ڈیپ فرائیڈ آئل کو دوبارہ استعمال کیوں نہیں کرنا چاہیے؟جانیں
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
جب کھانا پکانے کے تیل کی بات آتی ہے، تو اکثر خواتین پیسے بچانے کے لیے ڈیپ فرائی آئل کو دوبارہ استعمال کرتی ہیں۔ لیکن ماہرین اس عمل کے خلاف خبردار کرتے ہیں۔یہاں ہم یہ جانیں گے کہ یہ عمل آپ کی صحت کے لیے کیوں نقصان دہ ہو سکتا ہے اور اس کے بجائے آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
ماہر غذائیت کے مطابق، ڈپ فرائیڈ فوڈ آئل کو دوبارہ استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس میں فری ریڈیکلز اور رینگڈ مادے کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس سے ٹرانس چربی کی مقدار بڑھتی ہے، جو کہ دل اور مجموعی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔’شور کی آلودگی’ کا قانون موجود ہونے کے باوجود کھلے عام لاؤڈسپیکر کا استعمال غیر قانونی ہے
جب تیل کو ڈپ فرائی کے دوران زیادہ درجہ حرارت پر گرم کیا جاتا ہے تو یہ صحت مند مائع چکنائی سے ”ہائیڈروجنیشن“ کے عمل سے گزرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ غیر صحت بخش اور ٹھوس ٹرانس چربی میں بدل جاتا ہے۔ ٹرانس چربی کولیسٹرول کی سطح کو بڑھاتی ہے، اور دل کی بیماریوں اور رکاوٹوں کا سبب بن سکتی ہے۔
تجارتی طور پر تلی ہوئی خوراک کو اکثر کئی بار استعمال ہونے والے تیل میں پکایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ٹرانس چربی اور آکسیڈائزڈ مرکبات کے اثرات میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر باہر سے تلی ہوئی خوراک کا باقاعدگی سے استعمال دل کی صحت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔اگرچہ ڈپ فرائی کی ہوئی غذائیں لذیذ ہوتی ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانا پکانے کے لیے بچا ہوا تیل دوبارہ استعمال کرنا صحت کے لیے مناسب نہیں ہے۔ تاہم، اگر آپ پھر بھی تیل کو دوبارہ استعمال کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں، تو ماہرین چند احتیاطی تدابیر تجویز کرتے ہیں تاکہ آپ کی صحت پر اس کا منفی اثر کم سے کم ہو۔
دوبارہ استعمال کرتے وقت احتیاطی تدابیر
ہلکی آنچ کا استعمال کریں: تیز آنچ کے بجائے درمیانی آنچ پر تیل کو دوبارہ گرم کریں۔
دوبارہ استعمال کی حد: ایک ہی تیل کو بار بار استعمال نہ کریں۔ اسے ایک یا دو بار استعمال کرنے کے بعد ضائع کر دینا بہتر ہے۔
ٹمپرنگ کے لیے استعمال کریں: فرائی کرنے کے بجائے، آپ بچا ہوا تیل کری یا دال جیسے پکوانوں میں استعمال کر سکتے ہیں۔
معدے کے ماہر سوربھ سیٹھی کا کہنا ہے کہ کچھ تیل زیادہ درجہ حرارت پر ٹوٹ کر نقصان دہ مرکبات پیدا کرتے ہیں، اس لیے انہیں ڈیپ فرائی کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل: زیتون کا تیل پولیفینول اور وٹامن ای جیسے اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے، جو اسے کم درجہ حرارت پر کھانا پکانے کے لیے صحت بخش بناتا ہے۔ تاہم، اس کے کم اسموک پوائنٹ کی وجہ سے یہ ڈپ فرائی کے لیے مناسب نہیں ہے۔ زیادہ درجہ حرارت پر یہ خراب ہو جاتا ہے اور نقصان دہ ضمنی مصنوعات جاری کرتا ہے۔
بیجوں کا تیل (سورج مکھی، سویا بین، اور کینولا تیل): بیجوں کے تیل میں کثیر غیر سیچوریٹڈ چکنائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو زیادہ درجہ حرارت پر جلدی آکسیڈائز ہو جاتی ہے۔ آکسیڈائزڈ تیل آزاد ریڈیکلز پیدا کرتا ہے، جو سوزش، دل کی بیماری، اور دیگر دائمی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔
.ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: زیادہ درجہ حرارت پر کو دوبارہ استعمال کرنا چاہیے ڈپ فرائی جاتا ہے تیل کو کے لیے
پڑھیں:
کون کون سے ممالک میں شوال کا چاند 29 مارچ کو نظر آنے کا امکان ؟جانیں
جیسے جیسے رمضان المبارک اختتام کی جانب گامزن ہے تو اس بات تجسُس بڑھتا جارہا ہے کہ اس بار 29 روزے ہوں گے یا ماہِ صیام 30 روزوں پر مشتمل ہو گا۔شوال کے چاند سے متعلق مختلف ممالک کے مقامی محکمہ موسمیات، ماہرین فلکیات نے اپنی اپنی پیشگوئی کر دی ہے جب کہ عالمی فلکیاتی ادارے کا دعویٰ بھی سامنے آ چکا ہے۔
پاکستان
ماہر فلکیات اور محکمہ موسمیات نے پاکستان میں رمضان 29 دن کا ہونے اور شوال کا چاند 30 مارچ کو نظر آنے کی پیشگوئی کر رکھی ہے۔
تاہم بعض ممالک جیسے موریتانیہ، مراکش، الجزائر اور تیونس میں 29 مارچ کو جزوی سورج گرہن ہوگا۔ اس لیے ان ممالک میں روایتی چاند رویت کے مطابق 30 مارچ بروز اتوار کو عید منانے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
بھارت
فلکیاتی تجزیوں کے مطابق 30 مارچ 2025 کو چاند نظر آنے کا امکان ہے جس کی بنیاد پر عید الفطر 31 مارچ 2025 بروز پیر کو منائی جائے گی۔تاہم حتمی تاریخ کا اعلان بھارت کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی چاند کی رویت کی تصدیق کے بعد کرے گی۔
سعودی عرب
سعودی ماہرین فلکیات کی نئی پیشگوئی سامنے آئی ہے جس میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ سعودی عرب میں شوال کا چاند ہفتہ 29 رمضان المبارک کو نظر آ سکتا ہے اور عیدالفطر اتوار 30 مارچ کو ہونے کا امکان ہے۔عرب میڈیا نے سعودی ماہرین فلکیات کی پیشگوئی کو رپورٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہفتہ 29 رمضان کو دن 2 بجے نئے چاند کی پیدائش ہو گی اور سورج غروب ہونے کے بعد شوال کا چاند 8 منٹ تک افق پر رہے گا اور دیکھا جا سکے گا۔