Express News:
2025-03-31@12:14:13 GMT

دین: عبادات یا کردار؟

اشاعت کی تاریخ: 29th, March 2025 GMT

زندگی میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جنہیں ہم صرف زبان سے ادا کرتے ہیں، مگر ان کی اصل روح اور حقیقت سے غافل رہتے ہیں۔

انسان ہمیشہ سے ظاہری چیزوں سے متاثر ہوتا آیا ہے۔ جب ہم کسی سے ملتے ہیں تو سب سے پہلے اس کا چہرہ، لباس، اندازِ گفتگو اور رویہ دیکھتے ہیں۔ اگر کوئی میٹھی بات کرے، خوش اخلاق ہو، اور مذہبی نظر آئے تو ہم اسے نیک تصور کر لیتے ہیں، اور اگر کوئی بے تکلف ہو، جدید لباس پہنے یا دنیاوی باتیں کرے، تو ہم اسے عام دنیا دار سمجھتے ہیں۔ لیکن کیا ظاہر ہمیشہ حقیقت کی درست عکاسی کرتا ہے؟

ہمارے ہاں دینداری کا جو تصور عام ہے، وہ زیادہ تر ظاہری عبادات سے جڑا ہوا ہے۔ اگر کوئی پانچ وقت کا نمازی ہو، نفلی عبادات کرے، رمضان میں اعتکاف بیٹھے، حج اور عمرے کرتا رہے، تو اسے "نیک" سمجھا جاتا ہے، چاہے وہ اپنے ملازمین کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہو، رشوت دیتا یا لیتا ہو، یا دوسروں کے حقوق غصب کرتا ہو۔

یہ سوچ اس وجہ سے عام ہوئی کہ ہمیں دین کی جو روایات سنائی جاتی ہیں، ان میں زیادہ تر بزرگانِ دین کی عبادات پر زور دیا جاتا ہے۔ ہمیں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ فلاں بزرگ روزانہ ہزاروں نوافل پڑھتے تھے، مہینوں تک روزے رکھتے تھے، اور ساری رات عبادت میں گزارتے تھے۔ لیکن ان کے کردار، انصاف اور معاملات پر کم بات کی جاتی ہے۔ نتیجتاً، ہمارا ذہن بھی یہی سمجھتا ہے کہ "اصل دین" یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوافل پڑھے جائیں، اور دنیاوی معاملات جیسے رزقِ حلال کمانا، لوگوں کی مدد کرنا، اور عدل و انصاف کو قائم کرنا، ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔

دین عبادات کا نام ضرور ہے، لیکن یہ صرف ظاہری اعمال تک محدود نہیں۔ نماز، روزہ، حج، عمرہ—یہ سب بہت اہم ہیں، مگر اگر ان کا اثر ہمارے کردار پر نہیں پڑتا، تو یہ صرف ایک رسم بن کر رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"بے شک اللہ انصاف اور نیکی کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کاموں اور ظلم سے روکتا ہے۔" (سورہ النحل: 90)

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔" (بخاری)

اگر کوئی شخص عبادت تو کرے، مگر جھوٹ بولے، وعدہ خلافی کرے، یا دوسروں کو تکلیف پہنچائے، تو وہ دین کے اصل پیغام سے دور ہے۔

ہم نے کئی دینی اصطلاحات کو صرف ظاہری اعمال تک محدود کر دیا ہے، حالانکہ ان کی اصل روح کہیں زیادہ گہری ہے۔

شکر: صرف "الحمدللہ" کہہ دینے کا نام نہیں، بلکہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو صحیح طریقے سے استعمال کرنا اور اس کا حق ادا کرنا اصل شکر ہے۔ اگر کوئی شخص دولت مند ہو لیکن وہی دولت دوسروں کا حق مار کر کمائی ہو، تو اس کا زبانی شکر کسی کام کا نہیں۔


ذکر: ہاتھ میں تسبیح گھمانے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہمارے عمل بھی اللہ کی یاد کے مطابق ہوں۔ نماز کے بعد چند تسبیحات پڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اللہ کی نافرمانی سے بچیں۔ اگر کوئی شخص اللہ کا ذکر کرتا ہے مگر کاروبار میں بے ایمانی، جھوٹ یا سود سے نہیں بچتا، تو وہ اصل ذکر کی روح سے محروم ہے۔


صبر: صرف مشکلات میں خاموش رہنے کا نام نہیں، بلکہ آزمائش کے وقت ہمت نہ ہارنے اور گناہ کے موقع پر اپنے نفس کو قابو میں رکھنے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔" (سورہ البقرہ: 153)

توکل: یہ نہیں کہ انسان بس اللہ پر بھروسا کر کے بیٹھ جائے، بلکہ سچی توکل یہ ہے کہ انسان اپنے حصے کا کام بھی کرے اور پھر نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "پہلے اونٹ باندھو، پھر اللہ پر بھروسا کرو۔" (ترمذی)


 توبہ: صرف استغفار کے الفاظ پڑھنا کافی نہیں، بلکہ گناہ چھوڑنے اور دوبارہ نہ کرنے کا عزم کرنے کا نام توبہ ہے۔ قرآن میں ہے:

"بے شک اللہ انہیں پسند کرتا ہے جو گناہ کے بعد توبہ کرتے ہیں اور اپنی اصلاح کرتے ہیں۔" (سورہ البقرہ: 222)


ہم نے تقویٰ کو بھی ایک خاص ظاہری شکل دے دی ہے۔ لمبی داڑھی، اسلامی لباس، پیشانی پر سجدے کا نشان—یہ سب اچھی چیزیں ہیں، مگر تقویٰ کی اصل روح اللہ کا خوف اور ہر معاملے میں انصاف پسندی ہے۔

اگر ایک شخص ظاہری طور پر بہت مذہبی نظر آئے، مگر اس کا رویہ دوسروں کے ساتھ ظالمانہ ہو، تو کیا وہ واقعی متقی ہے؟

یہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کہ ہم نے شیطان کو صرف چند مخصوص چیزوں میں محدود کر دیا ہے۔ ہمارے نزدیک شیطانی کام صرف فلمیں دیکھنا یا موسیقی سننا ہے۔ مگر کوئی دھوکہ دے، جھوٹ بولے، رشوت لے، ظلم کرے، حقوق غصب کرے—یہ سب بھی شیطانی اعمال ہیں، مگر ہم ان کو عام سمجھتے ہیں!

اصل میں شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار انسان کے کردار کو خراب کرنا ہے، نہ کہ صرف کچھ خاص چیزوں سے بہکانا۔ اگر کوئی ظاہری طور پر نیک نظر آ رہا ہو، مگر اس کے اعمال میں دھوکہ دہی اور ظلم ہو، تو وہ بھی شیطان کے بہکاوے میں ہے، چاہے وہ کتنا ہی مذہبی نظر آئے۔

ہمیں سب سے پہلے الفاظ کے اصل معانی کو سمجھنا ہوگا۔ عبادات صرف رسم نہیں، بلکہ کردار سنوارنے کا ذریعہ ہیں۔ ذکر صرف زبان کا وظیفہ نہیں، بلکہ اللہ کی یاد میں جینا ہے۔ شکر صرف "الحمدللہ" کہنا نہیں، بلکہ اللہ کی نعمتوں کا صحیح استعمال ہے۔ اخلاق صرف اچھی بات چیت نہیں، بلکہ دیانت داری اور سچائی ہے۔ تقویٰ صرف داڑھی یا لباس نہیں، بلکہ ہر حال میں انصاف کرنا ہے۔

جب تک ہم دین کو اس کے اصل مفہوم میں نہیں سمجھیں گے، ہمارا مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔ ہمیں اپنے ذہنوں کو وسیع کرنا ہوگا اور ظاہری دینداری سے آگے بڑھ کر اصل روح کو اپنانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک بہتر اور حقیقی اسلامی معاشرہ بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اگر کوئی کے ساتھ اللہ کی کا نام

پڑھیں:

ہم صرف اللہ کے سامنے جھکتے ہیں وقت کے یزیدیوں اور فرعون کے سامنے نہیں، اسدالدین اویسی

مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے کہا کہ کنال کامرا کو دھمکیاں دینے والوں کے گھر نہیں گرائے جا رہے ہیں دوسری طرف توڑ پھوڑ کرنے والوں کو ضمانت مل گئی۔ اسلام ٹائمز۔ اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا کے دفتر میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے اس وقت توڑ پھوڑ کی گئی جب انہوں نے مہاراشٹر کے نائب وزیراعلٰی ایکناتھ شندے کے خلاف مبینہ تبصرہ کیا تھا۔ اب اس پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی کا بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے وزیراعلٰی دیویندر فڑنویس سے سوال کیا ہے کہ کیا اب ان توڑ پھوڑ کرنے والوں کے گھروں پر بلڈوزر چلے گا۔ ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا کہ جب کامیڈین کنال کامرا نے کسی کو غدار کہا تو ایکناتھ شندے کی پارٹی کے ارکان نے کہا کہ ہمارے لیڈر کو غدار کہا گیا اور ان کا دفتر گرا دیا گیا، اب ہم وزیراعلٰی دیویندر فڑنویس اور یوگی آدتیہ ناتھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا ان توڑ پھوڑ کرنے والوں کے گھر گرائے جائیں گے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا ناگ پور میں عرفان انصاری کو قتل کرنے والوں کے گھر گرائے جائیں گے، نہیں آپ صرف مسلمانوں کے گھر توڑ رہے ہو۔

اسدالدین اویسی نے کہا کہ کنال کامرا کو دھمکیاں دینے والوں کے گھر نہیں گرائے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف توڑ پھوڑ کرنے والوں کو ضمانت مل گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایسا لگتا ہے جیسے پولیس ان کے ساتھ ہے۔ اسدالدین اویسی نے کہا کہ کوئی بھی زیادہ دیر اقتدار میں رہنے والا نہیں ہے، ہندوستان میں بادشاہوں کے محل ویران ہیں، تمہارے بھی محل بھی ویران ہوں گے۔ انہوں نے کہا "اگر تم یہ سوچ رہے ہیں کہ ہم جھک جائیں گے تو یاد رکھیں کہ ہم صرف اللہ کے سامنے جھکتے ہیں، وقت کے یزیدیوں اور فرعون کے سامنے نہیں"۔ آپ کو بتا دیں کہ اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا کے دفتر میں توڑ پھوڑ کے معاملے میں 11 شیو سینا سے وابستہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ کھار پولیس نے ان ملزمان کو باندرہ کورٹ میں پیش کیا۔ کھار پولیس نے اس معاملے میں کل 19 لوگوں کو نامزد کیا تھا اور 15 سے 20 دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ توڑ پھوڑ کے واقعے کے بعد پولیس نے شیو سینا کے 11 کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • چین کے شی زانگ کی کئی کہانیاں
  • دہشتگردی اور دہشتگردوں کی بالواسطہ حمایت ناقابل قبول ہے، رانا ثنا اللہ
  • انسانی سماج اور آسمانی تعلیمات
  • بھارت، بی جے پی نے مسلمانوں کی اربوں ڈالر کی زمین پر قبضہ کر لیا
  • خواتین پر جنسی مظالم میں اضافی اور عدلیہ کا کردار؟
  • ہم صرف اللہ کے سامنے جھکتے ہیں وقت کے یزیدیوں اور فرعون کے سامنے نہیں، اسدالدین اویسی
  • فلسطینی بچے میرے بچے ہیں اور فلسطین میری سرزمین ہے
  • اسٹٰبلشمنٹ سے مذاکرات نہیں ہوئے بلکہ رابطے بحال ہوئے تھے، بیرسٹر گوہر
  • علما دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کریں، شہباز شریف