لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)مرکزی چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ نے کہا ہے کہ ایک ارب ڈالرز کی گندم بیرونِ ملک سے درآمد کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔خالد حسین باٹھ نے پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ اس سال بھی ابھی تک گندم کا سرکاری ریٹ مقرر نہیں کیا گیا، حکومت نے پہلے ہی اعلان کر دیا ہے کہ وہ گندم کی خریداری نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ گندم، گنا، چاول، مکئی، جو، سرسوں، کپاس اور سبزیوں کی فصل کا معاوضہ ابھی تک نہیں ملا، پچھلے سال گندم کے حکومتی نرخوں کے باعث کسانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔خالد حسین باٹھ کا کہنا ہے کہ شوگر ملز مافیا نے بھی اپنی مرضی سے گنے کا ریٹ 400 روپے فی من مقرر کر دیا ہے، کسانوں سے 250 سے 350 روپے فی من گنا خریدا گیا، بقایا جات بھی نہیں دیے گئے۔خالد باٹھ نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت فوری طور پر گندم کا سرکاری ریٹ 4200 روپے فی من مقرر کرے، مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو عید کے بعد ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا تھا کہ کسان گندم کاشت کریں، ریلیف دوں گی۔

بیماریوں سے بچنے کیلئے  پاؤں کو کتنی بار دھونا چاہیے؟

مزید :.

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

جسٹس بابر کی کیس سننے سے معذرت، چیف جسٹس نے دوبارہ ان کی عدالت میں لگا دیا

 اسلام آباد (وقائع نگار) اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس اور ججز کے درمیان اختیارات کی لڑائی مزید شدت اختیار کرنے لگی۔ جسٹس بابر ستار نے سروس سے متعلقہ کیس کی سماعت سے معذرت کر کے نئے بنچ کی تشکیل کیلئے واپس بھیجا۔ قائم مقام چیف جسٹس کی ہدایت پر کیس دوبارہ جسٹس بابر ستار کے سامنے مقرر کرنے پر اہم آرڈر جاری کردیاگیا۔ جسٹس بابر ستار نے کیس ڈپٹی رجسٹرار کو نئے بنچ کے سامنے مقرر کرنے کیلئے بھیجنے کا تحریری آرڈر جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ 14 مارچ کو اس عدالت نے کیس دوسرے بنچ کے سامنے مقرر کرنے کیلئے واپس بھیجا، ناقابل فہم طور پر کیس کی فائل دوبارہ اِس عدالت کو بھیج دی گئی ہے، چیف جسٹس کے انتظامی سائیڈ پر ریمارکس کے ساتھ فائل بھیجی گئی کہ یہی بنچ اس کیس کو سنے گا، کیس واپس اِس عدالت کو بھیجنا لازمی طور پر چیف جسٹس آفس یا رجسٹرار کے سٹاف کی غیردانستہ غلطی ہونی چاہیے، بصد احترام چیف جسٹس کے پاس یہ طے کرنے کا کوئی اختیار نہیں کہ ایک عدالت نے لازمی طور پر کیس سننا ہے یا نہیں، رولز کے مطابق کیس بنچ کے سامنے مقرر ہونے پر کیس سننے سے معذرت کا اختیار متعلقہ جج کے پاس ہوتا ہے، جج کے کیس سننے سے معذرت پر چیف جسٹس آفس یا رجسٹرار آفس کے انتظامی معاملہ سمجھ کر مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں، ہائیکورٹ رولز کے مطابق ہنگامی اور عمومی مقدمات سماعت کیلئے مقرر کرنے کا اختیار ڈپٹی رجسٹرار کے پاس ہے، چیف جسٹس کی ذمہ داری ڈپٹی رجسٹرار کے تیار کردہ بنچز کے روسٹر کی منظوری دینا ہے، روسٹر منظوری کے بعد چیف جسٹس کا ہائیکورٹ میں دائر ہونے والا ہر کیس مقرر کرنے میں کوئی کردار نہیں، اگر کوئی بنچ سماعت سے معذرت یا لارجر بنچ بنانے کا کہتا ہے تو وہ معاملہ چیف جسٹس کے پاس جائے گا، ہائیکورٹ کی سماعت سے معذرت پر کیس چیف جسٹس کو بھیجنے کی پریکٹس رولز کے مطابق نہیں، جج کے کیس کی سماعت سے معذرت پر کیس دوسرے بنچ کو بھیجنے کیلئے ڈپٹی رجسٹرار کے پاس بھیجا جانا چاہیے، کیس فائل ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو کسی دوسرے بنچ کے سامنے مقرر کرنے کیلئے بھیجی جاتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عید پر عوام کیلئے بری خبر ،گیس کی قیمت میں اضافہ، نوٹیفکیشن جاری
  • عید کے دن بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے کون کون ملاقات کرنے آیا؟ تفصیل سامنے آ گئی
  • ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں اضافہ، نوٹیفکیشن جاری
  • پشاور ایئرپورٹ پر کارروائی، منشیات بیرون ملک اسمگل کرنے کی کوشش ناکام
  • بھارت کا جموں و کشمیر میں حریت پسند جماعتوں کو آزادی کی سیاست سے دور کرنے کا منصوبہ بے نقاب
  • رجب بٹ نے توہین مذہب کے الزام میں کس شخص کو اپنا وکیل مقرر کیا ؟حیران کن خبر سامنے آگئی
  • اسلام آباد ہائیکورٹ، قائم مقام چیف جسٹس اور ججز کے درمیان اختیارات کی لڑائی شدید ہو گئی
  • بجٹ میں ٹیکس محصولات کا ہدف 15ہزار 270ارب روپے مقرر
  • جسٹس بابر کی کیس سننے سے معذرت، چیف جسٹس نے دوبارہ ان کی عدالت میں لگا دیا