کروڑوں کے فراڈ کے مقدمے میں نامزد اداکار کا ردعمل سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, March 2025 GMT
بھارتی کامیڈین اداکار شریاس تلپڑے نے خود پر لگے دھوکہ دہی کے الزام اور مقدمے پر اپنا ردعمل دے دیا۔
شریاس تلپڑے کے مداح حیران رہ گئے جب اداکار کا نام ملٹی اسکور چٹ فنڈ گھوٹالے میں آیا۔ رپورٹس میں بتایا گیا کہ ان کے اور 14 دیگر افراد کیخلاف اتر پردیش میں دیہاتیوں کیساتھ کروڑوں روپے کی دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
تاہم اب اداکار شریاس تلپڑے کی ٹیم نے اب ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اداکار پر لگے تمام دعوے جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔
شریاس تلپڑے کی ٹیم نے چٹ فنڈ گھوٹالے میں اداکار کے مبینہ ملوث ہونے پر خاموشی توڑتے ہوئے اپنے انسٹاگرام ہینڈل پر ایک بیان جاری کیا جس میں لکھا تھا کہ ’یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ کسی شخص کی محنت سے کمائی گئی شہرت بے بنیاد افواہوں سے بے جا نقصان کا شکار دکھائی دیتی ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Shreyas Talpade (@shreyastalpade27)
انسٹاگرام پر جاری پیغام میں مزید لکھا تھا کہ حالیہ رپورٹس جن میں مسٹر شریاس تلپڑے پر دھوکہ دہی میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے وہ مکمل طور پر جھوٹی، بے بنیاد ہیں‘۔
ان کی ٹیم مزید نے یہ بھی انکشاف کیا کہ دیگر مشہور شخصیات کی طرح گول مال ریٹرن کے اداکار کو بھی اکثر کارپوریٹ اور سالانہ تقریبات میں مدعو کیا جاتا ہے، جس میں وہ شرکت کرتے ہیں لیکن ان کا کسی کمپنی کے ساتھ ایسی کوئی وابستگی نہیں ہے۔
پیغام میں مزید کہا گیا کہ ’یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ مسٹر تلپڑے کا کسی بھی دھوکہ دہی یا غیر قانونی کاموں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے جیسا کہ الزام لگایا جا رہا ہے۔ تلپڑے کا نام ان بے بنیاد افواہوں سے دور رکھا جائے۔ شریاس تلپڑے ایک قانون کی پاسداری کرنے والے شہری ہیں جو دیانتداری، ایمانداری اور پیشہ ورانہ مہارت کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں‘۔
View this post on InstagramA post shared by Shreyas Talpade (@shreyastalpade27)
یاد رہے کہ گول مال اسٹار کا نام دی لونی اربن ملٹی اسٹیٹ کریڈٹ اینڈ تھرفٹ کوآپریٹو سوسائٹی لمیٹڈ سے متعلق ایف آئی آر میں درج ہے۔ مذکورہ کمپنی نے مبینہ طور پر اتر پردیش کے مہوبا ضلع کے رہائشیوں سے دھوکہ دہی کی، اور مختصر وقت میں ان کی سرمایہ کاری کو دوگنا کرنے کا وعدہ کیا۔
22 جنوری کو ہریانہ کے مرتھل پولیس اسٹیشن میں اداکار شریاس تلپڑے اور آلوک ناتھ کیخلاف دھوکا دہی اور اعتماد کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کیا گیا اور انہیں اس کمپنی فراڈ سے وابستہ ہونے کے الزام میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
.
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کولمبیا یونیورسٹی کی عبوری صدر نے متازعہ اقدامات پر ردعمل پر استعفیٰ دے دیا
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔29 مارچ ۔2025 )کولمبیا یونیورسٹی کی عبوری صدر کترینہ آرمسٹرانگ نے ٹرمپ انتظامیہ کی حمایت کے الزامات اور متازعہ اقدامات پر ردعمل کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے قطری نشریاتی ادارے”الجزیرہ“ کے مطابق کولمبیا یونیورسٹی کی صدر کترینہ آرمسٹرانگ نے اگست2024میں یہ عہدہ سنبھالا تھا انہوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بہت تیزی سے منسلک ہونے کے الزامات کے بعد استعفیٰ دے رہی ہیں.(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کولمبیا یونیورسٹی نے اعلان کیا تھا کہ وہ وفاقی حکومت کی جانب سے طلب کردہ اصلاحات کی ایک فہرست تیار کرے گی جس میں کیمپس پولیس کو گرفتاری کے اختیارات دینا اور مڈل ایسٹ اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے لیے نئی نگرانی شامل ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کولمبیا کے لیے منسوخ کی جانے والی 40 کروڑ ڈالر کی سالانہ وفاقی گرانٹ کی بحالی کا عمل شروع کرنے کے لیے کیا گیا تھا یہ اس کے آپریٹنگ بجٹ کا پانچواں حصہ ہے. ان کا کہنا تھا کہ یہ سزا مبینہ طور پر یہود دشمنی اور غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے خلاف مظاہرہ کرنے والے مظاہرین کے خلاف یونیورسٹی کے ردعمل کے لیے دی گئی تھی کولمبیا یونیورسٹی کے بہت سے اساتذہ اس بات سے خوش نہیں تھے کہ انہوں نے صدر کی رضامندی کو قانونی جنگ کے بغیر قبول کر لیا اس بات پر بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ اس عمل سے ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر یونیورسٹیوں کے پیچھے پڑجانے کے حوصلے کو تقویت ملے گی جو اس کے پاس پہلے سے موجود ہے. ادھرہارورڈ یونیورسٹی نے مبینہ طور پر اسرائیل مخالف تعصب پر ٹرمپ انتظامیہ کے دباﺅ کے بعد سینٹر فار مڈل ایسٹرن اسٹڈیز کے فیکلٹی عہدیداروں کو برطرف کر دیا ہے ہارورڈ کریمسن کے مطابق سی ایم ای ایس کے ڈائریکٹر، ترکش اسٹڈیز کے پروفیسر سیمل کیفر اور ان کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر، تاریخ کی پروفیسر روزی شیر، دونوں کو عہدے چھوڑنے پر مجبور کیا گیا. گلوبل ہیلتھ کے پروفیسر سلمان اے کیشو جی جو مرکز کے عبوری ڈائریکٹر ہیں جب کہ کفدر چھٹی پر تھے وہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے سوشل سائنس کے عبوری ڈین ڈیوڈ کٹلر نے نیویارک ٹائمز کو موصول ہونے والی ایک ای میل میں اعلان کیا کہ ڈاکٹر کفادر تعلیمی سال کے اختتام پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے دونوں پروفیسرز سے بات کرنے والے فیکلٹی ممبران کا کہنا ہے کہ ہر ایک کا ماننا ہے کہ انہیں ان کے عہدوں سے ہٹانے پر مجبور کیا گیا تھا. دوسری جانب ریاست میساچوسٹس کے وفاقی جج نے حکم دیا ہے کہ ٹفٹس یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کی ترک طالبہ رومیسا اوزترک جس نے فلسطینیوں کی حمایت میں آواز اٹھائی تھی اور اسے رواں ہفتے وفاقی امیگریشن حکام نے حراست میں لیا تھا کو فی الحال ملک بدر نہ کیا جائے امریکی امیگریشن حکام کی جانب سے 30 سالہ اوزترک نامی خاتون کو ان کے میساچوسٹس میں واقع گھر کے قریب سے حراست میں لیا گیا تھا امریکی حکام نے ان کا ویزا منسوخ کر دیا ہے میساچوسٹس ڈسٹرکٹ کی امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں گزشتہ روز جاری ہونے والے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت کی جانب سے پٹیشن کا فیصلہ کرنے کے لیے اپنے دائرہ اختیار کے حل کی اجازت دینے کے لیے اوزترک کو اس عدالت کے اگلے حکم تک امریکا سے نہیں ہٹایا جائے گا ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ نے بغیر کسی ثبوت کے اوزترک پر حماس کی حمایت میں سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے.