رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں ایف بی آر ریونیو شارٹ فال725 ارب روپے تک پہنچ گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 29 March, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)رواں مالی سال 2024-25 کے پہلے نو ماہ(جولائی تا مارچ)میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کا ریونیو شارٹ فال725 ارب روپے تک پہنچ گیا۔پچھلے کچھ عرصے سے ایف بی آر کے ریونیو شارٹ فال میں مسلسل اضافے کا رجحان ہے آئیا یم ایف کی مشاورت سے ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں636 ارب روپے کی کمی کے باوجود بھی ریونیو شارٹ فال قابو میں نہیں آپا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق صرف مارچ2025 میں ایف بی آڑ کو ایک سو ارب روپے سے زائد کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف مارچ کے مہینے میں ریونیو خسارہ 100 ارب روپے سے زیادہ مارچ میں1220 ارب ہدف کے مقابلے تقریبا 1100 ارب روپے عبوری ٹیکس جمع ہو سکا ہے مارچ میں 34ارب جبکہ 9 ماہ میں 384 ارب کے ریفنڈز ادا کئے گئے۔اس کے علاوہ رواں مالی سال 2024-25 کے پہلے نو ماہ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیونے مجموعی طور پر آٹھ ہزار چار سو 44 ارب روپے کی عبوری ٹیکس وصولیاں کی ہیں جبکہ ٹیکس ہدف 9 ہزار 167 ارب روپے مقرر تھا۔اس لحاظ سے رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران حاصل ہونے والی ٹیکس وصولیاں مقررہ ہدف سے 725 ارب روپے کم ہیں علاوہ ازیں روا ں مالی سال کا نظرثانی شدہ سالانہ ہدف 12 ہزار 334 ارب روپے مقرر ہے، جبکہ اصل ٹیکس ہدف 12 ہزار 970 ارب روپے تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا دباو اور ٹیکس نیٹ بڑھانیکی کوششیں کارآمد ثابت نہیں ہو سکی ہیں اب ایف بی آر کو نظرثانی شدہ سالانہ ہدف پورا کرنے کیلئے اگلے تین ماہ میں کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔

.

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: رواں مالی سال ریونیو شارٹ ایف بی آر ارب روپے کے پہلے ماہ میں

پڑھیں:

ملک کے سرکاری اداروں نے ایک سال میں مجموعی طور پر851ارب روپے کا نقصان کیا.وزارت خزانہ

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔29 مارچ ۔2025 ) پاکستان کے سرکاری اداروں نے مالی سال 2023-24 میں 851بلین روپے کے حیران کن نقصانات کی اطلاع دی جس سے ان کی مالی استحکام اور قومی معیشت پر اثرات کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے سبسڈیز اور گرانٹس کے ذریعے بار بار حکومتی مداخلتوں کے باوجود پاور سیکٹر عوامی فنڈز پر سب سے بڑا ڈرین بن کر ابھراہے.

مالی سال 24 کے لیے وفاقی سرکاری اداروں پر وزارت خزانہ کی مجموعی سالانہ رپورٹ کے مطابق پاکستان خودمختار دولت فنڈ کے تحت بعض اداروں کے منافع کے حساب سے خالص مجموعی نقصانات 521.5 بلین روپے رہے نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے اکیلے 295.

(جاری ہے)

5 بلین روپے کا نقصان ریکارڈ کیاجس سے یہ واحد سب سے بڑا خسارہ کرنے والا ادارہ ہے پاور سیکٹر کی دیگر کمپنیاں جن میں کیسکو، پیسکو اور سیپکو شامل ہیں، مالی بدانتظامی اور نااہلی کے ساتھ جدوجہد کرتی رہیں.

سرکردہ ماہرین اقتصادیات اور صنعت کے ماہرین نے سرکاری اداروں کی بگڑتی ہوئی مالی صحت خاص طور پر پاور سیکٹر میں سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے وزارت خزانہ کے سابق ماہر معاشیات ڈاکٹر حسن نواز نے خبردار کیا کہ یہ نقصانات گہری جڑوں والی ساختی نااہلیوں کی عکاسی کرتے ہیں سرکاری اداروں صرف عوامی پیسے کا خون نہیں کر رہے ہیںوہ ایک ایسا مالی بحران پیدا کر رہے ہیں جسے حکومت مزید نظر انداز کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی خاص طور پر پاور سیکٹر، قرضوں کے جمع ہونے، بدانتظامی اور ضرورت سے زیادہ سبسڈیز کے چکر میں پھنسا ہوا ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے.

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری اداروں کی کل آمدنی 5.26فیصداضافے سے 13.5 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی، حکومت کی جانب سے سبسڈیز اور گرانٹس کے ذریعے مجموعی نقصانات کو 14فیصدتک کم کرنے کی کوششوں کے باوجودان کے مجموعی خالص نقصانات میں 89فیصدکا اضافہ ہوا سرکاری اداروں اثاثوں کی کل بک ویلیو 38.43 ٹریلین روپے تک بڑھ گئی لیکن واجبات بڑھ کر 32.57 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے جس سے خالص ایکویٹی کی نازک پوزیشن صرف 5.86 ٹریلین روپے رہ گئی.

نیشنل انٹیگریٹڈ ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن کے مالیاتی تجزیہ کار ڈاکٹر فاروق ضیا نے زور دیا کہ سرکاری اداروں پاکستان کی معیشت پر ایک بڑا بوجھ بن چکے ہیں ان اداروں نے معاشی قدر میں 2.5 ٹریلین روپے کا نقصان کیا ہے اعلی آپریٹنگ اور مالی فائدہ انہیں اثاثہ کی بجائے ذمہ داری بناتے ہیں انہوں نے مزید دلیل دی کہ ان انٹرپرائزز کے لیے 17 سے 22فیصدکی وزنی اوسط لاگت غیر پائیدار ہے اور اس کا نتیجہ ایکویٹی پر منفی 0.5فیصدمنافع ہے جیسے جیسے مالیاتی عدم استحکام گہرا ہوتا جا رہا ہے ماہرین متنبہ کرتے ہیں کہ فوری اور جامع تنظیم نو کے بغیر پاکستان کے سرکاری اداروں عوامی وسائل کو ضائع کرنا جاری رکھیں گے جس سے ملک کے معاشی چیلنجز مزید خراب ہوں گے.

متعلقہ مضامین

  • ایف بی آر 9 ماہ میں ٹیکس وصولی کا ہدف پورا نہ کرسکا
  • پاکستان میں‌تنخواہ دارطبقہ پس گیا، انکم ٹیکس وصولی میں نمایاں اضافہ
  • 9 ماہ میں ایف بی آر کا ریونیو شارٹ فال 725 ارب روپے تک پہنچ گیا
  • 9ماہ میں ایف بی آر ریونیو شارٹ فال725ارب تک پہنچ گیا
  • رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں ایف بی آر ریونیو شارٹ فال725 ارب روپے تک پہنچ گیا
  • ملک کے سرکاری اداروں نے ایک سال میں مجموعی طور پر851ارب روپے کا نقصان کیا.وزارت خزانہ
  • ای کامرس ادائیگیوں میں رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران بالخاظ تعداد 30 فیصد اوربالخاظ مالیت 32 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا، ایس بی پی
  • بجٹ میں ٹیکس محصولات کا ہدف 15ہزار 270ارب روپے مقرر
  • ٹیکس خسارہ 730 ارب روپے تک پہنچ گیا، آئی ایم ایف معاہدہ خطرے میں پڑ گیا