امریکا کی 23 ریاستوں کا ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
واشنگٹن:
تقریباً دو درجن امریکی ریاستوں نے صحت کے شعبے میں فنڈز کی کٹوتی کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
ریاستوں کے اٹارنی جنرلز نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف رہوڈ آئی لینڈ کی فیڈرل کورٹ میں درخواست دائر کی، ان ریاستوں میں نیویارک، کولوراڈو، پنسلوانیا اور کولمبیا شامل ہیں۔
مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے 11 ارب ڈالرز کی کٹوتی غیرقانونی طور پر کی، جس سے عوامی صحت کو شدید نقصان پہنچے گا اور مستقبل میں وباؤں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
مزید پڑھیں: وائس آف امریکا سے عملے کی جبری برطرفی، جج نے ٹرمپ انتظامیہ کو روک دیا
عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ کٹوتی کو فوری طور پر روکا جائے، کیونکہ یہ فنڈز کووڈ 19 کی ٹیسٹنگ، ویکسینیشن اور ذہنی صحت کے پروگرامز کے لیے مختص تھے۔
یو ایس ہیلتھ اینڈ ہیومین سروسز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کٹوتی پر کسی بیان سے گریز کیا گیا ہے، تاہم یہ کہا گیا کہ فنڈز اب وبا کے خاتمے کے بعد ضائع نہیں کیے جائیں گے۔
اس فیصلے کے نتیجے میں ہزاروں افراد کی ملازمتیں خطرے میں ہیں اور بیماریوں کی روک تھام کی کوششوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
.
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹرمپ انتظامیہ
پڑھیں:
امریکی صدر کا تمام درآمدات پر 10 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان
واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران یوم آزادی کے موقع پر نئے تجارتی محصولات کے نفاذ کا اعلان کیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے امریکا ایک نئے سنہری دور کا آغاز کرے گا اور اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ کو اقتصادی طور پر خوشحال بنایا جائے۔
ٹرمپ کے مطابق ان نئے ٹیرف کی مدد سے امریکا میں غیر منصفانہ تجارتی تعلقات کو ختم کیا جائے گا، خاص طور پر ان ممالک کے ساتھ جنہوں نے امریکی صنعتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی ٹیرف سے دنیا تجارتی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئی
تاہم تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ان اقدامات سے عالمی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ٹیرف امریکا کے کسانوں اور کاشتکاروں کے حق میں ہیں، جنہیں دنیا بھر میں دیگر ممالک کی جانب سے ظلم کا سامنا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا اب غیر ملکی ساختہ گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیکس عائد کرے گا اور کہا کہ جو ممالک امریکی مصنوعات پر ٹیرف لگاتے ہیں انہیں اب اس کا جواب دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان پر 58 فیصد، چین پر 34 فیصد اور بھارت پر 24 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کا یو ٹرن، کینیڈا اور میکسیکو پر عائد کردہ ٹیرف ایک دن بعد ہی مؤخر کر دیا
اس کے علاوہ امریکی صدر نے کہا کہ حاصل شدہ محصولات کو امریکا میں ٹیکس کی شرح کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
کینیڈا کی جانب سے دودھ اور دیگر ڈیری مصنوعات پر 200 سے 250 فیصد ٹیرف عائد کرنے پر ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا نے امریکی مصنوعات کے لیے غیر منصفانہ قیمتیں رکھی ہیں۔
ٹرمپ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کو سبسڈی فراہم کرتا ہے اور یہ امداد گزشتہ 30 برسوں سے جاری رہی ہے۔