اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 مارچ2025ء)چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی سینیٹ برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے پاکستان کے تین صوبوں میں خشک سالی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ ارسا حکام کے مطابق پاکستان کے تین صوبوں کو خشک سالی کا سامنا ہے جو کہ انتہائی پریشان کن ہے۔

(جاری ہے)

اپنے بیان میں شیری رحمن نے کہاکہ پانی کی کمی کے خدشات کے باعث ماہرین آبپاشی کے لیے پورے موسم کے لیے پانی کی فراہمی کی منصوبہ بندی کرنا مشکل ہو رہا ہے، ارسا کی مشاورتی کمیٹی نے اہم ترین اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ اپریل کے مہینے میں صرف پینے کے پانی کی فراہمی کی جائے گی۔

سابق وز یر نے کہاکہ ارسا کے مطابق پاکستانی دریاؤں کے نظام میں 43% پانی کی کمی ہے،ڈیموں میں بھی پانی نہیں ہے ،جبکہ پہاڑوں پر بھی برف کے ذخائر کم ہونے سے بہتر بہاؤ کی کوئی امید نہیں ہے ۔ شیری رحمن نے کہاکہ خریف سیزن کی شروعات میں پانی کی کمی فصلوں پر سنگین اثرات ڈالے گی۔ یہ سب ماحولیاتی تبدیلی اور ناقص پانی کے انتظام کا نتیجہ ہے، بغیر وضاحت اور اتفاق کے دریائے سندھ سے یکطرفہ کینال منصوبے کو نہ شروع کیاجائے،پانی کے استعمال اور تقسیم میں ذمہ داری برتی جائے۔.

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پانی کی

پڑھیں:

قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں جو بتایا گیا جے یو آئی اس سے مطمئن نہیں، سینیٹر کامران مرتضیٰ

جمعیت علمائے اسلام کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ جے یو آئی قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں جو بتایا گیا اس سے مطمئن نہیں، نہ ہی آپریشن چاہتی ہے۔ عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی والے جے یو آئی سے کلاسز لیں، پی ٹی آئی اور جے یو آئی کا اعتماد کا مسئلہ ہے، دونوں کو اک دوسرے پر یقین نہیں، اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ ہمیشہ سے پارلیمنٹ پر اثرانداز ہوتی رہی ہے۔ پاکستان میں کسی سیاستدان کو حکمرانی کا پورا وقت نہیں دیا گیا، جب بھی کسی حکمران کی پالیسیاں نظر آنے لگتی ہیں اس کو نکال باہر کیا جاتا ہے، یہ پاکستان کی بدقسمتی ہے اور یہ پہلے دن سے چل رہا ہے، جو سیاسی حکومت پاؤں جما لے گی، اس کو چلتا کر دیا جائے گا۔

وی ایکسکلوزیو میں گفتگو کرتے ہوئے جمیعت علمائے اسلام کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ ہمیشہ سے پارلیمنٹ پر اثرانداز ہوتی رہی ہیں۔ عدلیہ کریز سے باہر نکل کر کھیلتی تھی اب 26ویں ترمیم کے بعد کریز سے باہر نہیں نکل سکے گی۔ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو اپنے کردار تک محدود کرنا ہو گا ورنہ یہ ملک مزید خراب ہوگا۔ جس دن سیاسی جماعتوں نے اس کا ادراک کر لیا ملک ٹھیک ہو جائے گا۔

پی ٹی آئی والے جے یو آئی سے کلاسز لیں

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی والے جے یو آئی سے کلاسز لیں۔ عمران خان کی رہائی کے لیے جے یو آئی کو کردار ادا کرنے کے لیے پی ٹی آئی یا بانی عمران خان نے کبھی نہیں کہا۔ اگر کسی کے غیر قانونی طور پر جیل میں رکھا گیا ہے تو جے یو آئی اس پر اپنا کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن بنیادی طور پر چونکہ عمران خان ایک الگ سیاسی جماعت کے لیڈر ہیں اس لیے جے یو آئی کارکن رہنما یا قیادت ان کی رہائی کے لیے کوشش نہیں کرسکتی۔

قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں جو بتایا گیا اس سے مطمئن نہیں

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کو شرکت کرنی چاہیے تھی، ہمیں میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا تھا کہ وہ شریک ہوں گے تاہم رات گئے اچانک انہوں نے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا، جب اپ پارلیمنٹ میں بیٹھتے ہیں اور اس نظام کا حصہ ہیں تو ایسے نیشنل ایشو پر شامل ہو کر اپنا موقف سامنے رکھنا چاہیے۔ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں سوال و جواب کا سیشن نہیں ہوا، صرف تقاریر کا موقع دیا گیا۔ جے یو آئی کے کچھ سوالات تھے لیکن موقع نہیں دیا گیا۔ البتہ جے یو آئی قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں جو بتایا گیا اس سے مطمئن نہیں، نہ ہی آپریشن چاہتی ہے۔

پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان اعتماد کا مسئلہ ہے

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کا اعتماد کا مسئلہ ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے پر یقین نہیں ہے، ہمارے درمیان اختلافات بہت زیادہ تھے لیکن اب بہت کم ہو گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ساتھ احتجاج میں شامل ہونے سے متعلق انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کسی بھی ایسے احتجاج میں شرکت نہیں کر سکتے ہیں۔ احتجاج بہت میں ہوتا ہے، ہمیں کہا جاتا ہے کھڑے ہو جاؤ ہو جاتے ہیں کہا جاتا ہے کہ واپس چلے جاؤ تو ہم واپس چلے جاتے ہیں، اگر ہمیں قیادت کہتی ہے کہ بس دھرنا یا احتجاج ختم کرنا ہے تو ہم ختم کر دیتے ہیں مگر پی ٹی آئی کا جو ماحول ہے ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمان عہدوں کی سیاست نہیں کرتے

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان عہدوں کی سیاست نہیں کرتے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ بی ڈی ایم دور میں مولانا فضل الرحمان کو کسی عہدے کی لالچ دے کر شامل کیا گیا تھا یہ کہا گیا تھا۔ مولانا فضل الرحمان کو عہدے کا لالچ نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بانی پی ٹی آئی پی ٹی آئی جے یو آئی سینیٹر کامران مرتضیٰ کامران مرتضیٰ موکانا فضل الرحمان

متعلقہ مضامین

  • الیکٹرک وہیکلز: پاکستان میں ماحولیاتی انقلاب یا صرف ایک خواب؟
  • سندھ میں پانی کی شدید کمی، نئے کینالوں کیخلاف سکھر بیراج پر احتجاجی ریلی
  • دریائے سندھ سے کینالز نہیں نکالنے دیں گے، وزیراعلیٰ سندھ کی وفاقی حکومت گرانے کی دھمکی
  • گورنر سندھ کا کورنگی کراسنگ کے قریب آگ لگنے کے واقعے پر اظہارِ تشویش
  • تربیلا ڈیم میں پانی کی تشویش ناک صورتحال، بجلی کی پیداوار بند
  • حکومت کا کمرشل مارکیٹ میں بھی ٹریفک بند کرنے کا ارادہ، تاجروں کا اظہارِ تشویش
  • ملک میں پانی کی شدید قلت: صرف پینے کا ذخیرہ بچ گیا، خریف کی فصل خطرے میں
  • پاکستان کا میانمار، تھائی لینڈ اور پڑوسی میں تباہ کن زلزلے پر افسردگی کا اظہار
  • عمران خان کی رہائی کے لیے امریکی کانگریس میں پیش بل کے پاکستان پر کوئی اثرات نہیں ہوں گے، سابق سفارتکار
  • قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں جو بتایا گیا جے یو آئی اس سے مطمئن نہیں، سینیٹر کامران مرتضیٰ