حکومت، ریاستی اداروں اور سرکاری بھتہ خوری نے معیشت کو تباہ کر دیا، لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 30th, March 2025 GMT
رہنماء جماعت اسلامی نے کہا کہ بلوچستان کے مخدوش حالات کا حل قومی فکر اور ملی جذبے سے نکالا جائے، خطے میں جاری گریٹ گیم کے سدباب کے لیے گریٹ اسٹریٹیجی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت، ریاستی اداروں اور سرکاری بھتہ خوری نے معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مخدوش حالات کا حل قومی فکر اور ملی جذبے سے نکالا جائے، خطے میں جاری گریٹ گیم کے سدباب کے لیے گریٹ اسٹریٹیجی اپنانے کی ضرورت ہے۔ لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ سیکیورٹی اور تجارتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان اور افغانستان ایک پیج پر آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کا طاقتور طبقہ پاکستان سے دولت سمیٹ کر بیرون ملک جا رہا ہے۔ انہوں نے ملکی اقتصادی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت، ریاستی اداروں اور سرکاری بھتہ خوری نے معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔
.ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
ماہرنگ بلوچ ہماری قوم کی بیٹی ہے، کوئی بھی غیرت مند معاشرہ اپنی بیٹیوں کیساتھ ایسا سلوک برداشت نہیں کرتا، علامہ راجہ ناصر عباس
چئیرمین ایم ڈبلیو ایم نے سردار اختر مینگل کی زیر قیادت لکپاس کے مقام پر جاری احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ہمیشہ دو طبقے رہے ہیں ایک ظالم اور دوسرا مظلوم۔ ہم ہر مظلوم کے حامی اور ہر ظالم کے خلاف ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی زیر قیادت لکپاس کے مقام پر جاری احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ہمیشہ دو طبقے رہے ہیں ایک ظالم اور دوسرا مظلوم۔ ہم ہر مظلوم کے حامی اور ہر ظالم کے خلاف ہیں۔ مولا علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ ہمیشہ ظالم کے خلاف کھڑے ہو اور مظلوم کے مددگار بنو۔ آج جب دنیا کے تمام ظالم ایک ہو چکے ہیں، تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم سب مظلوم متحد ہوں اور اپنی جدوجہد کو منظم کریں۔ میں آپ کے سامنے ہوں، میرے کئی ساتھی اور دوست گزشتہ دس سال سے لاپتہ ہیں۔ اس لاقانونیت اور ظلم کے خلاف ہمیں مل کر آواز بلند کرنی ہوگی۔ پنجاب سمیت پاکستان بھر کے عوام اپنے بلوچ بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں۔ بلوچستان کے عوام غیرت مند، باشعور اور بہادر ہیں، اور وہ اپنے حقوق کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم پر ایسے عناصر کو مسلط کر دیا گیا ہے جو ظلم و جبر کے ذریعے عوام کے حقوق سلب کر رہے ہیں۔ ان بے بصیرت کرپٹ وطن دشمن حکمرانوں نے ماضی کے سانحات، خصوصاً مشرقی پاکستان کے المیے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ماہ رنگ بلوچ ہماری قوم کی بیٹی ہے، اور کوئی بھی غیرت مند معاشرہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ ایسا سلوک برداشت نہیں کرتا۔ اسلام آباد میں بلوچ بیٹیوں کے ساتھ جو ظلم ہوا، ہم نے اس وقت بھی اس کی مذمت کی، دھرنے میں جا کر ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور ان کے سروں پر چادر رکھی۔ ہم آپ کے درد کو محسوس کرتے ہیں، کیونکہ اس وقت پورے پاکستان کے عوام ظلم کا شکار ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ وطن عزیز کی بقا کے لیے ہم سب مظلوم ایک ہو جائیں اور ان وطن دشمنوں کا مقابلہ کریں۔ بلوچستان کی ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں پورے پاکستان کے لیے ایک مثال ہیں۔ ہمیں اپنے حقوق کے لیے گھروں سے نکلنا ہوگا، ورنہ یہ ظالم باقی ماندہ پاکستان کو بھی برباد کر دیں گے۔ ہمیں اپنے ملک کو بچانا ہے اور ان ظالموں کو روکنا ہے۔ اور اے ظالمو! سن لو، جب کسی تحریک میں خواتین شامل ہو جائیں، تو اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ ہمیں متحد رہنا ہے، کیونکہ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کے عوام کا اس پر سب سے زیادہ حق ہے۔ ان شاء اللہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان ان ظالموں کو روکے گی اور وطن عزیز کو امن و انصاف کا گہوارہ بنائے گی۔