعد بلوچستان کا دورہ کریں گے اور وہاں پر لیگی عہدیداروں سمیت مختلف قبائل کے سرداروں سے ملاقاتیں کریں گے، نواز شریف کے بلوچستان کے اس دو روزہ دورے میں مریم نواز بھی ان کے ہمراہ ہوں گی۔

’نواز شریف بلوچستان میں امن چاہتے ہیں، وہ چاہتے ہیں ملک میں امن و امان کے لیے انہیں بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ بیٹھنا پڑے تو وہ اس کے لیے بھی تیار ہیں۔‘

خیبر پختونخوا کا دورہ

لیگی ذرائع نے وی نیوز کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے عید کے بعد سیاسی طور پر متحرک ہونے کا فیصلہ کیا ہے، عید کے بعد پہلے بلوچستان کے دورے کے بعد دوسرا دورہ خیبر پختونخوا کا ہوگا، جہاں وہ پارٹی کے تنظیمی معاملات کا جائزہ لیں گے۔

نواز شریف کی خیبر پختونخوا آمد پر پشاور سمیت دیگر شہروں میں پارٹی کنونشن منعقد کیے جائیں گے جہاں کچھ سینیئر رہنماؤں کی مسلم لیگ ن میں شمولیت کا امکان ہے، ذرائع نے بتایا کہ پرویز خٹک جلد مسلم لیگ ن میں شامل ہو سکتے ہیں۔

کپیٹن محمد صفدر اور امیر مقام رہنماؤں کی پارٹی میں شمولیت کے معاملات دیکھ رہے ہیں، اس سے قبل اے این پی کے زاہد خان نے نواز شریف سے لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی تھی، اسی طرح دیگر سیاسی رہنما بھی مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کریں گے، خیبر پختونخوا کے بعد نواز شریف گلگت بلتسان کا بھی دورہ کریں گے۔

 عید کے بعد سندھ اور پنجاب کا دورہ بھی کریں گے؟

لیگی ذرائع نے بتایا کہ حال ہی میں نواز شریف نے پنجاب کے مختلف ڈویژن کے ایم پی ایز سے ملاقاتیں کیں اور پنجاب کی صورتحال کے حوالے سے جائزہ بھی لیا ہے، نواز شریف کو سیالکوٹ،گوجرانولہ اور اوکاڑہ میں پہلا جلسہ کرنے کا مشورہ دیاگیا لیکن نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو بتادیا ہےکہ عید کے بعد ان تمام پروگرام کا جائزہ لیا جائے گا۔

بہرحال پارٹی ذرائع کے مطابق نواز شریف پہلے بلوچستان اور پھر خیبر پختونخوا کا دورہ کریں گے، پنجاب میں جلسوں کے انعقاد سے قبل نواز شریف سندھ کا بھی دورہ کریں گے، اس حوالے سے پارٹی کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال بھی کہہ چکے ہیں کہ عید کے بعد نواز شریف پورے پاکستان میں دورے کرنے کا اردہ رکھتے ہیں۔

میاں صاحب مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کریں گے؟

لیگی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف عید کے جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے بھی ملاقات کریں گے اور ان سے حالیہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جمعیت علما اسلام عید کے بعد مسلم لیگ ن مولانا فضل الرحمن نواز شریف.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جمعیت علما اسلام عید کے بعد مسلم لیگ ن مولانا فضل الرحمن نواز شریف خیبر پختونخوا مسلم لیگ ن میں دورہ کریں گے نواز شریف نے میں شمولیت عید کے بعد سے ملاقات بتایا کہ ن کے صدر کا دورہ

پڑھیں:

مودی کی مسلم دشمنی؛ وقف املاک سے متعلق متنازع بل اسمبلی میں پیش

مودی سرکار نے بھارت میں مسلمانوں کو آئینی اور قانونی طور پر حاصل مذہبی آزادی پر ایک اور قدغن لگانے کی تیاری کرلی۔

 بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے حکومتی رکن نے بل لوک سبھا میں وقف املاک سے متعلق ترمیمی بل پیش کیا ہے۔

بل میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد وقف املاک کے نظم و نسق کو بہتر بنانا ہے تاکہ املاک پر قبضے، وراثت اور دیگر معاملات میں ابہام کو دور کیا جاسکے۔

تاہم مسلمان رہنماؤں اور اپوزیشن جماعت کانگریس نے شدید الفاظ میں مخالفت کرتے ہوئے اس بل کو مسلمانوں کی وقف املاک ہڑپنے کی حکومتی سازش قرار دیا۔

بل پر بی جے پی کی اتحادی جماعتوں نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے اور مرکزی حکومت سے فوری طور پر بل واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مسلم رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے کہا کہ اکثریت کے نام پر مودی سرکار اقلیتوں کے حقوق سلب نہیں کر سکتی۔

اس بل کی مخالفت کرنے والوں میں لوک سبھا میں تیسری بڑی جماعت سماج وادی پارٹی،  ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس، عام آدمی پارٹی، کشمیر کی نیشنل کانفرنس، این سی پی (شرد پوار)، لالو پرساد کی آر جے ڈی، ڈی ایم کے اور بائیں بازو کی جماعتیں شامل ہیں۔

ان تمام جماعتوں نے بل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اپنے ارکان کو ہدایت کی ہے کہ اس بل پر متحدہ اپوزیشن کے حق اور حکومت کے خلاف ووٹ کاسٹ کریں۔

دریں اثنا بھارت کی تقریباً تمام ہی مسلم جماعتوں نے بل پاس ہونے کی صورت میں ملک گیر احتجاجی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال
  • محسن نقوی کی نواز شریف اور مریم نواز سے ملاقات
  • مودی کی مسلم دشمنی؛ وقف املاک سے متعلق متنازع بل اسمبلی میں پیش
  • پنجاب بڑا بھائی ہے، بلوچستان میں ہر حال میں امن قائم کریں گے، نواز شریف
  • وزیراعظم شہبازشریف کی نواز شریف سے ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال
  • وقف پر قبضہ کرنے والے لوگ ہی احتجاج کر رہے ہیں، کرن رجیجو
  • شریف خاندان نے جاتی امرا میں عید کا دن کیسے منا یا؟
  • وزیراعظم نے والد، والدہ، بھابی اور بھائی کی قبروں پر فاتحہ خوانی کی
  • قائد ن لیگ نواز شریف اور مریم نواز کی بزرگان کی قبور پر حاضری