Express News:
2025-03-30@23:03:55 GMT

عمران خان سے ملاقات بھی اہم معاملہ ہے، مولا بخش چانڈیو

اشاعت کی تاریخ: 28th, March 2025 GMT

اسلام آباد:

رہنما پیپلزپارٹی مولا بخش چانڈیوکا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ عمران خان صاحب سے ملاقات بھی اہم معاملہ ہے ، اگر اس ملاقات سے بھی ایک حصہ سیاستدانوں کا پرسکون رہ جائے تو کوئی بری بات نہیں ہے۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ لیکن بلوچستان کا معاملہ بڑا اہم معاملہ ہے، کئی سالوں سے بلوچستان کی صورت حال وقت بہ وقت خراب ہوجاتی ہے۔

رہنما تحریک انصاف شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ یہ تو کوئی سوال نہیں بنتا ہے کہ یہ اہم ہے یا وہ اہم ہے، عمران خان سے ملاقات ایک روٹین ہونی چاہیے جو مشاورت ہوتی ہے جو اس وقت ملک کے حالات ہیں ، وہ بہت بڑے لیڈر ہیں اور اپوزیشن میں ہیں تو ڈیفینیٹلی ان کو کوئی رول بنتا ہے تو ان سے مشاورت بھی بنتی ہے، اب دیکھیں حکومت کس کی ہے، پیپلزپارٹی کی گورنمنٹ ہے، بلوچستان کے اندر اور وفاق میں بھی وہ بیٹھی ہے تو یہ تو پیپلزپارٹی اور وفاقی حکومت کی نااہلی ہے۔

رہنما مسلم لیگ (ن) ناصر بٹ نے کہا کہ میرے خیال سے سب سے اہم ایشو بلوچستان ہے، آج جو کچھ وہاں پر ہوا میں تو اس چیز پر حیران ہوں کہ ہمیں ہر چیز بھولنی چاہیے، ملاقاتیں یہ ہوتی رہتی ہیں، یہ سب کچھ ہے، بلوچستان کا مسئلہ بہت اہم ہے، خاص کر جو دہشت گردی ہے، خالی بلوچستان نہیں کے پی کے میں بھی ایسا ہے تو سب سے پہلے ہمیں توجہ اس پر دینی چاہیے ہماری سیاسی جماعتوں کو، میں کہتا ہوں حکومت پہلے بھی قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ بلائی تھی اب بلاول بھٹو صاحب نے کہا کہ ہم ایک اور کوشش کرتے ہیں، میں ان کے ساتھ ہوں۔

.

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ماضی میں پروجیکٹ عمران کے لیے میڈیا کو استعمال کیا گیا، مشتاق منہاس

وی  نیوز کے پروگرام ’وی ایکسکلیوسیو‘ میں آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے سیاست دان مشتاق منہاس نے صحافت سے سیاست تک سفر کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کو گھٹی میں سیاست شامل ہے۔ کشمیر میں تقریباً ہر شخص سیاسی لحاظ سے متحرک ہے۔

مشتاق منہاس نے کہا کہ وہ زمانہ طالب علمی سے سیاست میں ایکٹیو رہے ہیں، وہ ایف سی کالج میں الیکٹڈ وائس پریزیڈنٹ رہے، پھر صحافت میں آکر بھی وہ ٹریڈ یونین اور پریس کلب کی سیاست میں شامل رہے۔ مشتاق منہاس نے کہا وہ اب تک 20 سے زائد مختلف الیکشنز لڑتے چکے ہیں۔

مشتاق منہاس نے میڈیا کے حوالے سے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں صحافت میں کچھ لوگوں کو اوپر سے لانچ کیا گیا۔ میڈیا میں ایک شخصیت کو صادق و امین کی پروموشن پر لگا دیا گیا۔ اسی صورت حال میں ہم جیسے لوگوں نے مزاحمت کی۔

مشتاق مہناس نے کہا کہ میثاق جمہوریت کے بعد پروجیکٹ عمران خان شروع ہوا، اس پروجیکٹ کے لیے میڈیا کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ اینکرز کو لاکھوں کروڑوں روپے دیے گئے اور دن رات عمران خان کو نجات دہندہ ثابت کرانے کے لیے کیمپینز چلتی رہیں۔

الیکشنز سے پہلے ہی لوگوں کو رزلٹ کا علم تھا، اور یوں پہلے صوبائی حکومت اور پھر وفاقی حکومت عمران خان کو پلیٹ میں دی گئی۔

 مشتاق منہاس نے کلثوم نواز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں سمجھتا ہوں نواز شریف کی سب سے بڑی مشیر کلثوم نواز تھیں۔ وہ مشکل وقت میں تمام لیڈر شپ کے لیے حوصلہ تھیں اور سب سے رابطے میں رہیں۔ مگر آخری وقت میں حکومتِ وقت نے شریف خاندان کے لیے افسوسناک حد تک مشکلات پیدا کر دی  تھیں۔

مشتاق منہاس نے 2024 کے الیکشن کے حوالے سے کہا ہم الیکشن رزلٹ اپنے ہاں مانیٹر کر رہے تھے، ہمارے پاس خوش آئند رزلٹ آتے رہے، لیکن ٹی وی پر رزلٹ افسوسناک تھا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف صوبائی حکومت سے مطمئن تھے، مگر نواز شریف وفاق میں حکومت لینے کے حق میں نہیں تھے۔ مگر اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پریشر تھا۔ ن لیگ نے مجبوری کے عالم میں وفاقی حکومت لی۔

مشتاق منہاس نے کہا کہ نوازشریف کو ’ووٹ کو عزت دو‘ والے نعرے کی بھی سزا دی گئی۔ مشتاق منہاس نے کہا کہ اگر ن لیگ کو سادہ اکثریت مل جاتی تو وہ ضرور وزیراعظم بنتے۔ اب ن لیگ حکومت کو پیپلز پارٹی کی رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور پیپلز پارٹی انتہا کی بارگیننگ کرنے والی جماعت ہے۔

مشتاق منہاس نے کشمیر کے حوالے سے کہا کہ مہنگائی نے لوگوں کا کچومر نکال دیا ہے، کشمیر میں چونکہ لوگوں میں سیاسی شعور زیادہ ہے، تو ایسے میں کشمیریوں نے مہنگائی اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی اور انہوں نے بزور بازو اپنے مطالبات منوا لیے۔

مشتاق منہاس نے حالیہ دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنے شہریوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے، اور ساتھ ہی انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی ڈائیلاگ میں انگیجمنٹ بڑھانے کی بھی بڑی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسٹیبلشمنٹ پیپلزپارٹی کشمیر مشتاق منہاس نوازشریف

متعلقہ مضامین

  • سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں عید الفطر کی نماز پر پابندی، حریت رہنما کا اظہارِ افسوس
  • کینالز کا معاملہ :فیڈریشن پر حملے ہو رہے ہیں، پیپلز پارٹی کو کیا کرنا چاہیے ۔۔؟ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ بول پڑے
  • نہروں کا مسئلہ فیڈریشن سے بڑا نہیں، پیپلز پارٹی کو ردعمل دینا چاہیے، رانا ثنا اللہ
  • ہمارے پاس وفاقی حکومت گرانے کی طاقت ہے ، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ
  • ماضی میں پروجیکٹ عمران کے لیے میڈیا کو استعمال کیا گیا، مشتاق منہاس
  • پاکستان کا افغان حکومت کے سامنے دہشتگردی کا معاملہ بھرپور طریقے سے اٹھانے کا فیصلہ
  • ہماری حمایت کے بغیر وفاقی حکومت نہیں چل سکتی: وزیراعلیٰ سندھ
  • آئین کے مطابق صدر نئی کینالز کی منظوری نہیں دے سکتا، وزیراعلیٰ سندھ
  • بنگلہ دیش کے رہنما محمد یونس کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات
  • عمران خان سے ملاقات نہ کرانا ججز اور عدلیہ کی بے عزتی ہے،پی ٹی آئی