صومالیہ میں شناختی کارڈ سروسز کی فراہمی کیلیے نادرا خدمات انجام دے گا، معاہدہ طے
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
کراچی:
صومالیہ کی نیشنل آئیڈنٹیفکیشن اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نائرا) اور نادرا کے درمیان مرکزی معاہدے کے تحت دوسرے اضافے پر دستخط ہوگیا جس کے تحت نادرا صومالیہ کے شناختی نظام کے اگلے مرحلے پر کام کرے گا۔
ترجمان نادرا کے مطابق نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) پاکستان نے صومالیہ کی نیشنل آئیڈنٹیفکیشن اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نائرا) کے ساتھ صومالیہ کے قومی شناختی نظام سے متعلق مرکزی معاہدے کے تحت دوسرے اضافہ پر دستخط کئے ہیں۔
معاہدے کے تحت نادرا صومالیہ کے شناختی نظام کو ڈیجیٹل تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لئے کام کرے گا۔ اس سلسلے میں صومالیہ کے دارالحکومت مغادیشو میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں صومالیہ کی وزارت داخلہ، وفاقی امور و مفاہمت کے نائب وزیر ہز ایکسیلنسی عبدِ حکیم حسن اشکر سمیت دونوں اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔
معاہدے پر نائرا کے ڈائریکٹر جنرل عبدِ ولی علی عبدلے اور نادرا کے چیف پراجیکٹس آفیسررحمان قمر نے دستخط کئے۔
یہ معاہدہ صومالیہ کے شناختی نظام کو مستحکم بنانے اور ملک میں ڈیجیٹل تبدیلی کے وسیع تر مقاصد سے ہم آہنگ بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شناختی نظام صومالیہ کے کے تحت
پڑھیں:
پاکستانی کرکٹرز اور آفیشلز کے ایجنٹ کی ای سی بی نے رجسٹریشن معطل کر دی
پاکستانی کرکٹرز اور آفیشلز کے ایجنٹ کی انگلش کرکٹ بورڈ نے رجسٹریشن معطل کر دی۔انہیں اینٹی کرپشن کوڈ کی 4 خلاف ورزیوں کا مرتکب پایا گیا ہے۔سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ 80فیصد سے زائد کرکٹرز اور کئی سابق اسٹارز کی یہی کمپنی نمائندگی کرتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق کھلاڑیوں کی ایجنسی آئی سی اے (انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن ) کے سربراہ مغیز احمد شیخ انگلش کرکٹ بورڈ میں بطور پلیئر ایجنٹ بھی رجسٹرڈ ہیں۔کرکٹ ریگولیٹر کی تحقیقات اور آزاد اینٹی کرپشن ٹریبونل میں سماعت کے بعد انھیں ای سی بی اینٹی کرپشن کوڈ کی چار خلاف ورزیوں کا مرتکب پایا گیا۔اینٹی کرپشن ٹریبونل مناسب وقت پر پابندی کے حوالے سے فیصلہ سنائے گا۔
اسی دوران انگلش بورڈ نے مغیز کی بطور ایجنٹ رجسٹریشن معطل کر دی ہے۔ماضی میں پاکستان کرکٹ پر سایا کارپوریشن کا راج تھا۔ اب آئی سی اے بیشتر کرکٹرز اور آفیشلز کی نمائندگی کرتی ہے۔25 میں سے 20 سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کا تعلق اس سے ہی ہے۔ ان میں عامر جمال، محمد وسیم جونیئر،عبد الله شفیق، عرفات منہاس، حسیب الله، جہانداد خان، کامران غلام، خرم شہزاد، محمد علی، محمد حسنین، محمد ہریرہ،عرفان نیازی، نسیم شاہ، نعمان علی، صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب،ساجد خان، شاداب خان ،صفیان مقیم اور طیب طاہر شامل ہیں، امام الحق، محمد حارث، سرفراز احمد، اسامہ میر اورعبدالصمد بھی اسی ایجنٹ سے منسلک ہیں۔
موجودہ ہیڈ کوچ و سلیکٹر عاقب جاوید، محمد حفیظ، وہاب ریاض، عبدالرزاق، کامران اکمل، سہیل تنویر، عمر گل، سعید اجمل اور مصباح الحق کی بھی یہی کمپنی نمائندہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کرکٹ میں سایا کارپوریشن کا بھرپور اثر کم کرنے کیلیے پی سی بی نے اقدامات کیے تھے لیکن پھر دوسری کمپنی آئی سی اے حاوی ہو گئی۔
اس حوالے سے مزید تفصیلات حاصل کرنے کیلیے نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ نے مغیز احمد شیخ سے رابطہ کیا تو انھوں نے کوئی جواب نہ دیا۔