نیویارک پولیس کے پاکستانی نژاد امریکی افسر ضیغم عباس کی کیپٹن کے عہدے پر ترقی
اشاعت کی تاریخ: 29th, March 2025 GMT
نیویارک پولیس کے پاکستانی نژاد امریکی افسر ضیغم عباس کی کیپٹن کے عہدے پر ترقی۔
نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ میں پاکستانی نژاد امریکی پولیس افسر ضیغم عباس کی کیپٹن کے عہدے پر ترقی ان کی پولیس ڈیپارٹمنٹ میں 16 سالہ کارکردگی کا اعتراف ہے۔
نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ کوارٹر ون پولیس پلازہ میں اس حوالے سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ پولیس افسران، ان کی فیمیلیز اور دوستوں نے شرکت کی۔
تقریب میں موجود نیویارک کی سیاسی و سماجی شخصیت اسلم ڈھلوں نے کیپٹن ضیغم عباس کی ترقی کو خوش آئند قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ ضیغم عباس ماضی کی طرح مستقبل میں نیویارک میں موجود پاکستانی کمیونٹی کی خدمت جاری رکھیں گے۔
کیپٹن ضیغم عباس پاکستان میں لاہور سے تعلق رکھتے ہیں۔ لاہور میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں تعلیم حاصل کرتے رہے اور اسٹودنٹ ایکسچینج پروگرام کے ذریعے 2003 میں امریکا منتقل ہوئے اور امریکا کے البرٹ آئینسٹائن میڈیکل اسکول میں ایڈمشن لیا اور یہاں سے اپنی میڈیکل کی ڈگری مکمل کی۔
بعد ازاں 2009 میں نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ میں شمولیت اختیار کی۔
اس موقع پر کیپٹن ضیغم عباس کا کہنا تھا کہ کیپٹن کے عہدے کے بعد آپ نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ون اسٹار چیف، ٹو اسٹار چیف اور تھری اسٹار چیف کا عہدہ حاصل کرتے ہیں اور فور اسٹار چیف نیو یارک سٹی پولیس ڈیپارٹمنٹ میں اعلی ترین رینک ہوتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کیپٹن آخری پوموشنل امتحان ہوتا ہے جسے مکمل کرنے کے بعد آپ کیپٹن کے عہدے پر ترقی حاصل کرتے ہیں۔
اس وقت نیویارک پولیس میں شامل تقریباً 500 پاکستانی نژاد سینئیر اور جونئیر پولیس افسران خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کیپٹن کے عہدے پر ترقی پاکستانی نژاد ضیغم عباس کی اسٹار چیف
پڑھیں:
ہارورڈ یونیورسٹی کے 3 اعلیٰ عہدیدار برطرف
سوشل سائنس کے عبوری ڈین ڈیوڈ کٹلر نے نیویارک ٹائمز کو موصول ہونے والی ایک ای میل میں بتایا کہ ڈاکٹر کفادر تعلیمی سال کے اختتام پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی نے مبینہ طور پر اسرائیل مخالف احتجاج پر ٹرمپ انتظامیہ کے دباؤ کے بعد سینٹر فار مڈل ایسٹرن اسٹڈیز کے فیکلٹی عہدیداروں کو برطرف کر دیا ہے۔ ہارورڈ کریمسن کے مطابق سی ایم ای ایس کے ڈائریکٹر، ترکش اسٹڈیز کے پروفیسر سیمل کافر اور ان کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر، تاریخ کی پروفیسر روزی شیر، دونوں کو عہدے چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔
گلوبل ہیلتھ کے پروفیسر سلمان اے کیشو جی، جو مرکز کے عبوری ڈائریکٹر ہیں، جب کہ کفدر چھٹی پر تھے، اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ سوشل سائنس کے عبوری ڈین ڈیوڈ کٹلر نے نیویارک ٹائمز کو موصول ہونے والی ایک ای میل میں بتایا کہ ڈاکٹر کفادر تعلیمی سال کے اختتام پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ دونوں پروفیسرز سے بات کرنے والے فیکلٹی ممبران کا کہنا ہے کہ ہر ایک کا ماننا ہے کہ انہیں ان کے عہدوں سے ہٹانے پر مجبور کیا گیا تھا۔