Express News:
2025-03-30@23:06:36 GMT

حفاظت کہاں ہو رہی ہے

اشاعت کی تاریخ: 28th, March 2025 GMT

وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے اپنے بعض وزیروں اور اہل خانہ کے ساتھ عمرے کی سعادت حاصل کر کے وطن واپسی پر ایف بی آر کی طرف سے 24 گھنٹوں کے اندر 34.5 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرانے پر ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سمیت پوری قوم اس پر ایف بی آر کی شکر گزار ہے جس کی وجہ سے قومی خزانے کو فائدہ ہوا، یہ کارکردگی قابل ستائش ہے، میں اور پوری قوم قومی خزانے کی ایک ایک پائی کی حفاظت کریں گے یہ وصولی اچھی شروعات ہے۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر حکم امتناع ختم ہونے سے ملک کے مختلف بینکوں سے ساڑھے 34 ارب روپے خزانے میں منتقل ہوئے تھے جس کے لیے وزیر اعظم نے چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی ملاقات کی تھی اور چیف جسٹس کو بتایا تھا کہ سندھ اور لاہور ہائی کورٹس میں حکم امتناعی کے باعث ایف بی آر مذکورہ رقم کی وصولی نہیں کر پا رہی اور حکومتی معاملات متاثر ہو رہے ہیں۔ اس ملاقات کے بعد ونڈ فال ٹیکس پر بینکوں کی درخواستوں پر سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر 23 ارب اور لاہور ہائی کورٹ کے حکم امتناع کے خاتمے پر 11.

5 ارب روپے قومی خزانے میں منتقل ہوئے تھے۔

وزیر اعظم نے ایک ماہ قبل چیف جسٹس پاکستان کو ایف بی آر کی مشکلات سے آگاہ کیا تھا کہ اگر عدالتوں سے حکم امتناع ختم ہو جائے تو اربوں روپے قومی خزانے میں آجائیں گے اور حکومت یہ رقم صحت، تعلیم اور عوامی فلاحی منصوبوں پر خرچ کرے گی۔

جس روز یہ رقم قومی خزانے میں منتقل ہوئی اسی روز وزیر اعظم سعودی عرب کے دورے پر تھے اسی روز حکومت نے وفاقی وزیروں، وزرائے مملکت اور مشیروں کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں 188 فی صد تک اضافے کا اعلان کر دیا۔ قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی نے متفقہ طور پر اس کی منظوری دی تھی جب کہ اس سے قبل تنخواہوں میں اضافے کے لیے ایکٹ1975 میں حکومت نے ترمیم کرکے دو ماہ قبل اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہیں بڑھائی تھیں اور ارکان پارلیمنٹ نے اپنے مالی مفاد کے اس فیصلے کی منظوری متفقہ طور پر دی تھی۔

ساڑھے 34 ارب روپے قومی خزانے میں آنے کے روز ہی وزیروں کی تنخواہوں میں دگنے سے بھی زیادہ اضافہ کیا جب کہ ایک ہفتہ قبل ہی حکومت نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی پر ملک میں پٹرولیم مصنوعات سستی کرکے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے پٹرولیم لیوی میں ساٹھ سے ستر فی صد اضافہ کرکے عوام کو اس جائز ریلیف سے بھی محروم کر دیا تھا مگر ساڑھے 34 ارب روپے قومی خزانے میں آتے ہی وزیروں، مشیروں کی تنخواہوں میں اتنا اضافہ کیا کہ جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی کہ وفاقی وزیر کی تنخواہ دو لاکھ اور وزیر مملکت کی ایک لاکھ 80 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ 19 ہزار روپے کی گئی ہو۔ وزیروں کے الاؤنس، گاڑی، دفتری اخراجات علاوہ ہوں گے۔

وزیر اعظم ملک کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے دوست ملکوں کے دورے کرکے ان سے قرضے اور مراعات حاصل کر رہے ہیں اور انھوں نے گزشتہ دنوں ہی اپنی کابینہ میں بڑی توسیع بھی کی تھی۔ وزیر اعظم نے عمرے اور سعودیہ کے سرکاری دورے سے واپسی پر اپنے عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ عوام کی ایک ایک پائی کی حفاظت کے لیے جس قدر ہو سکا کوشش کریں گے۔

وزیر اعظم نے سعودیہ جانے سے قبل پٹرولیم مصنوعات پر عوام کو ریلیف دینے کی بجائے پرانی قیمتیں برقرار رکھی تھیں اور ایک ہفتے بعد ہی سپریم کورٹ کی مہربانی سے ملنے والے ساڑھے 34 ارب روپے قومی خزانے میں آتے ہی اپنے وزیروں کو ضرورت سے زیادہ ریلیف دے دیا جب کہ میاں شہباز شریف حکومت کے ڈھائی سالوں میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا اور اس رقم کی قومی خزانے میں منتقلی پر تعریف و ستائش اعلیٰ عدلیہ کی کرنے بجائے وزیر خزانہ، ایف بی آر کے بڑے افسروں اور قانونی ٹیم کی کی گئی جب کہ یہ منتقلی عدلیہ کے فیصلے سے ممکن ہوئی ہے، مگر ساڑھے 34 ارب روپے سے عوام کو ریلیف دینے کا کوئی سرکاری اعلان نہیں ہوا مگر وزیروں اور ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہیں ضرور بڑھا دی گئیں، جو پہلے ہی امیر ترین ہیں اور ایک سال قبل کروڑوں روپے خرچ کرکے پارلیمنٹ میں آئے تھے۔ ارکان پارلیمنٹ اور وزیروں کی تنخواہیں بڑھانے کے فیصلے حکومت، قائمہ کمیٹیوں اور پارلیمنٹ میں متفقہ طور ہوتے ہیں۔

موجودہ حکومت اور پارلیمنٹ کو جعلی قرار دینے اور تسلیم نہ کرنے والی بڑی جماعت پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں مولانا فضل الرحمن، محمود خان اچکزئی سمیت کسی اپوزیشن رکن پارلیمنٹ اور وفاقی وزیروں نے بھی تنخواہیں بڑھانے کے حکومتی فیصلوں پر کوئی اعتراض نہیں کیا کیونکہ سب کا اس میں فائدہ تھا۔

ڈیڑھ سال سے جیل میں قید بانی پی ٹی آئی جو اس بار پارلیمنٹ میں بھی نہیں ہیں، انھوں نے بھی حکومت کے تنخواہیں بڑھانے کو دل سے تسلیم کیا اور اپنے ارکان سے یہ نہیں پوچھا کہ انھوں نے اس حکومت کا فیصلہ کیوں مانا؟ اور تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ متفقہ کیوں ہونے دیا۔ قومی خزانہ عوام کے ادا کردہ ٹیکسوں سے جمع ہوتا ہے اور وزیر اعظم نے ساڑھے 34 ارب روپے ملنے کے بعد عوام کے ایک ایک پائی کی خود حفاظت کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

اس سے قبل اعلیٰ عدلیہ کی تنخواہیں بڑھائی جا چکی ہیں اور اب عوام اور صرف ایف بی آر افسران ہی محروم رہ گئے ہیں جن کی وزیر اعظم نے تعریف بھی کی ہے مگر وہ پہلے ہی تنخواہ کے محتاج نہیں مگر ریلیف سے محروم عوام کو حکومت نے ریلیف کیا دینا تھا ان کی تو تعریف بھی نہیں ہوئی جو اپنا پیٹ کاٹ کر قومی خزانہ بھرتے ہیں جس کی حفاظت تنخواہیں بڑھا کر کی جا رہی ہے۔

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ارب روپے قومی خزانے میں ساڑھے 34 ارب روپے تنخواہوں میں کی تنخواہیں ہائی کورٹ ایف بی آر حکومت نے عوام کو کے لیے

پڑھیں:

وزیر اعظم پاکستان اور ازبکستان کے صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، عید کی مبارکباد

سٹی 42 : وزیراعظم شہبازشریف نے آج  ازبکستان کے صدر عزت مآب شوکت مرزیوئیف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ وزیراعظم نے ازبک صدر اور ازبکستان کے عوام کو  عید کی مبارکباد دی اور دونوں ممالک کے عوام کی امن و خوشحالی کے لیے دعا کی۔ 

صدر شوکت مرزیوئیف نے وزیر اعظم اور پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے صدر پاکستان آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم پاکستان  محمد نواز شریف کو بھی عید کی مبارکباد دی۔ 

ملکہ کوہسار میں عید کا چاند؛ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی تیاریوں کا سلسلہ جاری

دونوں رہنماؤں نے فروری میں وزیر اعظم کے کامیاب دورہء ازبکستان کے بعد دو طرفہ تعلقات کی مثبت رفتار پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے متعدد شعبوں میں پاکستان-ازبکستان تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے دورے کے دوران کیے گئے اہم فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے قریبی رابطے میں رہنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اہم شعبوں میں  دو طرفہ تعاون میں پیش رفت کے حوالے سے دونوں فریقوں کی جانب سے باہمی طور پر شناخت کیے گئے اہداف کا ایک "روڈ میپ" وضع کیا گیا ہے۔

پاکستان نیوزی لینڈ ون ڈے سیریز؛ اہم پاکستانی کھلاڑی سیریز سے باہر

 وزیراعظم نے مزید کہا کہ چیئرمین سینیٹ کا آئندہ دورہء ازبکستان ہمارے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں بھی مفید ثابت ہوگا۔ وزیر اعظم نے صدر شوکت مرزیوئیف کو جلد ہی پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کے لیے اپنی دعوت کا اعادہ کیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • وزیر اعظم پاکستان اور ازبکستان کے صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، عید کی مبارکباد
  • بینک ملازمین کی ملی بھگت سے عوام گڈیوں سے محروم، لوگ نئے نوٹوں کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہے
  • ہمارے احتجاج کو ہمیشہ غلط سمجھا جاتا ہے، صدر، وزیر اعظم بتائیں ہم کہاں جائیں، خالد مقبول صدیقی
  • وزیراعظم سمیت دیگر وزراء عید الفطر کہاں منائیں گے؟
  • صدر اور وزیراعظم سمیت اہم سیاسی شخصیات عید کہاں منائیں گی؟
  • کونسا سیاسی رہنما کہاں عید منائے گا؟تفصیلات سامنے آ گئیں
  • حکومت کا عوام کیلئے عید کا تحفہ، پٹرول 1 روپیہ سستا کر دیا
  • مسلمانوں سے وقف جائیدادوں کی حفاظت اور فلاح و بہبود کا وعدہ کرتا ہوں، چندرابابو نائیڈو
  • وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفی کمال کا پی ایم اینڈ ڈی سی کا دورہ، مریضوں کی فلاح و بہبود اور مستقبل کے نظام صحت پر زور
  • وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس،دہشت گردی کے خلاف حکومت کا دو ٹوک مؤقف