سوشل میڈیا کےمبینہ غلط استعمال پرپی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ کی ایف آئی اے میں طلبی
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرکے ریاستی اداروں کے بارے اختلاف پیدا کرنے اور عوام میں خوف پھیلانے کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما عالیہ حمزہ کو طلب کرلیا۔
ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اسلام آباد سے جاری نوٹس کے مطابق پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ کو طلب کر لیا گیا ہے۔عالیہ حمزہ کوتفتیش کے لیے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سائبر کرائم ونگ کی سربراہی میں قائم جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے روبرو پیش ہونے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
نوٹس میں عالیہ حمزہ کو 27 مارچ کو صبع 11 بجے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ ہیڈکوارٹرز، نیشنل پولیس فاؤنڈیشن آفس بلڈنگ مانو ایونیو جی 10/4 میں پیش ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے عالیہ حمزہ سے کہا ہے کہ اصل شناختی اور صفائی میں جو کچھ بھی ہے وہ ہمراہ لے کر آئیں اور اگر پیش نہ ہوئیں تو یہی سمجھا جائے گا کہ صفائی میں پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔
.ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: عالیہ حمزہ کو ایف ا ئی اے کے لیے
پڑھیں:
برازیل: اسکولوں میں موبائل فون پر پابندی سے خوشگوار تبدیلی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 29 مارچ 2025ء) لاطینی امریکہ کے 200 ملین آبادی والے ملک برازیل میں اس تبدیلی کا آغاز سب سے بڑے شہر ریو ڈی جنیرو سے ہوا، جہاں ایک پائلٹ پروجیکٹ کے تحت اسکولوں میں طالب علموں کے موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔
یہ تجربہ کافی کامیاب رہا اور بچوں کے اسکولوں میں قیام کے دوران تعلیمی اور کھیلوں سے متعلق سرگرمیوں پر اتنے مثبت اثرات پڑے کہ اس کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کر دیا گیا۔
فرانسیسی مڈل اسکولوں میں طلبا کے پاس موبائل فون ہونا ممنوع
صدر لولا ڈا سلوا کی طرف سے دستخط کے بعد اس سال جنوری سے نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی ایک نیا قانون ملک بھر میں نافذ ہوا۔ اس کے تحت طالب علموں کا کلاس رومز میں اور وقفے کے دوران موبائل فون اپنے پاس رکھنا ممنوع ہے۔
(جاری ہے)
قابل ذکر ہے کہ برازیل میں زیر استعمال موبائل فونز کی تعداد ملکی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔
لیکن اس نئے قانون کے ساتھ برازیل اب ان ممالک میں سے ایک بن چکا ہے، جو کم از کم دوران تعلیم بچوں کے ہاتھوں سے موبائل فون لے لینے کے لیے نتیجہ خیز اقدامات کر چکے ہیں۔ سماجی رابطوں میں بھی اضافہکامیلی مارکیز نامی ایک 14 سالہ طالبہ نے بتایا، "یہ تبدیلی ایک مشکل عمل تھا کیونکہ ہم ہر وقت موبائل فون استعمال کرنے کے عادی تھے۔
اس کے باعث انسان دوسروں سے کسی حد تک کٹ جاتا ہے۔ لیکن اب یہ عادت ختم ہونے کے بعد ہم آپس میں زیادہ ملنے جلنے لگے ہیں۔"کامیلی مارکیز ریو ڈی جنیرو کے ایک سرکاری تعلیمی ادارے، مارٹن لوتھر کنگ اسکول کی طالبہ ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، "اب تو میں اپنا موبائل فون اپنے ساتھ اسکول بھی نہیں لاتی۔"
ریو ڈی جنیرو میں اسکولوں میں موبائل فون پر پابندی کا جو تجربہ ایک سال پہلے شروع ہوا تھا، وہ اب تقریباﹰ پورے ملک میں نافذ ہو چکا ہے۔
بنگلہ دیش: مدرسے کی انتظامیہ نے طلبا کے موبائل فون جلا دیے
مارکیز اس اسکول کی ایسی واحد طالبہ نہیں ہیں، جو اپنا سیل فون گھر پر ہی چھوڑ آتی ہیں۔ بہت سے دیگر نوجوان طلبہ بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ اس لیے اب ایسے طالب علموں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے، جو اپنی اپنی کلاسز کا رخ کرنے سے پہلے اپنے سیل فون ایک ڈبے میں رکھتے ہیں۔
ابتدا میں مارکیز کا خیال تھا کہ یہ پابندی ''بیزار کن‘‘ اور ''بورنگ‘‘ ہے۔
اب لیکن وہ خوش ہیں کہ اس وجہ سے ان کی تعلیمی کارکردگی بھی بہتر ہوئی ہے اور سماجی رابطوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ استثنائی حالات میں استعمال کی اجازتاقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو کے مطابق گزشتہ برس کے اواخر تک دنیا بھر کے ایجوکیشن سسٹمز میں سے 40 فیصد ایسے تھے، جن میں بچوں اور نوجوانوں کو اسکولوں میں اپنے موبائل فون ساتھ لانے پر کسی نہ کسی قسم کی پابندی عائد تھی۔
اہم بات یہ ہے کہ اس سے ایک سال قبل 2023ء میں یہ عالمی شرح تیس فیصد تھی۔ڈچ کلاس رومز میں موبائل فونز اور ٹیبلٹس پر پابندی کا فیصلہ
ریو ڈی جنیرو کی بلدیاتی انتظامیہ کے ایجوکیشن سیکرٹری رینان فیریرینہا کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے بعد جب بچے واپس اسکول آنا شروع ہوئے، تو وہ اوسطاﹰ پہلے سے زیادہ جذباتی، اتاولے اور موبائل فونز کے عادی تھے۔
فیریرینہا برازیل کی وفاقی پارلیمان کے رکن بھی ہیں اور اسکولوں میں سیل فون کے استعمال پر ملک گیر پابندی کے لیے وفاقی قانون سازی میں ان کی کوششیں بھی بہت اہم تھیں۔
گزشتہ برس کیے گئے ایک ملکی سروے کے مطابق برازیل میں ایک عام بچے کو اوسطاﹰ دس سال کی عمر میں اس کا پہلا موبائل فون مل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تین سال سے کم عمر کے بچے روزانہ اوسطاﹰ ڈیڑھ گھنٹہ تک اسمارٹ فونز استعمال کرتے ہیں۔
تیرہ سے سولہ سال تک کے نوجوانوں میں تو یہ دورانیہ یومیہ اوسطاﹰ تقریباﹰ چار گھنٹے رہتا ہے۔رینان فیریرینہا نئے قانون کی افادیت کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں،"اگرچہ موبائل فون کے استعمال کو اعتدال میں رکھنا کسی بالغ کے لیے بھی مشکل ہوتا ہے، تو سوچیں کہ کسی بچے کے لیے یہ کتنا مشکل ہوتا ہو گا۔ اور کسی ٹیچر کے لیے یہ بات کتنی تکلیف دہ ہو گی کہ وہ بچوں کو پڑھا رہا ہو اور بچے سوشل میڈیا پر ویڈیوز دیکھ رہے ہوں؟"
نئے قانون کے نفاذ کے بعد ایک حالیہ جائزے سے ثابت ہوا ہے کہ اسکولوں میں طلبہ کی حاضری، تعلیمی کارکردگی، کھیلوں کی سرگرمیاں اور سماجی رابطے کافی بہتر ہوئے ہیں۔
کئی نوجوان طلبہ ایسے بھی ہیں، جو اس پابندی کے خلاف ہیں اور اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب اسکول سے گھر لوٹیں اور اپنے سیل فون استعمال کریں۔اس نئے قانون کا مطلب تاہم سیل فون پر مکمل پابندی نہیں ہے۔ تعلیمی مقاصد، ایمرجنسی اور صحت سے متعلقہ امور میں اسکولوں میں موبائل فونز کے استثنائی استعمال کی اجازت ہے۔
ع ج/ ج ا (اے ایف پی)