پی ٹی آئی رہنماؤں کو بانی سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
فوٹو: فائل
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کو آج اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی، تمام رہنما ملاقات کیے بغیر ہی واپس روانہ ہوگئے۔
عمر ایوب، شبلی فراز، صاحبزادہ حامد رضا،، نیاز اللّٰہ نیازی، جنید اکبر اور علامہ راجہ ناصر عباس ملاقات کیلئے اڈیالہ جیل پہنچے تھے۔
بانی پی ٹی آئی کی درخواستوں پر سماعت اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ نے کی، جبکہ ان کے وکیل محمد فیصل ملک عدالت میں پیش ہوئے۔
عمر ایوب کا کہنا تھا کہ یہاں پر حسب معمول آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں، 4 گھنٹےہم نےاڈیالہ جیل کے باہرانتظار کیا، متعدد بار جیل انتظامیہ کو آگاہ کیا۔
شبلی فراز کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کی آج توہین ہوئی، احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
جنید اکبر نے کہا یہاں آئین قانون اور جج کے فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں ایسے رویے مزید نفرتیں بڑھائیں گے جو ملک کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ملاقات کی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کو جھٹکا، شاہد خاقان عباسی نے اتحادی بننے سے دو ٹوک انکار کردیا
پی ٹی آئی کو جھٹکا، شاہد خاقان عباسی نے اتحادی بننے سے دو ٹوک انکار کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 29 March, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ جب تک ملک میں نفاق اور سیاسی انتشار ختم نہیں ہوگا آپ کسی چیلنج کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔
شاہد خاقان عباسی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے اپنے وسائل اتنے ہیں کہ وہ اپنے مسائل خود حل کر سکتا ہے، اگر آپ بلوچستان کو صحیح طریقے سے چلائیں تو وہاں کے ہر شخص کی آمدن پاکستان کے تمام صوبوں کے لوگوں کی آمدن سے زیادہ ہوگی۔ صرف آئین کے مطابق صوبہ چلے، ان کے وسائل ان کے حقوق انہیں آئین کے مطابق ملیں۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ (بلوچستان میں)فوجی کارروائی آپ کو کرنی پڑے گی، دہشتگردی کوئی بھی ملک قبول نہیں کرتا، شدت پسندی قبول نہیں کرسکتا، لیکن یہ معاملے کا مستقل حل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بات چیت آپ کریں، بات چیت سے حل نکلتا ہے، لیکن آپ کو تیار بھی رہنا پڑے گا، اس بات کو کوئی اسٹیٹ قبول نہیں کرسکتی کہ اختیار اس کے ہاتھ سے نکل جائے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں کوئی نہیں بیٹھے گا، کیونکہ وہ حکومت جس کو عوام نے الیکٹ نہیں کیا وہ کچھ نہیں کرسکے گی، وہ حکومت جس کا وجود نہ قانون کے مطابق ہے نہ اخلاق کے مطابق ہے، وہ کیسے مسائل حل کرے گی۔شاہد خاقان عباسی نے ڈیرہ اسماعیل خان اور خیبرپختونخوا کی اضلاع کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جہاں پر صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت مفلوج ہے، وہاں پر اے پی سی سے حل نہیں نکلے گا، وہ اے پی سی کی بات نہیں سنتے ان کے پاس ہتھیار ہیں، رات کو موٹروے پر بھی خواجیوں کا اختیار اور قبضہ ہوتا ہے۔
پی ٹی آئی کے اپوزیشن اتحاد میں شمولیت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جو ملک میں آئی اور قانون کی حکمرانی کی بات کرے گا میں اس کے ساتھ ہوں، جو نفاق اور غیر آئینی عمل کی بات کرے گا اس کے ساتھ نہیں ہوں۔انہوں نے کہا کہ قانون کے اندر رہ کر تحریک چلائیں گے تو بہت کامیاب ہوگی، قانون سے باہر جائیں گے تو گڑبڑ ہوگی۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو حکمران ہیں وہ قانون کے دائرے میں رہ کر بھی آپ کو احتجاج کا حق نہیں دے رہے۔
شاہد خاقان عباسی نے اپوزیشن الائنس میں شامل ہونے کے سوال پر کہا، عباسی صاحب اس میں شامل نہیں ہیں، یہ بڑی سیدھی بات ہے، میں کسی بھی غیر آئینی عمل کا حصہ نہیں ہوں، آئین کے اندر قانون کے اندر جو احتجاج کا ہمارا حق ہے اس کے حق میں ہوں، حکومت اگر الٹے سیدھے قوانین بنا کر روکے گی تو اس کے خلاف احتجاج ہم پر لازم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آپ اگر جتھا بنا کر دارالحکومت پر حملہ آور ہونا چاہتے ہیں تو میں آپ کے ساتھ نہیں ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ جو حکومتیں عوام کی منتخب نمائندہ حکومتیں نہیں ہوتیں، وہ عوام سے گھبراتی ہیں، یہ حکومت عوام سے گھبراتی ہے، اس کے پاس عوام کا مینڈیٹ نہیں ہے۔