کولمبیا یونیورسٹی کی عبوری صدر نے متازعہ اقدامات پر ردعمل پر استعفیٰ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, March 2025 GMT
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔29 مارچ ۔2025 )کولمبیا یونیورسٹی کی عبوری صدر کترینہ آرمسٹرانگ نے ٹرمپ انتظامیہ کی حمایت کے الزامات اور متازعہ اقدامات پر ردعمل کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے قطری نشریاتی ادارے”الجزیرہ“ کے مطابق کولمبیا یونیورسٹی کی صدر کترینہ آرمسٹرانگ نے اگست2024میں یہ عہدہ سنبھالا تھا انہوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بہت تیزی سے منسلک ہونے کے الزامات کے بعد استعفیٰ دے رہی ہیں.
(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کولمبیا یونیورسٹی نے اعلان کیا تھا کہ وہ وفاقی حکومت کی جانب سے طلب کردہ اصلاحات کی ایک فہرست تیار کرے گی جس میں کیمپس پولیس کو گرفتاری کے اختیارات دینا اور مڈل ایسٹ اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے لیے نئی نگرانی شامل ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کولمبیا کے لیے منسوخ کی جانے والی 40 کروڑ ڈالر کی سالانہ وفاقی گرانٹ کی بحالی کا عمل شروع کرنے کے لیے کیا گیا تھا یہ اس کے آپریٹنگ بجٹ کا پانچواں حصہ ہے. ان کا کہنا تھا کہ یہ سزا مبینہ طور پر یہود دشمنی اور غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے خلاف مظاہرہ کرنے والے مظاہرین کے خلاف یونیورسٹی کے ردعمل کے لیے دی گئی تھی کولمبیا یونیورسٹی کے بہت سے اساتذہ اس بات سے خوش نہیں تھے کہ انہوں نے صدر کی رضامندی کو قانونی جنگ کے بغیر قبول کر لیا اس بات پر بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ اس عمل سے ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر یونیورسٹیوں کے پیچھے پڑجانے کے حوصلے کو تقویت ملے گی جو اس کے پاس پہلے سے موجود ہے. ادھرہارورڈ یونیورسٹی نے مبینہ طور پر اسرائیل مخالف تعصب پر ٹرمپ انتظامیہ کے دباﺅ کے بعد سینٹر فار مڈل ایسٹرن اسٹڈیز کے فیکلٹی عہدیداروں کو برطرف کر دیا ہے ہارورڈ کریمسن کے مطابق سی ایم ای ایس کے ڈائریکٹر، ترکش اسٹڈیز کے پروفیسر سیمل کیفر اور ان کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر، تاریخ کی پروفیسر روزی شیر، دونوں کو عہدے چھوڑنے پر مجبور کیا گیا. گلوبل ہیلتھ کے پروفیسر سلمان اے کیشو جی جو مرکز کے عبوری ڈائریکٹر ہیں جب کہ کفدر چھٹی پر تھے وہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے سوشل سائنس کے عبوری ڈین ڈیوڈ کٹلر نے نیویارک ٹائمز کو موصول ہونے والی ایک ای میل میں اعلان کیا کہ ڈاکٹر کفادر تعلیمی سال کے اختتام پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے دونوں پروفیسرز سے بات کرنے والے فیکلٹی ممبران کا کہنا ہے کہ ہر ایک کا ماننا ہے کہ انہیں ان کے عہدوں سے ہٹانے پر مجبور کیا گیا تھا. دوسری جانب ریاست میساچوسٹس کے وفاقی جج نے حکم دیا ہے کہ ٹفٹس یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کی ترک طالبہ رومیسا اوزترک جس نے فلسطینیوں کی حمایت میں آواز اٹھائی تھی اور اسے رواں ہفتے وفاقی امیگریشن حکام نے حراست میں لیا تھا کو فی الحال ملک بدر نہ کیا جائے امریکی امیگریشن حکام کی جانب سے 30 سالہ اوزترک نامی خاتون کو ان کے میساچوسٹس میں واقع گھر کے قریب سے حراست میں لیا گیا تھا امریکی حکام نے ان کا ویزا منسوخ کر دیا ہے میساچوسٹس ڈسٹرکٹ کی امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں گزشتہ روز جاری ہونے والے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت کی جانب سے پٹیشن کا فیصلہ کرنے کے لیے اپنے دائرہ اختیار کے حل کی اجازت دینے کے لیے اوزترک کو اس عدالت کے اگلے حکم تک امریکا سے نہیں ہٹایا جائے گا ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ نے بغیر کسی ثبوت کے اوزترک پر حماس کی حمایت میں سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے.
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کولمبیا یونیورسٹی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دیا ہے کے لیے
پڑھیں:
کرم میں قیام امن کیلئے علی امین گنڈا پور کے اقدامات رنگ لا رہے ہیں، بیرسٹر سیف
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ کرم میں راستوں کو مزید محفوظ بنانے کے لیے فریقین کے درمیان معاہدہ طے پایا ہے، یہ معاہدہ کوہاٹ امن جرگے کے بڑے معاہدے کے تحت ایک ذیلی معاہدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کا بنیادی مقصد ٹل - پاراچنار شاہراہ کو محفوظ بنانا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ کرم میں قیامِ امن کے لیے وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈاپور کے سنجیدہ اقدامات رنگ لا رہے ہیں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ کرم میں راستوں کو مزید محفوظ بنانے کے لیے فریقین کے درمیان معاہدہ طے پایا ہے، یہ معاہدہ کوہاٹ امن جرگے کے بڑے معاہدے کے تحت ایک ذیلی معاہدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کا بنیادی مقصد ٹل - پاراچنار شاہراہ کو محفوظ بنانا ہے، وزیرِ اعلیٰ کی قیادت میں خیبر پختونخوا حکومت صدی سے زائد پرانے تنازع کے مستقل حل کی جانب تیزی سے پیش رفت کر رہی ہے۔
بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ کوہاٹ امن معاہدے کے تحت کرم کو بنکرز اور اسلحے سے پاک کیا جا رہا ہے، دونوں فریقین کے تقریباً 900 بنکرز اب تک مسمار کیے جا چکے ہیں۔ مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا نے کہا کہ بنکرز کی مسماری کے بعد اسلحہ جمع کرانے کا عمل شروع کیا جائے گا، ضلع کرم میں مستقل قیامِ امن کے لیے بنکرز اور اسلحے کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور خود تمام معاملات کی نگرانی کر رہے ہیں۔