WE News:
2025-04-06@11:49:19 GMT

عید کے بعد پی ٹی آئی اور اپوزیشن کا کیا لائحہ عمل ہو گا؟

اشاعت کی تاریخ: 1st, April 2025 GMT

عید کے بعد پی ٹی آئی اور اپوزیشن کا کیا لائحہ عمل ہو گا؟

موجودہ حکومت کے قیام کے بعد سے ہی پاکستان تحریک انصاف احتجاج کر رہی ہے۔ اس نے پہلے عام انتخابات میں مینڈیٹ چوری ہونے کا الزام عائد کیا اور پھر موجودہ حکومت کو جعلی قرار دیتے ہو فوری طور پر حکومت ختم کرکے  نئے انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کیا اپوزیشن جماعتیں عید کے بعد مشترکہ احتجاج کرنے کے لیے تیار ہیں؟

پی ٹی آئی کے ساتھ محمود خان اچکزئی بھی ہم آواز نظر آئے۔ اپوزیشن کی بڑی جماعت جمعیت علمائے اسلام پی ٹی آئی کے ساتھ یک زبان نظر نہیں آئی۔ پی ٹی آئی نے جمعیت علمائے اسلام کو عید کے بعد احتجاج میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام نے پی ٹی آئی کے ساتھ احتجاج میں شامل ہونے کی مشروط حامی بھر لی ہے جبکہ مولانا فضل الرحمان کہہ چکے ہیں کہ وہ عید کے بعد حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ کریں گے۔

وی نیوز نے سیاسی تجزیہ کاروں سے گفتگو کی اور ان سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ عید کے بعد پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن کا کیا لائحہ عمل ہوگا۔

سینیئر صحافی و تجزیہ کار انصار عباسی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں میں اس وقت تو اتحاد نظر نہیں آرہا۔ انہوں نے کہا کہ جو اپوزیشن جماعتیں پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ دے رہی ہیں ان کی اتنی وقعت نہیں ہے اور جب تک جمعیت علمائے اسلام پی ٹی آئی کا ساتھ نہیں دے گی اپوزیشن حکومت پر کوئی زیادہ پریشر نہیں ڈال سکتی۔

مزید پڑھیے: عید کے بعد پی ٹی آئی کی احتجاجی حکمت عملی کیا ہوگی؟

انصار عباسی کا کہنا تھا کہ اگر مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن کے ساتھ احتجاج میں شامل ہو جائیں اور ان کے کارکن بھی اس احتجاج کا حصہ بنیں تو یقینی طور پر وہ حکومت ہی نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی ایک سنجیدہ چیلنج ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اپوزیشن کے احتجاج کوئی بڑی تبدیلی رونما نہیں کر سکے، سنہ 2014 میں اسٹیبلشمنٹ نے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف  احتجاج کیا تھا لیکن وہ احتجاج بھی اس وقت کامیاب نہیں ہوا تھا اور اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا البتہ حکومت کے لیے وہ احتجاج ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا تھا۔

سینیئر تجزیہ کار ابصار عالم نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عید کے بعد پی ٹی آئی اسی طرز کا احتجاج کرے گی جیسا کہ پہلے کرتی آئی ہے۔

ابصار عالم نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی کوشش ہوگی کہ وہ جمیعت علمائے اسلام کو بھی اپنے ساتھ اسے احتجاج میں شامل کرے اور اپنے کارکنان کے ساتھ ساتھ جمعیت علمائے اسلام کے کارکنان کو بھی سڑکوں پر لے کر آئے لیکن عید کے بعد اپوزیشن کے پاس احتجاج کرنے کا بہت قلیل وقت ہوگا کیونکہ موسم گرما سر پر ہے اور گرمیوں کے موسم میں لوگوں کو احتجاج کے لیے باہر نکالنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: عید کے بعد احتجاج ہوتا نظر نہیں آرہا، پی ٹی آئی اندرونی خلفشار کا شکار ہے، شیر افضل مروت

سینیئر صحافی احمد ولید نے کہا کہ اگر اپوزیشن عید کے بعد حکومت مخالف کسی بھی قسم کی کوئی تحریک چلاتی ہیں تو مجھے نہیں لگتا کہ وہ کامیاب ہو گی۔

احمد ولید نے کہا کہ اس وقت ملک کو دہشتگردی اور معیشت جیسے بڑے مسائل درپیش ہیں جبکہ دوسری جانب قومی حکومت بنانے کی بات فواد چوہدری نے کر دی ہے اور اگر اپوزیشن جماعتیں قومی حکومت کے قیام پر متفق ہو جاتی ہیں تو یہ مسائل بآسانی حل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ عید کے بعد اپوزیشن جماعتیں قومی حکومت کی تشکیل کے لیے حکومت اور اداروں پر زور ڈالیں گی۔

یہ بھی پڑھیے: کیا عید کے بعد اپوزیشن جماعتیں مل کر احتجاج سے حکومت کو ٹف ٹائم دیں گی؟

احمد ولید کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف بھی کہہ چکے ہیں کہ جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا اور بیرون ملک سرمایہ کاری نہیں آئے گی تب تک ملک ترقی نہیں کرے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن حکومت کا ساتھ دے تو ملک ترقی کی جانب بڑھ سکتا ہے اور اسی طرح دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے میں حکومت اختر مینگل اور محمود خان اچکزئی کی مدد سے اپوزیشن کو اپنے ساتھ ملا کر چلنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اپوزیشن اتحاد اپوزیشن احتجاج پاکستان تحریک انصاف جے یو آئی دہشتگردی عید کے بعد احتجاج مولانا فضل الرحمان.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اپوزیشن اتحاد اپوزیشن احتجاج پاکستان تحریک انصاف جے یو ا ئی دہشتگردی عید کے بعد احتجاج مولانا فضل الرحمان پاکستان تحریک انصاف جمعیت علمائے اسلام اپوزیشن جماعتیں عید کے بعد پی ٹی پی ٹی ا ئی نے کہا کہ حکومت کے کے ساتھ ہے اور کے لیے نہیں ا

پڑھیں:

کے پی حکومت کسی بھی افغان مہاجرکو زبردستی نہیں نکالے گی، علی امین گنڈاپور کا اعلان

پشاور (نیوز  ڈیسک)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت میں دہشتگردی ختم ہوچکی تھی۔ خیبرپختونخوا کی افغانستان کے ساتھ طویل سرحد ہے۔ توجہ ہٹنے سے دہشتگردوں کو اپنے پاؤں پھیلانے میں مددملی۔
پی ٹی آئی کوختم کرنے کیلئے پورازورلگایاگیا۔ بانی پی ٹی آئی کی حکومت جس طرح ہٹائی گئی ہمارے اس پر تحفظات ہیں۔ وفاقی حکومت کو کہتے ہیں افغانستان سے آگے بڑھنے کیلئے ٹی اوآرز بنائے۔ افغانستان کے ساتھ معاملہ آگےبڑھانے پر سنجیدگی سے غورکرناہوگا۔
ہمارے افغانستان کے ساتھ تعلقات خراب ہوتے جارہے ہیں۔ ٹی او آرز دیئے ہوئے2سے3مہینے ہوگئے۔ جب تک افغانستان میں امن نہیں ہوگا اس پورے خطے میں امن نہیں ہوگا۔ دہشتگردی کا حل مذاکرات کے ذریعے نکل سکتا ہے۔
میری اپیل ہے کہ ہر معاملے پر سیاست نہ کی جائے۔ ہم نے صوبائی ایکشن پلان پر کام شروع کیا ہوا ہے۔ مجھے وزیراعظم ،وفاقی وزرا کے بیانات پر افسوس ہے۔ جنگ جیتنے کےلئے لوگوں کے دل جیتنے ہوں گے۔
کے پی حکومت کسی بھی افغان مہاجرکو زبردستی نہیں نکالے گی۔ افغان حکومت جب تک ان کو لینے کو تیار نہیں ہوتی ہم واپس نہیں بھیجیں گے۔ دعاگوہوں آصف علی زرداری جلد صحت یاب ہوں۔ وزیراعلیٰ‌خیبرپختونخوا نے کہاکہ آنکھیں بند کرنے سے مسئلے حل نہیں ہوتے۔ این ایف سی ایوارڈ کے معاملے پر سڑکوں پرنکلیں گے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نے اپنے شہریوں کو تحفظ دینا ہے۔
وفاقی حکومت کی پالیسیوں کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔
خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع دہشتگردی کی زد میں ہیں۔ میں وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے بھی بانی سے کئی مہینے بعد ملاقات کرپاتاہوں۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں مختلف امور زیر بحث آئے۔
پارا چنار کا مسئلہ پرانا ہے ہم اس کومکمل حل کررہےہیں۔ اس وقت جو لوگ ستو پی کر سو رہے تھے ان کا میں ذمہ دار نہیں۔ میری کوشش ہے یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ۔ درخواست کی کہ مجھے جہاز دیں تاکہ وہاں سے لوگوں کو نکالوں۔ میرا ایک ہیلی کاپٹر زیادہ سے زیادہ 20 لوگوں کو لےجا سکتا ہے۔
انہوں‌نے کہاکہ میں مجبوری کے تحت حکومت کے ساتھ بیٹھتا ہوں ۔ یوٹیوب پے بیٹھنے والے پیسے کے لیے کچھ بھی بول لیتے ہیں۔ یوٹیوبر کاروبار کرتے ہیں ،شرلی چھوڑتے ہیں۔ کبھی وہ ایک تو کبھی دوسری مارتے ہیں ۔
یوٹیوبر کی کیا حیثیت ہے میں ان پر بات کرنا مناسب ہی نہیں سمجھتا۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اس وجہ سے مسلم ممالک نشانے پر ہیں ۔ تمام مسلم ممالک میں حالات آپکے سامنے ہیں ۔
اسلامی تاریخ کے مطابق نقصان مسلمانوں کو ہونا ہے وہ ہو رہا ہے۔
عمران خان نے ہمیشہ خود مزاکرات کی بات کی ہے ۔ عمران خان ڈیل نہیں کرے گا ۔۔یہ لوگ ڈیل کر کے آئے ہیں۔ مذاکرات پاکستان کے لیے ،جو غلط ہوا ہے ان پر ہم کریں گے ۔
خان صاحب کے ساتھ ملاقات میں حکومتی ،سیاسی،دہشتگرردی پر بات ہوئی ہے .
مزیدپڑھیں:گوگل میپس میں صارفین کیلئے ایک نئے فیچر کا اضافہ

متعلقہ مضامین

  • ریڈ زون میں کسی کو احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی،ترجمان بلوچستان حکومت
  • کچھ عناصر ریڈ زون کو یرغمال بنانے پر بضد ہیں‘: بلوچستان حکومت کا بی این پی لانگ مارچ کیخلاف کارروائی کا عندیہ
  • یہود مخالفت سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کا لائحہ عمل جاری
  • افغانستان سے مذاکرات صوبائی نہیں، ریاستی سطح پر ہونے چاہئیں، شاہد خاقان عباسی
  • جعلی مینڈٹ کی حامل حکومت پرامن احتجاج سے خائف ہے، علامہ مقصود ڈومکی
  • اپوزیشن کسی احتجاجی تحریک کا حصہ نہیں بن رہی ہے، شاہد خاقان عباسی
  • اس وقت اپوزیشن کسی احتجاجی تحریک کا حصہ نہیں بن رہی ، شاہد خاقان عباسی
  • کے پی حکومت کسی بھی افغان مہاجرکو زبردستی نہیں نکالے گی، علی امین گنڈاپور کا اعلان
  • بھارت میں متنازع وقف ترمیمی بل منظوری کے بعد اپوزیشن اور مسلم تنظیموں کا شدید احتجاج
  • پیپلزپارٹی کا نہروں کی تعمیرکیخلاف احتجاج اور وفاقی حکومت سے اتحادکے خاتمے سمیت دیگر آپشنز پر غور