ایف آئی اے کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ کو مکمل فعال کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, March 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں بہتر مانیٹرنگ کو یقینی بنانے کیلئے دھماکہ خیز مواد کو وفاقی سبجیکٹ بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ وزارت خارجہ کے ذریعے افغان حکومت کے سامنے دہشتگردی کے مسئلے کو اٹھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے وزیراعظم، آرمی چیف اور اسٹیک ہولڈرز ایک صفحے پر ہیں۔ محسن نقوی کی زیر صدارت کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں بہتر مانیٹرنگ کو یقینی بنانے کیلئے دھماکہ خیز مواد کو وفاقی سبجیکٹ بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ وزارت خارجہ کے ذریعے افغان حکومت کے سامنے دہشتگردی کے مسئلے کو اٹھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے وزیراعظم، آرمی چیف اور اسٹیک ہولڈرز ایک صفحے پر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں کی مشاورت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا، صوبائی سطح پر محکمہ کاؤنٹر ٹیررازم فعال کیا جانا انتہائی ضروری ہے، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو چیلنجز کے پیش نظر ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔ وفاقی سطح پر ایف آئی اے کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ کو مکمل فعال کیا جائے گا، تمام ادارے غیر ملکی شہریوں کی سیکیورٹی ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے، نیشنل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سینٹرز کے قیام پر کام جاری ہے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کاؤنٹر ٹیررازم محسن نقوی کیا گیا
پڑھیں:
پاکستان کا افغان حکومت کے سامنے دہشتگردی کا مسئلہ اٹھانے کا فیصلہ
ویب ڈیسک : پاکستان نے وزارت خارجہ کے ذریعے افغانستان حکومت کے سامنے دہشت گردی کا مسئلہ موثر طریقے سے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی کو فیصلے سے آگاہ کردیا، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کےلیے وزیراعظم، آرمی چیف اور تمام اسٹیک ہولڈرز ایک صفحے پر ہیں، صوبوں کی مشاورت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ نیشنل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سینٹرز کے قیام کی منظوری دی جا چکی ہے، صوبوں میں کام جاری ہے۔
سٹی @ 10 ، 29 مارچ ،2025
محسن نقوی نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کےلیے ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کی تنظیم نو کے بعد اسے نیشنل ریزرو پولیس میں تبدیل کیا جارہا ہے۔