عمرمختار راٹھور قتل کیس : بریت کی درخواست مسترد،ملزمان کو 2مرتبہ پھانسی اور 5 لاکھ جرمانے کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ :4سالہ بچے عمر مختار راٹھور کے قتل کے ملزمان کی بریت کی درخواست مسترد، تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے تینوں ملزمان کی بریت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے محفوظ فیصلہ سنا دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے احکامات جاری کردیئے ۔ ٹرائل کورٹ نے تینوں ملزمان حمزہ جہانگیر ،آفتاب ظفر،یاسر چودھری کو 2مرتبہ پھانسی ،5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنادی ۔
انوکھی ڈکیتی، مسلح افراد درزی کی دکان سے سلے ہوئے 80 سوٹ لے کر فرار
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: اسلام ا باد
پڑھیں:
اسسٹنٹ کمشنرز کیلیے 138 ڈبل کیبن گاڑیوں کی خریداری کیخلاف درخواست مسترد
کراچی:سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے 138 ڈبل کیبن گاڑیوں کی خریداری کیخلاف درخواست مسترد کردی۔
ہائیکورٹ میں آئینی بینچ کے روبرو اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے 138 ڈبل کیبن گاڑیوں کی خریداری کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں ایڈووکیٹ جنرل جواد ڈیرو، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے درخواستگزار سے استفسار کیا کہ بتائیں آپ لوگ اس سے اسکیم سے کیسے متاثر ہوئے ہیں۔ عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے مؤقف دیا کہ درخواستگزار رکن سندھ اسمبلی ہے۔ درخواست گزار نے اسمبلی میں بھی مخالفت کی تھی، لیکن اس کے باوجود گاڑیوں کی خریداری کی منظوری دی گئی۔
عدالت نے استفسار کیا کہ لیکن یہ معاملہ اسمبلی میں کیسے گیا ہوگا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہاں درخواست پر تو کوئی بل یا ایکٹ نظر نہیں آرہا۔
وکیل نے بتایا کہ درخواست گزار نے گاڑیوں کی خریداری کیخلاف قرار داد پیش کی تھی۔ بحیثیت شہری ڈبل کیبن گاڑیاں خریدی جائیں گی تو میں بھی متاثر ہوں گا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کیسے متاثر ہو سکتے ہیں۔
عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ بجٹ اور پیسہ سندھ حکومت کا ہی خرچ ہوگا۔ لگژری گاڑیوں کے بجائے 1000 سی سی کی گاڑیاں خریدی جائیں۔
عدالت نے درخواستگزار سے مکالمے میں کہا کہ آپ کو گاڑیوں کی سی سی پر مسئلہ ہے۔ عدالت نے درخواستگزار سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں کونسے رولز اور پالیسی کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
وکیل نے مؤقف دیا کہ بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کون سے حقوق متاثر ہوئے آپ کے۔ کونسے قانون کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔
درخواستگزار کے وکیل نے کہا کہ مجھے وقت دے دیں میں رولز اور پالیسی کی خلاف ورزی سے متعلق تفصیلات دے دوں گا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ وقت نہیں دے سکتے، پہلے ہی کیس زیر التوا ہے۔ عوامی مفادات کو سیاسی مفادات نہ بنایا جائے۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ جواد ڈیرو نے دلائل میں کہا کہ یہ صرف پبلسٹی کے لیے کر رہے ہیں۔ یہ لگژری گاڑیاں نہیں بلکہ ضرورت ہیں۔ درخواست کو مسترد کیا جائے۔ اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے گاڑیوں کی خریداری غیر ضروری نہیں، نہ ہی گاڑیوں کے لیے فنڈز کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسسٹنٹ کمشنرز کے پاس بہت اہم ذمے داریاں ہوتی ہیں۔ گاڑیوں کی خریداری ضروری ہے تاکہ افسران ذمے داریاں احسن طریقے سے انجام دے سکیں۔ اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے آخری بار خریداری 2010 اور 2012 میں ہوئی تھی۔ سوزوکی کلٹس کی اوسط عمر 6 سال یا ایک لاکھ 60 ہزار کلومیٹر ہے۔ بیشتر گاڑیاں اپنی میعاد پوری کر چکی ہیں۔
بعد ازاں عدالت نے اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے 138 ڈبل کیبن گاڑیوں کی خریداری کیخلاف جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق و دیگر کی درخواست مسترد کردی۔