حماس نے جنگبندی کی نئی تجاویز سے اتفاق کر لیا، مصری ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 29th, March 2025 GMT
الجزیرہ سے اپنی ایک گفتگو میں حماس کے رہنماء کا کہنا تھا کہ ہم جنگبندی تک پہنچنے کیلیے بہت لچک کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ہم صیہونی جارحیت اور محاصرے کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مصری ذرائع نے العربی الجدید کو بتایا کہ فلسطین کی مقاومتی تحریک "حماس" نے عید الفطر کے موقع پر غزہ میں جنگ بندی کے نئے معاہدے سے متفق ہو گئی۔ اس ذرائع نے بتایا کہ حماس، امریکی فوجی "ایڈن الیگزینڈر" کے علاوہ دیگر 4 صیہونی قیدیوں کی رہائی پر راضی ہو گئی۔ مصری ذرائع کا کہنا ہے کہ گیند اب امریکہ کی کورٹ میں ہے۔ دوسری جانب کچھ ہی دیر قبل ایک اہم مصری شخصیت نے لبنانی روزنامہ الاخبار کو بتایا کہ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے امریکہ کا مثبت موقف سامنے آیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ آںے والے وقت میں جنگ بندی کے مذاکرات کے لئے بات چیت کا عمل شروع ہو جائے گا۔ قبل ازیں حماس کے پولیٹیکل بیورو "سہیل الہندی" نے کہا کہ ثالثین کے ساتھ گہری بات چیت جاری ہے اور امید ہے کہ مستقبل میں جلد ہی جنگ بندی ہو جائے گی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار الجزیرہ سے گفتگو میں کیا۔ اس موقع پر سہیل الہندی نے کہا کہ ہم جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے بہت لچک کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ہم صیہونی جارحیت اور محاصرے کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ یہ مذاکرات آنے والے دنوں میں غزہ کے باشندوں کے قتل عام کو روکنے کا باعث بنیں گے۔
.ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
صیہونی رژیم عید الفطر کے روز بھی فلسطینیوں کے قتل عام سے باز نہ آئی، حماس
اپنے ایک جاری بیان میں فلسطین کی مقاومت اسلامی کا کہنا تھا کہ عید الفطر کے پہلے دن ہونیوالے ان دہشتگردانہ حملوں کے نتیجے میں درجنوں افراد کی شہادت ہوئی جن میں عید کے کپڑوں میں ملبوس بہت سے بچے بھی شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین کی مقاومتی تحریک "حماس" نے ایک جاری بیان میں کہا کہ عید کے موقع پر مہاجر خیمہ بستیوں میں پناہ لئے بچوں کا قتل، قابض رژیم کی فسطائیت اور اس میں کسی بھی انسانی و اخلاقی اقدار کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ واضح رہے کہ فلسطین میں عید الفطر کے پہلے روز اتوار کو اسرائیل نے 13 بچوں سمیت 33 فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ جس پر حماس نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے عید الفطر کے دن کا احترام کیے بغیر اتوار کے روز بھی غزہ میں فلسطینی عوام پر دہشت گردانہ بمباری کا سلسلہ جاری رکھا۔ عید الفطر کے پہلے دن ہونے والے ان دہشت گردانہ حملوں کے نتیجے میں درجنوں افراد کی شہادت ہوئی جن میں عید کے کپڑوں میں ملبوس بہت سے بچے بھی شامل ہیں۔ حماس نے کہا کہ جو چیز صیہونی رژیم کے مجرم جنگی وزیر اعظم کو اپنے جرائم اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو جاری رکھنے کی ترغیب دلاتی ہے وہ بین الاقوامی برادری کی نااہلی و شرمناک خاموشی ہے۔ حماس نے دنیا کی حریت پسند اقوام سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ و مغربی کنارے میں جارحیت کو بند کروانے کے لئے مظاہروں اور مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کریں۔ حماس نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کی پٹی پر جارحیت روکنے اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر دوبارہ سے عمل درآمد کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالے۔