کراچی، کسٹم اہلکاروں پر منشیات اسمگل کرنے والوں نے چڑھائی کر دی
اشاعت کی تاریخ: 31st, March 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد کے علاقے ناردرن بائی پاس پر ہمدرد چوکی کے قریب کارروائی کے دوران کسٹم اہلکاروں پر منشیات اسمگل کرنے والوں نے چڑھائی کردی، ملزمان کے تشدد سے کسٹم اہلکار زخمی ہوگئے۔
ڈسٹرکٹ کیماڑی تھانہ سعید آباد میں درج مقدمے کے مطابق کسٹم اہلکاروں نے منشیات کی اسمگلنگ کی اطلاع پر سفید رنگ کی آلٹو گاڑی کا تعاقب کیا۔
فرار ہوتے ملزمان نے اوور اسپیڈنگ کی اس ہی دوران سڑک پر موجود گڑھوں کے باعث انکی گاڑی الٹ گئے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کسٹمز کی بڑی کارروائی، 10 ارب روپے کی اسمگل شدہ بھارتی ممنوعہ ادویات برآمد
اس ہی اثناء میں کار سوار ملزمان کے 50 کے قریب موٹر سائیکل سوار ساتھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ موقع پر موجود کسٹم اہلکاروں نے ملزمان کی گرفتاری کی کوشش کی تو ملزمان نے ہوائی فائرنگ کرنے کے ساتھ کسٹم اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور کسٹم اہلکاروں کی موبائل فونز بھی توڑ دئے گئے۔
مقدمہ متن کے مطابق کسٹم اہلکاروں کو طبی امداد کیلئے مرشد اسپتال منتقل کیا گیا تو ملزمان نے وہاں پہنچ کر کسٹم اہلکاروں کو دوبارہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کسٹمز کا بڑا آپریشن، 10 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی اسمگل شدہ اشیاء برآمد
پولیس کے مطابق زخمی اہلکاروں میں حولدار عماد خان، سپاہی عامر،سپاہی کاشف اور مزدور اسد شامل ہیں۔ تمام زخمیوں کو سول اسپتال طبی امداد کیلئے منتقل کردیا گیا۔۔
تاہم واقعے کے بعد کسٹم حکام نے سعید آباد تھانے میں مقدمہ درج کروا دیا۔ مقدمے میں ہنگامہ آرائی، انسداد دہشت گردی اور دیگر سنگین دفعات عائد کی گئی ہیں۔
مقدمہ میں کاشف بلڈر، آصف بلڈر اور ان کے پچاس سے زائد ساتھیوں کو نامزد کیا گیا۔ واقعے کی موبائل فوٹیجز منظر عام۔پر آگئیں جس میں نامعلوم شخص کو کسٹم کی ڈبل کیبن گاڑی کو توڑتے ہوئے اور کسٹم اہلکاروں سے بدکلامی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس کے مطابق نامزد ملزمان کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کسٹم اہلکاروں کے مطابق
پڑھیں:
کیا سوزوکی کمپنی مہران گاڑی کی پروڈکشن دوبارہ شروع کرنے جا رہی ہے؟
کراچی(نیوز ڈیسک)پاکستان میں سوشل میڈیا کے مختلف اکاؤنٹس سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سوزوکی کمپنی اپنی مشہور گاڑی ’مہران‘ کی پروڈکشن دوبارہ شروع کرنے جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک پوسٹ میں سوزوکی مہران کے مختلف ویریئنٹس کی قیمیں بھی شیئر کی گئی ہیں جس کے مطابق مہران وی ایکس کی قیمت 11 لاکھ 50 ہزار روپے، وی ایکس آر کی قیمت 12 لاکھ 75 ہزار اور وی ایکس ایل کی قیمت 13 لاکھ 99 ہزار روپے ہے۔
عرب خبررساںادارے نے جب اس خبر کی حقیقت جانچنے کی کوشش کی تو یہ محص افواہ ثابت ہوئی۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب سوزوکی مہران کی واپسی کی خبریں سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں۔ سال 2022 میں بھی سوشل میڈیا پر یہی دعویٰ کیا گیا تھا کہ سوزوکی مہران دوبارہ مارکیٹ میں لائی جا رہی ہے۔ مگر کمپنی نے اس خبر کی تردید کر دی تھی اور کہا تھا کہ مہران کی واپسی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
اب 2025 میں بھی یہ افواہیں دوبارہ گردش کر رہی ہیں۔
گوکہ پاک سوزوکی نے تاحال اس خبر کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی ہے، تاہم کمپنی کے ایک ذمہ دار آفیسر نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سوزوکی کا مہران کو دوبارہ لانچ کرنے کا اس وقت کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق سوزوکی مہران ایک پرانا ماڈل تھا جسے نئی ٹیکنالوجی اور معیارات کے مطابق اپ گریڈ کرنا مشکل تھا، اس لیے کمپنی نے 2019 میں اس کی پیداوار بند کر دی تھی۔
یاد رہے کہ سوزوکی کمپنی نے مہران کے بعد اپنی مشہور گاڑی ہائی روف ( کیری ڈبہ) کی پیدوار بند کرتے ہوئے ایوری گاڑی متعارف کرائی تھی۔ سوزوکی ایوری ایک جدید مائیکرو وین ہے، جو جاپان میں پہلے ہی کامیاب ثابت ہو چکی ہے اور اب پاکستان میں بھی دستیاب ہے۔ اس گاڑی میں جدید فیچرز شامل کیے گئے ہیں اور اس کی فیول ایوریج بھی بہتر ہے۔
آٹو سیکٹر کے ماہر ایچ ایم شہزاد کے مطابق کیری ڈبہ کو ’چھوٹے کاروباری‘ طبقے کی پسندیدہ گاڑی سمجھا جاتا تھا، اور اس کی جگہ ایوری کی لانچ مارکیٹ میں تبدیلی ضرور لائی ہے۔ ’تاہم اس کی قیمت کیری ڈبہ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے مارکیٹ سے اسے اب تک وہ رسپانس نہیں ملا ہے جس کی توقع کی جارہی تھی۔‘
سوزوکی ویگن آر ایک اور گاڑی ہے جس کی پیداوار بند کردی گئی ہے۔ ویگن آر پاکستان میں چھوٹی فیملی کے لیے ایک مقبول گاڑی تھی، خاص طور پر وہ صارفین جو کم قیمت اور زیادہ انٹیریئر سپیس کے خواہشمند تھے۔
ماہرین کے مطابق ویگن آر کی بندش کا فیصلہ مارکیٹ کی بدلتی ضروریات، حکومتی پالیسیوں اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ
پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ عالمی منڈی میں خام مال کی قیمتوں کا بڑھنا، ڈالر کی قدر میں اضافہ اور پاکستان میں روپے کی قدر میں کمی ہے۔
گذشتہ ایک سال میں گاڑیوں کی قیمتوں میں 15 سے 30 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس سے مقامی طور پر تیار کی جانے والی گاڑیاں عام صارف کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں۔
کار ڈیلر حارث قاسم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتیں اور ماڈلز کا تعین عالمی معیشت، حکومتی پالیسی اور خام مال کی قیمتوں پر منحصر ہے۔ ’اگر کوئی نئی گاڑی لانچ ہو رہی ہے یا قیمتوں میں تبدیلی ہو رہی ہے، تو اس کی تصدیق کمپنی کے آفیشل سے ہونی چاہیے۔‘
انہوں نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غیر تصدیق شدہ خبروں پر یقین نہ کریں اور مستند ذرائع سے ہی معلومات حاصل کریں تاکہ کسی بھی غلط فہمی کا شکار نہ ہو۔
مزیدپڑھیں:صدر ٹرمپ کے عائد کردہ ٹیرف کے پاکستان پر کیا اثرات پڑیں گے؟