چین کے شی زانگ کی کئی کہانیاں
اشاعت کی تاریخ: 31st, March 2025 GMT
چین کے شی زانگ کی کئی کہانیاں WhatsAppFacebookTwitter 0 31 March, 2025 سب نیوز
بیجنگ : شی زانگ کے بارے میں میرا پہلا تاثر خوبصورت برف پوش پہاڑوں اور صاف جھیلوں کا نہیں تھا، بلکہ بچپن میں نصابی کتابوں اور ریڈیو پر سنی ہوئی خوفناک کہانیوں کا تھا: پرانا شی زانگ مذہب اور ریاست کے اتحاد پر مبنی جاگیردارانہ غلامی کا نظام تھا، جہاں 95% آبادی انتہائی غربت اور ظلم میں زندگی گزارتی تھی۔ یہاں بسنے والے افراد کو انفرادی آزادی تک حاصل نہیں تھی،
انہیں خریدا اور بیچا جا سکتا تھا، سزا دی جا سکتی تھی، حتیٰ کہ قتل بھی کیا جا سکتا تھا۔ غلاموں کے مالک اپنے غلاموں کی آنکھیں نکالنے، پاؤں کاٹنے جیسے مظالم کرتے تھے، بلکہ ان کی کھال سے ڈرم بھی بنائے جاتے تھے۔ یہ تصاویر میرے ذہن پر ایسی چپک گئی تھیں کہ سالوں بعد، اگرچہ شی زانگ کو “زمین پر جنت” کے طور پر جانا جاتا ہے، میں اب بھی اس سے ڈرتا ہوں۔ آج بھی تبت میں ” سرفوں کی آزا…
.ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
بے مثال تاج اورنجیب الطرفین لوگ
باغوں میں بہار ہے ،ہرگلے میں ہار ہے، چہروں پر نکھار ہے یعنی سب کچھ گل ہے ،گلزار ہے، سکون ہے ،قرار ہے ہرگھر میں تہوار ہے اوریہ کوئی اورمقام نہیں ہے بلکہ ہمارے پیارے پیارے نکھرے صوبے خیبر پختون خوا کا ہردر ودیوار ہے ۔
امن وامان ہے دارالامان ، تعمیرات ہیں عالی شان، تعلیمات میں ہائی فائی، صحت میں واہ واہ ، روزگار میں بے مثال، رہائش میں کمال اور صفائی میں بے مثال، مطلب یہ کہ ہرطرف سے جلال وجمال۔اور یہ ہم نہیں کہہ ر ہے، اخبارات کہہ رہے ہیں، بیانات کہہ رہے ہیں، اشتہارات کہہ رہے ہیں اوربڑے بڑے صادرات کہہ رہے ہیں، سہولیات،ضروریات، آسائشات کہہ رہی ہیں ، اب اگر ہمیں نظر نہیں آرہا تو یہ صرف ہماری آنکھوں کا قصور اورسمجھ دانی کا فتور ہی ہوسکتا ہے ۔
ایک زمانے میں پشاور ٹی وی سے ایک ہندو ڈرامہ نشر ہوتا تھا جس میں ایک شخص دوسرے کو ایسی کوئی خبر سناتاتھا تو سننے والا کہتا یار، یہ جھوٹ ہے لیکن بتانے والا جب کہتا ہے کہ میں نہیں بلکہ اخبار کہہ رہا ہے تو دوسرا کہتا جب اخبار کہتا ہے تو پھر ٹھیک ہی کہتا ہوگا ۔ کچھ ایسی ہی صورت حال ان دنوں ہماری بھی ہے جب اخبارات کہہ رہے ہیں تو پھر سچ ہی ہوگا اورہم اگر یہ کہیں کہ نظر کیوں نہیں آتا تو ہمارا ہی قصور ہوا نا ،اس لیے ہم بالکل بھی نہیں کہیں گے کہ
آنکھوں میں چمک ہے تو نظر کیوں نہیں آتی
پلکوں پہ گہر ہے تو بکھر کیوں نہیں جاتے
تیری ہی طرح آج ترے ہجر کے دن بھی
جاتے نظر آتے ہیں مگر کیوں نہیں جاتے
وہ ایک بادشاہ نے ایک سنار سے کہا کہ میرے لیے ایک ایسا تاج بناؤ جو دنیا میں آج تک نہ کسی نے بنایا ہو نہ دیکھا ہو نہ پہنا ہو پھر کچھ دنوں کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اتنے دنوں میں تیار ہوناچاہیے ورنہ … اوراس ورنہ کے بعد اسے پتہ تھا کہ بادشاہ ’’ورنہ‘‘ کے بعد کیاکرتا ہے ۔ آخر بڑی سوچ بچار کے بعداس کے دماغ میں ایک آئیڈیا آہی گیا ۔
مقررہ دن کو سنار آتا ہوا نظر آیا جس نے اپنے دونوں ہاتھ اس طرح آگے پھیلائے ہوئے تھے جیسے کوئی بہت ہی نازک چیز ہاتھوں میں اٹھائی ہو۔ دربار میں آکر اس نے کہا، حضور پرنور، یہ رہا وہ تاج جو دنیا میں بے مثال ہے اوراس میں یہ کمال ہے کہ صرف ’’حلالی‘‘ لوگوں کو نظر آتا ہے ، مشکوک الطرفین اوروالدین کو بالکل نظر نہیں آتا، پھر اس نے تاج کے بارے میں اوربھی بہت سارے عجائب وغرائب بیان کیے اورکمال کی مثال یہ ہے کہ بادشاہ سمیت سب کو وہ صاف صاف دکھائی دینے لگا تھا کیوں کہ کوئی بھی خود کو مشکوک الطرفین اور والدین نہیں بنانا چاہتا تھا ہرطرف سے تعریف کے ڈونگڑے برسنے لگے۔ وزیراعظم اورخود شاہ والا نے بھی کہا ، کہ واقعی بے مثال ہے ، سراسر جلال وجمال اورمجموعہ کمال ہے
آکے کہہ دے کوئی اس سہرے سے بڑھ کر سہرا
پھرسنار نے نہایت ادب واحترام کے ساتھ اورنزاکت احتیاط اوراہتمام کے ساتھ وہ تاج جو صرف’’حلالیوں‘‘ کو نظرآتاتھا ، شاہ شاہان کے سراقدس کو پہنایا تو سارادربارمبارک سلامت کے نعروں سے گونج اٹھا۔
ایسے سچ پر خدا کی مار، زمانے کی پھٹکار جس کے اظہار پر آدمی کے والدین کاکیریکٹر مشکوک ہوجائے اس لیے ہم نے بھی کہا ، واہ کیا تاج ہے، کیا صوبہ ہے کیاحکومت ہے کیا بیانات ہیں۔ کیا پیراڈائز گاٹ ہے۔
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں
ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
جب بیانات کہہ رہے ہیں اخبارات کہہ رہے ہیں وزیرین ، مشیرین اورمعاونین کہہ رہے ہیں تو پھر سچ ہی ہوگا۔یہ جو کچھ بتایا جارہا ہے ،مل رہا ہوگا کسی کو۔ وہ ’’کسی‘‘ کون کون ہیں کہاں کہاں ہیں کیسے کیسے ہیں یہ کس کو پتہ۔ ؎
اس انداز تبسم میں ہے گم سارا چمن
یہ خبر کس کو کلی کی جان کس شکل میں ہےا1ھ