کوئٹہ میں تباہ کن حملے کے بعد موبائل فون، انٹرنیٹ سروس معطل
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
ویب ڈیسک : کوئٹہ میں ڈبل روڈ پر ہونے والے دہشتگردی کے تباہ کن حملے کی وجہ سے بیشتر افراد زخمی ہوئے ہیں، جس کے بعد حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وہاں موبائل فون، انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی ہے۔
بم حملے کے متعلق پولیس نے یہ بتایا کہ موٹر سائیکل میں نصب بم کو ریموٹ کنٹرول سے پھوڑا گیا، پولیس نے مزید یہ بتایا کہ ڈھائی کلو خطرناک بارودی مواد استعمال کیا گیا، ان تمام معلومات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بم کو سگنل کی مدد سے جائے وقوعہ پر موجود دہشتگرد نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چلایا۔
25 بیرلز والے کئی راکت لانچرز کی موجودگی کا سراغ مل گیا
صوبائی حکام کی جانب سے موبائل فون انٹرنیٹ سروس کی بندش کی وجہ کچھ نہیں بتائی گئی، تاہم حملے کی نویت سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ کوئٹہ کو ایسے کسی بھی حملے سے بچانے کے لیے فی الحال تو موبائل فون، انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی ہے، تاہم اس کا ابھی کوئی ٹھوس توڑ نہیں نکالا گیا، کہ آیا ایسے حملوں کا پہلے سے ہی پتایا لگایا جاسکے اور اس حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کی جاسکیں۔
موبائل فون، انٹرنیٹ سروس کب بحال ہوگی تاحال متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی بیان نہیں دیا گیا۔
لاہور؛ 234 ٹریفک حادثات میں 282افراد زخمی
.ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: انٹرنیٹ سروس موبائل فون
پڑھیں:
ٹیلی سے موبائل فون تک
میرے پیا، او میرے پیا گئے رنگون
کیا ہے وہاں سے ٹیلی فون
تمہاری یاد ستاتی ہے، تمہاری یاد ستاتی ہے
1949 کی فلم ’پتنگا‘ کے اس گیت کا سہرا یقیناً شاعر، موسیقار اور گلوکاروں کو جاتا ہے، مگر گراہم بیل کو بھی اگر آپ کریڈٹ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں، اگر وہ فون نہ ایجاد کرتے تو شاید یہ گیت نہ بنتا
یوں تو ٹیلی فون کی ایجاد کے حوالے سے مختلف افراد کا دعویٰ موجود ہے۔
تاہم فون کا موجد اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہونے والے گراہم بیل کو ہی مانا جاتا ہے۔ 10 مارچ 1876 وہ تاریخ ساز دن جب پہلی ٹیلی فون کال کی گئی۔
اس ایجاد نے آنے والے وقتوں میں مواصلات کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ اس کے بعد کبھی آہستہ تو کبھی تیزی کے ساتھ فون ترقی کی منازل طے کرتا گیا، 1878 میں امریکی ریاست کنیکٹیکٹ کے شہر نیو ہیون میں پہلا ٹیلی فون ایکسچینج قائم کیا گیا۔
اس کی مدد سے لوگوں کے لیے ایک دوسرے کو فون کرنا ممکن ہوا تو اس سسٹم سے ٹیلی گراف وائرز کی ضرورت بھی ختم ہوئی۔
1891 کا سال بھی ٹیلی فون کی تاریخ کا یادگار سال ہے، اس برس پہلا ڈائل ٹیلی فون وجود میں آیا۔ اس کی مدد سے آپریٹر پر انحصار ختم ہوا اور کالر کو خود فون نمبر ڈائل کرنے کی سہولت ملی۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیلی فون سسٹم کی کارکردگی میں بھی بہتری آئی۔
1927 میں مواصلات کی دنیا میں ایک اور اہم کامیابی ملی، ٹیلی فون کے ذریعے طویل فاصلے تک گفتگو کی گئی، دنیا کی پہلی ٹرانس ایٹلانٹک کال نیویارک اور لندن کے درمیان کی گئی۔
اس مقصد کے لیے سمندر کے نیچے خصوصی کیبلز بچھائی گئی تھیں، یہ اس وقت ایک بہت بڑی تکنیکی کامیابی سمجھی گئی، اس سے پہلے فون کالز صرف قریبی علاقوں تک ہی ممکن تھیں اور طویل فاصلے کے لیے خط یا ٹیلی گراف کے ذریعے بات کرنی پڑتی تھی، ٹرانس اٹلانٹک فون کال کی بدولت دنیا بھر میں رابطہ کرنا بہت آسان ہو گیا اور مواصلات کا نظام تیز اور مؤثر ہو گیا۔
1947 میں امریکی کمپنی بیل لیبز نے موبائل فون کا ایک ابتدائی تصور پیش کیا، اسے موبائل فون کی ابتدا بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس تصور کو حقیقت بننے میں 26 برس لگے۔
موٹورولا کمپنی نے 1973 میں پہلا پورٹ ایبل سیل فون ایجاد کیا۔ اس ایجاد نے فون کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کیا۔ تاہم، عام لوگوں تک اس فون کی رسائی نہیں تھی۔ اس کا وزن تقریباً ڈھائی کلوگرام اور اس کی بیٹری کا دورانیہ بھی بہت کم تھا، یہ فون صرف 20 منٹ تک چلتا تھا اور اسے تقریباً 10 گھنٹے چارج کرنا پڑتا تھا، اس فون کی قیمت تقریباً 3,500 امریکی ڈالر تھی، جو آج کے حساب سے تقریباً 10 ہزار امریکی ڈالر یا 28 لاکھ پاکستانی روپے بنتی ہے۔
موبائل فون تک عام لوگوں کی رسائی 1990 کی دہائی کے آخر اور 2000 کی دہائی کے شروع میں ہوئی۔ اس سے پہلے موبائل فونز بہت مہنگے تھے اور صرف امیر لوگوں تک ہی محدود تھے۔
90 کی دہائی کے وسط میں موبائل فونز کی قیمتیں کم ہونا شروع ہوئیں، نیٹ ورک کی رسائی بڑھی اور یہ فون عام افراد تک پہنچنے لگے۔
1990 کے دہائی کے آخر میں نوکیا، سونی ایرکسن، اور موٹورولا جیسے برانڈز نے سادہ اور نسبتاً سستے موبائل فونز مارکیٹ میں متعارف کرائے، ان فون کے ذریعے کالنگ اور میسجنگ کے علاوہ بھی کچھ اور فیچرز بھی ہوتے تھے۔
2000 کی دہائی کے آغاز تک موبائل فونز کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا اور یہ دنیا کے بیشتر حصوں میں تقریباً ہر فرد کی پہنچ میں آ گئے۔ اس کے بعد موبائل فونز نے چیتے کی سی رفتار سے ترقی کی اسپیڈ پکڑی۔
کیمرہ موبائل کا لازمی حصہ بنا، پھر اسمارٹ فون نے تو ایک ایسی نئی دنیا کی بنیاد رکھی، جس میں ہر روز ہی نئے شہر بستے ہیں۔
1991 میں 2G نیٹ ورک شروع ہوا، آواز، ٹیکسٹ اور ملٹی میڈیا پیغامات کا سلسلہ شروع ہوا، 2001 میں 3G نیٹ ورک نے اینٹری دی، ویڈیو اسٹریمنگ اور ویب سرفنگ کا آغاز ہوا۔ 2009 میں 4G نیٹ ورک وجود میں آیا، 10 برس بعد موبائل صارفین کو 5G نیٹ ورک کا ساتھ ملا۔
ابتدا میں ’کی پیڈ‘ والے موبائل فون استعمال ہوتے تھے، وقت بدلا تو ان کی جگہ ٹچ اسکرین موبائل نے لے لیے، موجودہ دور میں ہر کسی کے ہاتھ میں ایسے ہی فون ہوتے ہیں، آج کل آپ کے ہاتھ میں فون نہیں، ایک پوری دنیا ہوتی ہے۔
نئے اور جدید موبائل فونز نے صارفین کے لیے آسانیاں ہی آسانیاں پیدا کر دیں۔ کوئی معلومات چاہیے، گوگل ہے نا ۔۔۔ کوئی کتاب پڑھنی ہو، لائبریری جانے کی ضرورت نہیں، آرام سے گھر بیٹھے سب کچھ صرف ایک کلک کی دوری پر۔
بجلی یا گیس کے بل جمع کرانا ہوں تو نہ بینک جانے کی ضرورت نہ لمبی لائن میں کھڑا ہونے کا جھنجھٹ، سب کچھ موبائل کے ذریعے ممکن ہے۔
کسی چیز کی انسٹالمینٹ یا پھر انشورنس جمع کروانی ہو، کوئی مسئلہ نہیں۔ اب تو گھر بیٹھے آن لائن چیزیں منگوانا بھی بہت آسان ہو گیا ہے۔ انتہائی کم قمیت پر گاڑی، بائیک یا لوڈنگ گاڑی کی سہولت بھی آپ کے ہاتھ میں موجود ہے ۔
موبائل اور انٹرنیٹ نے کئی اشیا کو ماضی کا حصہ بھی بنایا ہے۔ گھروں میں لینڈ لائن فون تقریباً ختم ہو چکے ہیں، اس جادوئی چیز نے عید کارڈز کو بھی تقریباً ماضی کا حصہ بنا دیا ہے۔
واٹس ایپ نے بھی انقلاب برپا کر دیا۔ دنیا کے کسی بھی حصے میں کال کرنی ہو، وہ بھی آڈیو یا ویڈیو، مرضی آپ کی، کال نہ ہو رہی تو پیغام بھیجیے، انٹرنیٹ سے سب کچھ ممکن ہے۔
اس جادوئی دنیا نے خطوط اور ڈاکیا کو آج کے دور کے بچوں کے لیے اجنبی بنا دیا ہے۔ لیٹر باکس بھی کسی تنہا مسافر کی طرح اپنے مہمان کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔
خط کا انتظار اور اس کے ملنے کی خوشی آج کے بچے بھلا کیا جانیں۔ عید کارڈز بھیجنے کی روایت بھی اب نہ رہی۔ نقشے بھی ماضی کا حصہ بن گئے، اب کہیں بھی جانا ہو، منزل کا نہیں پتہ، کوئی مسئلہ نہیں، گوگل میپ آپ کو آپ کی منزل تک پہنچائے گا۔
ڈائری میں فون نمبرز محفوظ کرنے کی جھنجھٹ کا بھی خاتمہ ہوا۔ CLI کس چڑیا کا نام ہے، نئے دور کے بچے شاید ہی اس سے واقف ہوں۔
موبائل نے الارم گھڑیوں کا بھی خاتمہ کر دیا ہے، کلائی پر بھی اب گھڑیاں کم کم ہی سجتی ہیں۔ کلینڈرز اور ٹارچ بھی اب ہماری زندگی کا حصہ کم ہی ہیں۔ انٹرنیٹ تک رسائی آسان ہوئی تو انٹرنیٹ کیفے کا بھی خاتمہ ہوا۔
کسی زمانے میں خوبصورت یادوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کیمرے خریدے جاتے تھے، اب موبائل میں سب کچھ موجود ہے، تصویریں کھینچیں یا پھر ویڈیوز بنائیں، کوئی مسئلہ نہیں۔
واک مین یا پھر MP3 پلیئر کو بھی وقت کی تیز دھار نے نہ بخشا۔ ٹیپ ریکارڈز، وی سی آر یا پھر آڈیو اور ویڈیو کیسٹ، سب کچھ اب صرف یادوں میں رہ گیا ہے۔ اب موبائل میں گیمز کا بھی خزانہ موجود ہوتا ہے، جو گیم چاہیے انسٹال کریں اور کھیلیں۔
انٹرنیٹ کے ذریعے آپ آپ کا موبائل اب آپ کا ٹی وی بھی ہے، آئی پی ٹی وی کے ذریعے آپ کے موبائل فون پر چینلز کی اک نئی دنیا آپ کا استقبال کرتی ہے، یوٹیوب کی مدد سے اپنی پسند کا جو بھی ڈرامہ دیکھنا چاہیں، کوئی مسئلہ نہیں، موبائل کی اس نئی دنیا میں گھر بیٹھے کئی افراد لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔
یہ ٹیکنالوجی طبی دنیا میں بھی انقلاب لائی ہے، اگر ڈاکٹر کے پاس جانا مشکل ہے تو کوئی مسئلہ نہیں، ڈاکٹر میلوں دور کسی حد تک معائنہ بھی کر سکتا ہے۔
ایک دلچسپ بات ’موبائل فون بہت کچھ کھانے کے بعد بھی سمارٹ فون کہلاتا ہے‘۔
موبائل کی جادوئی دنیا کے فائدے تو کئی ہیں مگر نقصانات بھی ہیں، ان کا بہت زیادہ استعمال کئی مسائل بھی پیدا کرتا ہے، خاص طور پر بچوں پر ان کے سنگین اثرات ہو سکتے ہیں، کئی افراد کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس نے سماجی رابطے بھی کم کر دیئے ہیں، ایک ہی جگہ پر قریب رہتے ہوتے بھی دور دور ہوتے ہیں۔
موبائل فون کے فائدے زیادہ ہیں یا نقصانات۔ یہ تو آپ کے استعمال پر منحصر ہے مگر موجودہ دور میں اس کے بغیر گزارا بھی ممکن نہیں۔
ایک ٹچ پہ دنیا اور دوریاں سب سمٹ گئیں
مگر اک جدائی کی دیوار بھی کھچ گئی
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احمد کاشف سعید گزشتہ 2 دہائیوں سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ ریڈیو پاکستان اور ایک نیوز ایجنسی سے ہوتے ہوئے الیکٹرانک میڈیا کا رخ کیا اور آجکل بھی ایک نیوز چینل سے وابستہ ہیں۔ معاشرتی مسائل، شوبز اور کھیل کے موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔