Islam Times:
2025-04-04@03:18:22 GMT

شگر، شہداء جامشورو کا چہلم

اشاعت کی تاریخ: 31st, March 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

چہلم کی مجلس میں معروف عالم دین علامہ شہنشاہ حسین نقوی، سید ناصر عباس تقوی، سید حسنن ظفر نقوی، ناصر شیرازی سمیت معروف علما شریک ہوئے۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ شہدائے جامشورو کا چہلم سکردو اور شگر میں منایا گیا جس میں ملک کے جید علماء اور اکابرین شریک ہوئے۔ سانحہ جامشورو میں شہید ہونے والے ننھے ثنا خواں علی کاظم خواجہ کا چہلم سکردو میں منایا گیا جبکہ معروف نوجوان ثنا خواں سید جان شاہ کا چہلم ان کے آبائی گاؤں شگر میں منایا گیا۔ چہلم کی مجلس میں معروف عالم دین علامہ شہنشاہ حسین نقوی، سید ناصر عباس تقوی، سید حسنن ظفر نقوی، ناصر شیرازی سمیت معروف علما شریک ہوئے۔ 

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کا چہلم

پڑھیں:

پاکستان بچانے کی آخری امید تحریک تحفظ آئین پاکستان ہے، علامہ ناصر عباس جعفری

پشین میں تحریک تحفظ آئین کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ 2024 کے انتخابات 1970 کے انتخابات جیسے تھے، الیکشن کسی نے جیتا اور مسلط کسی اور کو کیا گیا۔ عوام کے حق رائے دہی چھیننے والے ملک کے خائن ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ کچھ حقائق ہیں جن کا انکار کرنا مشکل ہے۔ 1971 میں عوام کی رائے کا احترام نہیں کیا گیا اور پاکستان ٹوٹ گیا۔ اگر عوام کی رائے کے مطابق اقتدار کیلئے آنے والے لوگوں کا راستہ نہ روکا جاتا تو پاکستان نہیں ٹوٹتا۔ یہ اس لئے ہوا کہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ ڈاکہ کس نے ڈالا؟ وہ لوگ کون تھے؟ وطن کو دو لخت کرنے والے کون تھے؟ یہ آپ محمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ میں پڑھ سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان کے ضلع پشین میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
 
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ پاکستان میں متعدد بار مارشل لاء لگایا گیا۔ آئین کو معطل کرنے اور مارشل لاء لگانے کی سزاء آئین پاکستان کی رو سے سزائے موت ہے۔ مگر اس دور کی عدلیہ اور جسٹس منیر کی طرح انصاف کے قاتل ججز نے ضیاء الحق کے مارشل لاء کو قانونی حیثیت دی اور آئین کو پامال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں سالوں سے پاکستان کے خطے پر ہم سب آباد تھے۔ بلوچ، سندھی، سرائیکی، پشتون تھے، پاکستان نہیں تھا۔ ہمیں جو چیز اکٹھا رکھتی ہے، وہ پاکستان کا آئین ہے۔ اس آئین کے اندر ہمارے حقوق ہیں۔ آئین کسی بھی فیڈریشن کے اندر اس کے عوام کے امنگوں کا ترجمان ہوتا ہے۔ انکی تہذیب، تمدن، افکار اور نظریات کا ترجمان ہوتا ہے۔ لیکن آئین کے ساتھ کھلواڑ ہوتا رہا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ضیاء الحق کا مارشل لاء، جنرل پرویز مشرف کا مارشل لاء، ان لوگوں کو پھانسی پر چڑھانا چاہئے تھا۔ یہ لوگ آئین شکن اور آئین کے قاتل تھے۔ آئین پر حملہ پاکستان کی فیڈریشن پر حملہ ہے۔ ہم مختلف تہذیب، تمدن اور تاریخی پس منظر رکھنے والے لوگ ہیں، آئین نے ہمیں اکھٹا کیا اور ایک قوم بننے کی طرف سفر کرنا تھا۔ ہم مختلف مسالک اور اقوام کا خوبصورت گلدستہ بنا سکتے تھے۔ ہمارا آئین اس طرح کا تھا، مگر عملاً کیا ہوا۔ ہمیں ٹکڑوں میں بھانٹنے کی کوشش کی گئی، ایک دوسرے کے بارے میں بدگمان کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ ظالم اور ڈاکو کبھی برداشت نہیں کر سکتے کہ عوام اکھٹے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو اٹھانے والے بے غیرت ہیں۔ لوگوں کے گھروں میں گھسنے، انہیں قتل کرنے اور ان کے وسائل پر ڈاکہ ڈالنے والے ڈاکوؤں نے اس وطن کا بہت کچھ لوٹا ہے، ان کے پیٹ نہیں بھر رہے ہیں۔
 
انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی الیکشن نہیں ہوتا، بس نام کا الیکشن ہے۔ جن کے پاس اختیارات ہیں، وہ اختیار کا ناجائز استعمال اور آئین و قانون کے خلاف کام کرتے ہیں۔ پولیس کا حال آپ کے سامنے ہیں۔ جن لوگوں کو بارڈر ہر ہماری حفاظت کرنی تھی، وہ الیکشن لڑ رہے ہیں۔ الیکشن لوٹنے والوں کی سرپرستی کرکے انہیں ہم پر مسلط کر رہے ہیں۔ اگر الیکشن لوٹنے والوں کی سرپرستی نہ ہوتی تو کیا یہ الیکشن لوٹ سکتے تھے؟ یہ عوام کے حق رائے دہی ان سے کبھی نہیں چھین سکتے تھے۔ جس نے بھی ان کی سرپرستی کی ہے، چاہے وہ جرنیل ہے، جج ہے، جو بھی ہے، وہ خائن وطن ہے۔ اس نے پاکستان سے دشمنی کی ہے۔ آپ لوگوں کا حق مار کر سمجھتے ہیں کہ وہ آپ کو سلوٹ کرینگے۔ نہیں! بلکہ تمہیں چور، ڈاکو، راہزن کہیں گے۔
 
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بحرانوں نے گھیر رکھا ہے، اس ملک کو کیسے اکھٹا رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 2024 کے انتخابات 1970 کے انتخابات جیسے تھے، الیکشن کسی نے جیتا اور مسلط کسی اور کو کیا گیا۔ جہاں جہاں وسائل ہیں، وہاں مسائل ہیں۔ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں بھی ایسا ہی ہے۔ گلگت کے عوام کی سرزمین پر بھی قبضہ جاری ہے۔ ہماری کوشش تھی کہ وہاں کے لوگوں کو پاکستانی بنائیں، اور وہ بن رہے تھے۔ آج وہاں کی ستر فیصد آبادی پاکستان کا نام لینے کیلئے تیار نہیں ہے۔ آپ ہمارے ملک کو کہاں لیکر جا رہے ہیں؟ اس وقت ملک کو بچانے کا ایک ہی راستہ ہے۔ وہ آئین پاکستان کی بالادستی اور رول آف لاء ہے۔ جو تحریک تحفظ آئین پاکستان کہتی ہے۔ پاکستان بچانے کی آخری امید تحریک تحفظ آئین پاکستان ہے۔ پاکستان کی 90 فیصد عوام ان طاقتوروں کے خلاف ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • آئین توڑنے والوں کو پھانسی ہونی چاہئے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس
  • پاکستان بچانے کی آخری امید تحریک تحفظ آئین پاکستان ہے، علامہ ناصر عباس جعفری
  • امام صحافت، معمار نوائے وقت مجید نظامی کا 97واں یوم ولادت آج منایا جائیگا
  • یوم اسلامی جمہوریہ ایران، پورے ایران نے قومی جوش و جذبے سے منایا
  • "پوری قوم پاک فوج کیساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے"عید کے موقع پر شہداء کے لواحقین کا قوم کے نام پیغام
  • محسن نقوی کی شہید کیپٹن محمد علی کے اہلخانہ سے ملاقات، عظیم قربانی کو خراج عقیدت
  • محسن نقوی شہید کیپٹن محمد علی قریشی کے گھر پہنچ گئے ، اہلخانہ سے ملاقات ، عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا
  • اپریل فول ڈے، یکم اپریل کو ہی کیوں منایا جاتا ہے؟
  • محسن نقوی کی شہید کیپٹن محمد علی کے اہلخانہ سے ملاقات، عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش
  • عید کے موقع پر پاک فوج کے شہداء کے لواحقین کا خصوصی پیغام