خیبرپختونخوا: سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 11 خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں مختلف کارروائیوں کے دوران 11 خوارج کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں خفیہ اطلاعات پر کارروائیاں کی گئیں۔
سیکیورٹی فورسز کے میر علی میں آپریشن کے دوران میں 5 خوارج مارے گئے، جبکہ ایک اور کارروائی کے دوران 3 خوارج کو ہلاک کردیا گیا۔
سیکیورٹی فورسز کی میرانشاہ میں کارروائی میں 2 خوارج مارے گئے، جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں ایک خارجی جہنم واصل کیا گیا۔
مارے گئے خوارج سے ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے، ہلاک خوارج دہشت گردی کی متعدد سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود کسی بھی دوسرے خوارج کے خاتمے کےلیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کےلیے پُرعزم ہیں۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز
پڑھیں:
غزہ: اسرائیلی کارروائیاں عالمی قوانین کے تحت انسانیت سوز مظالم
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 28 مارچ 2025ء) اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے بتایا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں امداد کی فراہمی پر پابندی اور بمباری کے نتیجے میں خوراک اور بنیادی ضرورت کی دیگر اشیا کا بحران دوبارہ جنم لینے لگا ہے۔
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ ک رابطہ دفتر (اوچا) کے ترجمان جینز لائرکے نے کہا ہے کہ اسرائیل کے جنگی اقدامات ظالمانہ جرائم کی ذیل میں آتے ہیں۔
حملوں میں گنجان آباد علاقوں میں واقعہ ہسپتالوں کو ایک مرتبہ پھر نشانہ بنایا جانے لگا ہے، مریض بستروں میں مارے جا رہے ہیں، ایمبولینس گاڑیوں پر فائرنگ کی جا رہی ہے اور لوگوں کی مدد کو پہنچنے والوں کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔ Tweet URLغزہ کے طبی حکام کے مطابق، 18 اور 23 مارچ کے درمیان اسرائیل کی بمباری اور زمینی حملوں میں 830 افراد کی ہلاکت ہوئی جن میں 174 خواتین اور 322 بچے بھی شامل ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 1,787 ہے۔
(جاری ہے)
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ترجمان ڈاکٹر مارگریٹ ہیرس نے کہا ہے کہ غزہ میں حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہیں جہاں لوگوں کی زندگی کو تحفظ دینے کے لیے نئی جنگ بندی کی فوری ضرورت ہے۔
ہر طرف موت کا راجمقبوضہ فلسطینی علاقے میں 'یو این ویمن' کی نمائندہ میرس گوئمنڈ نے کہا ہے کہ غزہ کے لوگ اسرائیل کی جانب سے دیے گئے انخلا کے احکامات پر کان نہیں دھریں گے کیونکہ ان کے لیے کوئی ایسی محفوظ جگہ نہیں جہاں وہ پناہ لے سکیں۔
یہ ان کے لیے اپنی اور اپنے خاندانوں کی بقا کی جنگ ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ وسطی غزہ کے علاقے دیرالبلح میں مقیم ایک خاتون نے انہیں بتایا کہ ان کی والدہ کہتی ہیں خطروں کے باوجود وہ غزہ شہر میں اپنے علاقے کی جانب واپس جانا چاہتے ہیں کیونکہ کوئی کہیں بھی رہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہر جانب موت کا ہی راج ہے۔
مقبوضہ مغربی علاقے میں 'ڈبلیو ایچ او' کے نمائندے ڈاکٹر رک پیپرکورن کا کہنا ہے کہ امداد کی فراہمی بند ہونے کے باعث علاقے میں طبی حالات مخدوش ہیں۔
ادویات سمیت ضروری سازوسامان کے ذخائر تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں اور محفوظ زچگی کے لیے درکار سازوسامان بہت جلد ختم ہو جائے گا جبکہ ایندھن کی قلت کے باعث درجن بھر ایمبولینس گاڑیاں بھی غیرفعال ہو گئی ہیں۔بنیادی اصولوں کی پامالیجینز لائرکے نےکہا ہے کہ فلسطینی لوگوں کو اجتماعی سزا دینے کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ بین الاقوامی قانون اندھا دھند حملوں، امداد کی فراہمی روکنے، شہریوں کی بقا کے لیے ضروری تنصیبات کو تباہ کرنے اور لوگوں کو یرغمال بنانے کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ عالمی عدالت انصاف کی جانب سے انسداد نسل کشی کنونشن کے اطلاق سے متعلق جاری کردہ عبوری احکامات اپنی جگہ موجود ہیں۔ تاہم، غزہ میں انسانیت کے انتہائی بنیادی اصولوں کے احترام کو یکسر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔