موسم گرما کا آغاز ہوتے ہی ڈیموں میں پانی کی صورت حال میں بہتری ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 29th, March 2025 GMT
ملک میں موسم گرم ہوتے ہی آبی ذخائر کی صورت حال میں بہتری آنے لگی ہے، اور تربیلا اور چشمہ بیراج میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول سے دو فٹ اوپر آگئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1404 فٹ، چشمہ بیراج میں 640 فٹ، جبکہ منگلا ڈیم میں پانی سطح 4 فٹ بلند ہوکر 1074 فٹ پر آگئی ہے۔
ڈیموں میں قابل استعمال پانی کے ذخائر میں 75 ہزار ایکڑ فٹ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو اب ایک لاکھ 83 ایکڑ فٹ ہوگیا ہے۔
واپڈا کے ترجمان نے بتایا کہ تربیلا میں پانی کی آمد 22 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 15 ہزار کیوسک ہے۔
اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ منگلا ڈیم میں پانی کی آمد 27 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 15 ہزار کیوسک ہے جبکہ چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 45 ہزار اور اخراج 23 ہزار کیوسک ہے۔
واضح رہے کہ اس سال معمول سے 62 فیصد تک کم بارشیں ہونے کی وجہ سے ملک میں پانی کی قلت کا خدشہ ہے، اور محکمہ موسمیات نے خشک سالی کا الرٹ جاری کردیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بہتری پانی خشک سالی الرٹ ڈیڈلیول ڈیم محکمہ موسمیات معمول سے کم بارشیں موسم گرما وی نیوز.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بہتری پانی خشک سالی الرٹ ڈیم محکمہ موسمیات معمول سے کم بارشیں وی نیوز میں پانی کی
پڑھیں:
ڈریپ کا جعلی، غیر معیاری ، غیر رجسٹرڈ ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 مارچ2025ء) ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ )کے ترجمان نے کہا ہے کہ جعلی، غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے، جعلی ادویات کے خاتمہ سے محفوظ اور موثر ادویات کی فراہمی کو یقینی بنارہے ہیں ۔ ترجمان ڈریپ کی جانب سے ہفتہ کو جاری تفصیلات کے مطابق ڈریپ نے صوبائی صحت حکام کے ساتھ مل کر کامیاب کارروائیاں کی ہیں۔ اس حوالہ سے سی ای او ڈریپ نے کہا ہے کہ بھاری مقدار میں غیر قانونی ادویات کو قبضہ میں لیکر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ لاہور میں غیر قانونی طور پر یوروگرافن 76 فیصد انجکشن فروخت کرنے والے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اسی طرح بغیر لائسنس اور زائد قیمتوں پر ادویات کی فروخت جیسے الزامات کے تحت تحقیقات جاری ہیں ۔(جاری ہے)
سی ای او ڈریپ نے کہا ہے کہ لاہور میں ڈریپ کی ٹیم نے نجی ہسپتال کے قریب ایک شخص کو گرفتار کیا ہے،مذکورہ شخص غیر رجسٹرڈ لیپیوڈول الٹرا لیکوئڈ کی فروخت میں ملوث تھا۔
بعد ازاں میسرز الوالی تقسیم کاروں پر چھاپہ مارااور غیر قانونی اشیاء برآمد کی گئیں،ڈسٹری بیوٹرز کمپنی کو سیل کر دیا گیا اور تحقیقات شروع کر دی گئیں ۔ اسلام آباد میں کہوٹہ روڈ، انڈسٹریل ٹرائینگل میں ایک فیکٹری پر اچانک چھاپہ مارا گیا،جہاں پلاسٹک یورین کلیکشن کنٹینرز بغیر لازمی سٹیبلشمنٹ لائسنس کے تیار کیے جا رہے تھے ، میڈیکل ڈیوائسز رولز 2017 اور ڈریپ ایکٹ 2012 کی سنگین خلاف ورزی ہے،تمام غیر قانونی اشیاء ضبط کر لی گئیں اور فیکٹری کو سیل کر دیا گیا۔اسلام آباد ایمبرو فارماسیوٹیکلز وہاں غیر قانونی طور پر طبی آلات تیار اور ذخیرہ کیے جا رہے تھے،جس کا ڈریپ کا ڈرگ مینوفیکچرنگ لائسنس پہلے ہی منسوخ کر چکا ہے ، اس کیخلاف سخت قانونی کارروائی شروع کر دی گئی اور فیکٹری کو سیل کر دیا گیا۔ سی ای او ڈریپ نے مزید کہا کہ اتھارٹی نے مارکیٹ میں جعلی پروپیلین گلائکول کی موجودگی پر فوری الرٹ جاری کیا ہے،ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کی رپورٹ کے مطابق، بیچ YF01210911 میں خطرناک حد تک زہریلا ایتھیلین گلائکول (EG) پایا گیا ہے،ڈریپ نے تمام متعلقہ اداروں کو خام مال کی سخت جانچ پڑتال کی ہدایت کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈریپ عوامی صحت کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلیے پر عزم ہے ،عوام سے اپیل ہے وہ کسی بھی مشکوک دوا یا طبی آلات کی فروخت کی اطلاع ڈریپ حکام کو دیں ،