اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 27 مارچ 2025ء) بھارت نے بدھ کے روز امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) کی اس رپورٹ پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے مسترد کر دیا جس میں بھارت کی انٹیلیجنس ایجنسی 'ریسرچ اینڈ انالیسس ونگ' (را) پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

امریکی ادارے کا کہنا ہے بھارتی خفیہ ایجنسی "متعصبانہ اور سیاسی طور پر محرک سرگرمیوں" میں مصروف ہے۔

یو ایس سی آئی آر ایف نے منگل کے روز اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ بہت ہی خراب سلوک کیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پینل کی رپورٹ میں سکھ علیحدگی پسندوں کے خلاف قتل کی سازش میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی وجہ سے بھارت کی خفیہ ایجنسی 'را' کے خلاف پابندیوں کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

بھارت: ’مسلم خاندانوں کے درمیان ہندو محفوظ نہیں،‘ یوگی

امریکی ادارے نے مزید کیا کہا؟

یو ایس سی آئی آر ایف کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مذہبی امور کو منظم اور کنٹرول کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں اس لیے اسے، "خاص تشویش کا ملک" قرار دیا جائے۔

ادارے نے الزام لگایا ہے کہ سن 2023 کے بعد سے بھارتی ایجنسی را امریکہ اور کینیڈا میں خالصتانی کارکنان کو نشانہ بنانے کی سازشوں میں ملوث رہی ہے۔

امریکی کمیشن نے منگل کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا، "2024 کے دوران بھارت میں مذہبی آزادی کے حالات خراب ہوتے چلے گئے، کیونکہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف حملوں اور امتیازی سلوک میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

"

بھارت: اورنگ زیب کے مقبرے کا تنازع پرتشدد رخ اختیار کر گیا

پینل نے امریکی حکومت کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کے لیے "بھارت کو خاص تشویش کا حامل ملک" کے طور پر نامزد کرنے اور را نیز اس ادارے سے وابستہ بعض افراد کے خلاف "ٹارگٹڈ پابندیاں لگانے" کی سفارش کی۔

واضح رہے کہ یہ کمیشن ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کے اراکین پر مشتمل امریکی حکومت کا مشاورتی ادارہ ہے، جو بیرون ملک مذہبی آزادی پر نظر رکھتا ہے اور پالیسی سازی سے متعلق اپنی سفارشات پیش کرتا ہے۔

بھارتی کرکٹ ٹیم کی فتح کا جشن، جھڑپوں میں چار افراد زخمی

یاد رہے کہ واشنگٹن نے ایک امریکی شہری کے قتل کی ناکام سازش میں ایک سابق بھارتی انٹیلیجنس افسر وکاس یادیو پر الزام عائد کیا ہے۔ بھارت نے اس میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے، تاہم کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ تفتیش میں تعاون کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی ایجنسی کے افسر نے امریکی سرزمین پر خالصتانی تحریک سے وابستہ ایک امریکی شہری گروپتونت سنگھ پنون کو قتل کرنے کی ناکام سازش کی تھی۔

امریکی ادارے نے یہ بھی سفارش کی کہ امریکی حکومت "اس بات کا جائزہ لے کہ آیا آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ کے سیکشن 36 کے تحت بھارت کو ایم کیو 9 بی ڈرون، کی فروخت کہیں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں اضافہ تر نہیں کر سکتی ہے۔"

گزشتہ اکتوبر میں بھارت نے امریکہ کے ساتھ تقریباً چار بلین ڈالر کی لاگت سے 31 پریڈیٹر ڈرون حاصل کرنے کے لیے ایک بڑے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

بھارت: ہولی ایک بار آتی ہے اور جمعہ کی نماز 52 بار، مسلمان گھروں میں رہیں

بھارت کا رد عمل

یو ایس سی آئی آر ایف ماضی میں اقلیتوں کے حقوق اور ان پر مظالم کے حوالے سے بھارت پر نکتہ چینی کرتا رہا اور اس نے بھارت پر پابندی کی سفارش بھی کی ہے، جنہیں بھارت حسب معمول مسترد کر دیتا ہے۔

بدھ کے روز بھی بھارتی حکومت نے حسب معمول یو ایس سی آئی آر ایف کی رپورٹوں پر غصے سے رد عمل ظاہر کیا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ یو ایس سی آئی آر ایف بھارت کے "کثیر الثقافتی معاشرے پر الزام تراشی کرنے کی مسلسل کوششوں میں مصروف" ہے، جو مذہبی آزادی کے لیے حقیقی تشویش کے بجائے ایک "دانستہ" ایجنڈے کی عکاسی کرتا ہے۔

بھارت: مغل بادشاہ اورنگزیب کی تعریف کرنے پر مسلم رکن اسمبلی سے معطل

انہوں نے کہا کہ یو ایس پینل کی سالانہ رپورٹ برائے 2025، جو منگل کو جاری کی گئی ہے، "متعصبانہ ہے اور سیاسی محرکات پر مبنی جائزے جاری کرنے کے اپنے انداز کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

"

جیسوال نے کہا، "بھارت 1.

4 بلین لوگوں کا گھر ہے جو تمام مذاہب کے ماننے والے ہیں۔ تاہم ہمیں یہ توقع نہیں ہے کہ یو ایس سی آئی آر ایف بھارت کے تکثیری فریم ورک کی حقیقت کے ساتھ جڑے گا، یا اس کی متنوع برادریوں کے ہم آہنگ بقائے باہمی کو تسلیم کرے گا۔"

جیسوال نے مزید کہا، "جمہوریت اور رواداری کی روشنی کے طور پر بھارت کے موقف کو کمزور کرنے کی اس طرح کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔

درحقیقت یو ایس سی آئی آر ایف وہ ہے، جس پر تشویش ہونی چاہیے۔"

انہوں نے کہا کہ امریکی ادارہ "اکا دکا واقعات کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی مسلسل کوششیں کر رہا ہے اور بھارت کے متحرک کثیر الثقافتی معاشرے پر الزامات لگانا مذہبی آزادی کے لیے حقیقی تشویش کے بجائے ایک سوچے سمجھے ایجنڈے کی عکاسی ہے۔"

تدوین جاوید اختر

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے یو ایس سی آئی آر ایف امریکی ادارے رپورٹ میں بھارت کے کرنے کی کے ساتھ کے خلاف نے کہا ہے اور رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

وائس آف امریکا سے عملے کی جبری برطرفی، جج نے ٹرمپ انتظامیہ کو روک دیا


ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وائس آف امریکا کے عملے کی جبری برطرفی کے معاملے پر ایک وفاقی جج نے حکم امتناعی جاری کیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق جمعہ کے روز ایک وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی آٹھ دہائیوں پرانی امریکی حکومت کی مالی اعانت سے چلنے والی بین الاقوامی نیوز سروس کو ختم کرنے کی کوششوں کو روک دیا، اور اس اقدام کو ’’من مانی اور غیر معقول فیصلہ سازی کا ایک کلاسیکی کیس‘‘ قرار دیا ہے۔

جج جیمز پال اوٹکن نے یو ایس ایجنسی فار گلوبل میڈیا کو، جو وائس آف امریکہ چلاتی ہے، 1,200 سے زائد صحافیوں، انجینئرز اور دیگر عملے کو برطرف کرنے سے روک دیا، جنہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فنڈنگ میں کمی کے حکم کے بعد دو ہفتے قبل معطل کردیا گیا تھا۔

اوٹکن نے ایجنسی کو ملازمین یا ٹھیکیداروں کو ’’برطرف کرنے، افرادی قوت میں کمی کرنے، چھٹی پر بھیجنے یا جبری چھٹی دینے‘‘ اور کسی بھی دفتر کو بند کرنے یا بیرون ملک ملازمین کو امریکا واپس آنے کا حکم دینے کی کسی بھی مزید کوشش سے روکتے ہوئے ایک عارضی حکم امتناعی جاری کیا۔

اس حکم میں ایجنسی کو اس کے دیگر نشریاتی اداروں، جن میں ریڈیو فری یورپ/ ریڈیو لبرٹی، ریڈیو فری ایشیا اور ریڈیو فری افغانستان شامل ہیں، کےلیے گرانٹ فنڈنگ ختم کرنے سے بھی روکا گیا ہے۔ ایجنسی نے جمعرات کو کہا تھا کہ واشنگٹن ڈی سی میں ایک جج کے حکم کے بعد وہ ریڈیو فری یورپ کی فنڈنگ بحال کررہی ہے۔

مدعیوں کے وکیل اینڈریو جی سیلی جونیئر نے کہا، ’’یہ پریس کی آزادی اور پہلی ترمیم کےلیے ایک فیصلہ کن فتح ہے، اور ٹرمپ انتظامیہ کے ان اصولوں کی مکمل بے اعتنائی کی سخت مذمت ہے جو ہماری جمہوریت کی وضاحت کرتے ہیں۔‘‘

مین ہٹن میں جمعہ کو ہونے والی سماعت میں، اوٹکن نے ٹرمپ انتظامیہ کو ’’کانگریس کی طرف سے قانونی طور پر مجاز اور مالی اعانت سے چلنے والی ایجنسی کو توڑنے‘‘ پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

اوٹکن نے وائس آف امریکا کے صحافیوں، مزدور یونینوں اور غیر منافع بخش صحافتی وکالت گروپ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے اتحاد کی جانب سے گزشتہ ہفتے کٹوتیوں کو روکنے کےلیے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کے بعد فیصلہ دیا۔ بالآخر، وہ چاہتے ہیں کہ وائس آف امریکا دوبارہ نشریات شروع کرے۔

مدعیوں نے استدلال کیا کہ شٹ ڈاؤن نے ٹرمپ کے پہلے دور حکومت کے دوران عدالت کے اس فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے کہ وائس آف امریکا کے صحافیوں کے پاس وائٹ ہاؤس کی مداخلت سے بچانے کےلیے آزادی اظہار کی دیوار ہے۔ ان کی نشریات سے غیر موجودگی نے ایک خلا پیدا کر دیا ہے جسے ’’پروپیگنڈہ کرنے والے بھر رہے ہیں جن کے پیغامات عالمی نشریات پر اجارہ داری قائم کریں گے‘‘۔

ٹرمپ اور دیگر ریپبلکنز نے وائس آف امریکا پر ’’بائیں بازو کے تعصب‘‘ اور اس کے عالمی پڑھنے والوں کے سامنے ’’امریکا نواز‘‘ اقدار کو پیش کرنے میں ناکامی کا الزام لگایا ہے، حالانکہ کانگریس نے اسے غیر جانبدار نیوز آرگنائزیشن کے طور پر کام کرنے کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے کہ ٹرمپ نے 14 مارچ کو ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا جس میں ایجنسی فار گلوبل میڈیا اور چھ دیگر غیر متعلقہ وفاقی اداروں کے فنڈنگ میں کمی کی گئی، اس کے فوراً بعد وائس آف امریکا کی نشریات بند ہوگئیں۔ یہ ان کی حکومت کو سکڑنے اور اسے اپنے سیاسی ایجنڈے کے مطابق کرنے کی مہم کا حصہ تھا۔ ٹرمپ نے اس مہینے نیوز ایجنسیوں، بشمول ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ وائس آف امریکا کے معاہدے بھی ختم کرنے کی کوشش کی۔

کانگریس نے موجودہ مالی سال کےلیے ایجنسی فار گلوبل میڈیا کےلیے تقریباً 860 ملین ڈالر مختص کیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت منشیات فروشی میں ملوث، امریکی ایجنسی: اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنیوالا چیمپئن نہیں بن سکتا، پاکستان
  • کشمیر میں شب قدر اور جمعۃ الوداع کی تقریبات پر پابندی مداخلت فی الدین ہے، متحدہ مجلس علماء
  • بھارت اقلیتوں کے حقوق کا علمبردار بننے کے قابل نہیں، پاکستان کا بھارتی وزیر کے بیان پر ردعمل
  • بھارتی وزیر خارجہ کے بیان پر پاکستان کا منہ توڑ جواب
  • بھارت کا جموں و کشمیر میں حریت پسند جماعتوں کو آزادی کی سیاست سے دور کرنے کا منصوبہ بے نقاب
  • وائس آف امریکا سے عملے کی جبری برطرفی، جج نے ٹرمپ انتظامیہ کو روک دیا
  • بھارت عالمی سطح پر منشیات اسمگلنگ میں ملوث نکلا؛ امریکی خفیہ ایجنسی نے بھانڈا پھوڑ دیا
  • بھارت کی دہشت گردانہ کارروائیاں عالمی امن کیلئے خطرہ، علی رضا سید
  • بھارتی سنسر بورڈ نے فلم ’سنتوش‘ پر پابندی کیوں لگائی؟
  • بھارت میں سڑکوں پر عید کی نماز پڑھنے پر پابندی کا معاملہ، اپوزیشن کا احتجاج