روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے بیمار ہونے کی خبروں کے دوران یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بڑا انکشاف کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرینی صدر نے اپنے بیان میں روسی صدر کی طبعی موت کی پیشن گوئی کی ہے۔

ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روسی صدر جلد مرجائیں گے اور اس کے ساتھ ہی یوکرین جنگ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گی۔

یوکرینی نے صدر نے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا کہ روس کی مدد کرنے سے گریز کریں۔

صدر زیلنسکی نے یورپی ممالک اور اپنے اتحادی ممالک پر زور دیا کہ پوٹن پر دباؤ برقرار رکھیں اور روس کو عالمی تنہائی سے باہر نکلنے میں مدد نہ کریں۔

خیال رہے کہ یوکرینی صدر زیلنسکی کا روسی صدر کی موت کے حوالے سے بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب پوٹن کی صحت سے متعلق متضاد اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔

 

.

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

بحیرہ اسود روس اور یوکرین کے لیے اہم کیوں؟

جنگ بندی کے لیے مذاکرات

گزشتہ ہفتے امریکہ نے روس اور یوکرین کے ساتھ علیحدہ مذاکرات کیے تاکہ بحیرہ اسود میں لڑائی کو روکا جا سکے۔ یہ مقام خوراک کی برآمدات کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ اس امریکی کوشش کا مقصد دراصل جنگ کا مکمل خاتمہ ممکن بنانا ہے۔

منگل کے روز وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک نے بحیرہ اسود کے علاقے میں جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے اور اس خطے میں جہاز رانی کو بحال کرنے کی اجازت جلد ہی دے دی جائے گی۔

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا کہ جنگ بندی فوری طور پر نافذ العمل ہو گی۔

تاہم کریملن کا کہنا ہے کہ جنگ بندی صرف اس وقت نافذ ہو گی، جب کچھ شرائط پوری ہوں گی۔ ان میں ایک اہم شرط یہ بھی ہے کہ ایسی روسی کمپنیوں اور بینکوں پر عائد پابندیوں کا جزوی خاتمہ کیا جائے، جو اس اہم بحری روٹ کی تجارت میں شامل ہیں۔

(جاری ہے)

اس سے قبل سن دو ہزار بائیس اور تیئس میں ترکی اور اقوام متحدہ کی ثالثی میں ایک معاہدہ طے پایا تھا، جو یوکرین کے غلے کی بلا تعطل برآمدات کی اجازت دیتا تھا۔

تاہم روس نے بعد میں اس معاہدے کو ختم کر دیا تھا کیونکہ مغربی ممالک نے اس کی بعض شرائط پوری نہیں کیں تھیں۔ ان میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ روسی زرعی بینک کو SWIFT سسٹم سے دوبارہ منسلک دیا جائے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اگر ایک نیا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو عالمی سطح پر خوراک کی دستیابی میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

بحیرہ اسود: روس اور یوکرین کے لیے ایک اہم تجارتی راستہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اختلافات کے باوجود فریقین جلد ہی جنگ بندی پر متفق ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کار اور محقق الیگزینڈرا فلیپنکو نے کہا کہ یہ معاہدہ ''چھوٹے اقدامات میں ایک بڑا قدم‘‘ ہے، جو کشیدگی کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ انہیں یقین ہے کہ اس ڈیل سے تناؤ میں کمی ہی آئے گی۔

اقوام متحدہ کے مطابق جولائی سن 2022 سے جولائی 2023ء کے درمیان ایک معاہدے کے تحت یوکرین نے 45 کو 32 ملین ٹن غلہ برآمد کیا تھا۔

روسی غذائی برآمدات کے لیے بھی بحیرہ اسود انتہائی اہم ہے۔ سن دو ہزار اکیس اور بائیس کے دوران روس کی چھیاسی فیصد زرعی اجناس کی برآمد بحیرہ اسود کی بندرگاہوں کے ذریعے ہوئی تھیں۔

غلہ برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں یوکرین کا شمار بھی ہوتا ہے۔ اس کے زیادہ تر خریدار شمالی افریقہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی و جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک ہیں۔

اس لیے بحیرہ اسود میں استحکام یوکرین کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ بحیرہ اسود کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟

یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا کہ ان کا ملک اس علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا، ''وہ (روس) طویل عرصے سے بحیرہ اسود کی راہداری پر کنٹرول کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ہم اس کے لیے لڑ رہے ہیں کیونکہ یہ جنگ کے خاتمے کی طرف ایک قدم ہے۔

ہم بحیرہ اسود کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھے ہوئے ہیں۔‘‘

یوکرینی تجزیہ کار الیگزینڈر پالی کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے دوران روس کو بحیرہ اسود کے مشرقی حصے کی طرف دھکیل دیا گیا ہے اور اس لیے وہ بڑے حملے کرنے سے قاصر ہے، '' یہ یوکرین کے سمندری ڈرونز کے موثر استعمال کی وجہ سے ممکن ہوا۔‘‘

پالی کے مطابق اب یوکرین کی زرعی اجناس کی تجارت تقریباً جنگ سے پہلے کے سطح پر بحال ہو چکی ہے جبکہ روس کے لیے ایک نیا معاہدہ زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

پالی نے مزید کہا، ''یوکرین کسی بھی وقت روسی بحری جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے، خاص طور پر ان جہازوں کو جو تیل اور دیگر اشیاء کی برآمدات کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ تاہم یوکرین ماحولیات کے اثرات کو مدنظر رکھتا ہے اور ترکی اور امریکہ جیسے ممالک کی پوزیشن کو اہمیت دیتا ہے، اسی لیے وہ بہت محتاط ہے۔‘‘

بحیرہ اسود میں روس کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ

روس کا کہنا ہے کہ بحیرہ اسود نہ صرف تجارتی اہمیت کا حامل ہے بلکہ یہ اس کی ملکی سلامتی کے لیے بھی اہم ہے۔

بین الاقوامی قوانین کے مطابق بحیرہ اسود کی ساحلی پٹی کا صرف دس فیصد روس میں آتا ہے۔ تاہم اپنے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی بدولت روس تقریباً ایک تہائی ساحلی علاقے کو کنٹرول کرنے کے قابل ہو چکا ہے۔

روس کے اس اثر و رسوخ کی بنیادی وجہ کریمیا میں اس کی فوجی موجودگی ہے، جیسے ماسکو حکومت نے سن 2014 میں غیر قانونی طور پر روس کے ساتھ ضم کر لیا تھا۔

اس کے علاوہ غیر تسلیم شدہ ریاست ابخازیہ میں روسی موجودگی بھی ایک اہم عنصر ہے۔

روسی صدر پوٹن اس خطے میں روس کی موجودگی کو مزید بڑھانے کے خواہاں نظر آتے ہیں۔ روس نے دھمکی دی ہے کہ اگر کییف حکومت روس کے زیر قبضہ یوکرینی ریجن کو روس کا حصہ تسلیم نہیں کرتا تو وہ ایک اور یوکرینی بندرگاہی شہر اوڈیسا پر بھی قبضے کر سکتا ہے۔

’’روس مذاکرات کو طول دے رہا ہے‘‘، یوکرینی صدر

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے منگل کے روز کہا کہ روس نئے معاہدے کو زرعی اجناس کی برآمد کے گزشتہ معاہدے کی بنیاد پر تشکیل دینا چاہتا ہے لیکن اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ روسی مفادات محفوظ رہیں۔

پیرس میں نیٹو اور یورپی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے بعد زیلنسکی نے کہا کہ روسی پابندیوں کا خاتمہ سفارتی تباہی ہو گی، ''وہ (روسی حکام) مذاکرات کو غیر ضروری طول دے رہے ہیں اور امریکہ کو بے معنی بحث میں الجھانا چاہتے ہیں تاکہ وقت حاصل کر کے مزید زمین پر قبضہ کیا جا سکے۔‘‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کے لیے بحیرہ اسود میں جنگ بندی کا معاہدہ کسی نقصان کے بغیر بڑے فوائد لا سکتا ہے۔ کریملن کی شرائط ظاہر کرتی ہیں کہ وہ کم سے کم رعایت دے کر زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔

ادارت: عاطف توقیر

متعلقہ مضامین

  • اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، ایک دوسرے کا سہارا بنیں، آصف علی زرداری
  • صدر مملکت کی پوری قوم اور عالمِ اسلام کو عید الفطر پر دلی مبارکباد
  • وزیراعظم کا آذربائیجان کے صدر سے ٹیلی فونک رابطہ، عیدالفطر کی مبارکباد دی
  • روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے سرکاری بیڑے میں شامل لگژری لیموزین پھٹ گئی
  • بحیرہ اسود روس اور یوکرین کے لیے اہم کیوں؟
  • چینی وزیر خارجہ وانگ ای روس کا دورہ کریں گے، وزارت خارجہ
  • آج کا دن کیسا رہے گا؟
  • محکمہ لائیو سٹاک نے لمپی سکن ڈیزیز پر کسانوں کو الرٹ کر دیا
  • زیلنسکی حکومت کی جگہ عبوری انتظامیہ قائم کی جائے، روس
  • جنگ کے خاتمے کے لیے یوکرین میں عبوری حکومت قائم کی جائے، پوٹن