کراچی: کورنگی کراسنگ کے قریب گہری کھدائی کے دوران آگ کیسے لگی؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, March 2025 GMT
کراچی میں کورنگی کراسنگ کے قریب گہری کھدائی کے دوران آگ کیسے لگی؟ گیس کا ذخیرہ ہے تو کون سی گیس کا ہے؟ آگ بجھانے کےلیے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے؟ اب تک طے نہ ہوسکا۔
رات سے لگی آگ پر قابو نہیں پایا جاسکا، شدید تپش کے باعث فائر بریگیڈ کو مشکلات کا سامنا ہے۔
چیف فائر افسر کا کہنا ہے کہ پانی کا چھڑکاؤ، مٹی اور ریت کا استعمال روک دیا ہے جبکہ پانی اور ریت سمیت مختلف نمونے ٹیسٹ کےلیے بھیجے ہیں۔
جس سے معلوم ہوگا کہ یہ کون سی گیس ہے، یہاں گیس لائن ہے یا گیس پاکٹ حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
کنسٹرکشن کمپنی کا کہنا ہے کہ 1200 فٹ تک کھدائی بورنگ کے پانی کےلیے کی گئی تھی، مٹی کی ٹیسٹنگ میں گیس موجودگی کی رپورٹ نہیں تھی۔
کمشنر کراچی کا کہنا ہے کہ بورنگ کروانے سے متعلق معلومات اکٹھی کررہے ہیں، جس ادارے نے اتنی گہری بورنگ کی اجازت دی اس کی بھی تحقیقات کریں گے۔
.ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی کورنگی کراسنگ میں لگی آگ 36 گھنٹے بعد بھی بے قابو
ویب ڈیسک:کراچی کے علاقے کورنگی کراسنگ میں بورنگ کے دوران لگی آگ 36 گھنٹے بعد بھی نہ بجھ سکی۔ ماہرین نے کہا کہ آگ کی وجہ زیر زمین میں گیس کا چھوٹا ذخیرہ ہوسکتا ہے، جو ختم ہونے پر آگ بجھ جائے گی۔ تاہم آگ کو مزید پھیلنے سے روک دیا گیا ہے، جبکہ حفاظتی انتظامات کے پیش نظر فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بھی موجود ہیں۔ میئر کراچی کا کہنا ہے کہ آگ کو بجھنے میں ایک سے دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔
سٹی @ 10 ، 29 مارچ ،2025
تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے کورنگی کراسنگ میں بورنگ کے دوران لگنے والی خوفناک آگ پر 36 گھنٹے کی طویل جہدوجہد کے بعد بھی قابو نہیں پایا جاسکا،چیف فائر آفیسر کے مطابق ابتدائی طور پر پانی کے چھڑکاؤ، اور ریت سے آگ بجھانے کی کوشش کی گئی جو موثر نہ ہونے پر اس عمل کو روک دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ماہرین کے مطابق 1200 فٹ گہرے گڑھے میں لگنے والی آگ کی وجہ زیر زمین گیس کا چھوٹا ذخیرہ ہوسکتا ہے،سی ای او کنٹونمنٹ بورڈ کورنگی فیصل وٹو کے مطابق سیمپل رپورٹ کی روشنی میں آگ بجھانے کے لئے نیا طریقہ اپنایا جائے گا۔
پھلوں اور سبزیوں کی آج کی ریٹ لسٹ -ہفتہ 29 مارچ, 2025
ایم ڈی پاک ریفائنری زاہد میر کا کہنا ہے یہ شیلو گیس ہے جس سے آئل ریفائنری کی تنصیبات 500 میٹر دور ہیں، آگ کو بڑھنے سے روکنا ہے، دوسری جانب آگ پر قابو پانے کیلئے فائربریگیڈ کی 6 سے7 گاڑیاں جائے وقوعہ پر موجود ہیں، تاکہ آگ کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔