’جو چھپانا تھا وہ تو گر گیا‘، ہانیہ عامر کی ویڈیو پر صارفین کے تبصرے
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر جن کا شمار پاکستانی ٹیلی ویژن اور فلموں کی سب سے زیادہ پسند کی جانے والی اداکارؤں میں ہوتا ہے، ان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں انہیں کسی تقریب میں شرکت کے لیے لفٹ سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
لفٹ سے باہر نکلتے ہی صحافیوں نے انہیں روک لیا جس پر ہانیہ عامر فوراً مڑ گئیں اور رپورٹرز کو چند لمحے انتظار کرنے کا کہا اور اس دوران انہوں نے اپنی اسسٹنٹ کے ہاتھ میں کوئی چیز دی جو زمین پر گر گئی۔
View this post on Instagram
A post shared by Vox Star (@voxstar5)
اس پر سوشل میڈیا صارفین میں بحث چھڑ گئی کہ ہانیہ عامر کچھ چھپانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ کسی نے دعویٰ کیا کہ وہ ویپ چھپانے کی کوشش کر رہی تھیں تو کوئی اداکارہ کے دفاع میں یہ کہتا نظر آیا کہ وہ ویپ نہیں بلکہ لپ اسٹک یا لپ گلوس تھا۔
ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’جو چھپانا تھا وہ تو گر گیا‘۔ جبکہ کسی کا کہنا تھا کہ یہ ویپ نہیں بلکہ مشہور برانڈ کا لپ گلوس ہے۔
مغل زادہ نامی صارف نے لکھا کہ ’ویپ پکڑا گیا‘ تو وہیں ردا نامی خاتون نے لکھا کہ ہانیہ کی زندگی ہے ان کی مرضی وہ جو چاہے کریں۔
یہ بھی پڑھیں: ’سلمان خان سے شادی کرلیں‘، راکھی ساونت کا ہانیہ عامر کے لیے پیغام
واضح رہے کہ ہانیہ عامر نے اپنی ہٹ فلموں ’جانان‘ اور’نا معلوم افراد‘ 2 کے ذریعے شہرت حاصل کی۔
ہانیہ عامر کے ہٹ ڈراموں میں تتلی، دلربا، عشقیہ، میرے ہمسفر، سنگِ ماہ اور مجھے پیار ہوا شامل ہیں، ہانیہ عامر کے انسٹاگرام پر ملین فالوورز ہیں۔ حال ہی میں ہانیہ عامر نے بلاک بسٹر ڈراما سیریل ’کبھی میں کبھی تم‘ میں شرجینا کا کردار ادا کیا جسے بے حد پسند کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستانی ڈرامے ہانیہ عامر.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستانی ڈرامے ہانیہ عامر ہانیہ عامر
پڑھیں:
مصطفیٰ عامر قتل کیس: ارمغان کے 40 مختلف بینک اکاؤنٹس سے 20 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی
کراچی کے رہائشی نوجوان مصطفیٰ عامر قتل کیس پر ملزم ارمغان سے متعلق تحقیقات جاری ہے، تحقیقاتی ٹیموں کا کہنا ہے کہ ارمغان کے 40 مختلف بینک اکاؤنٹس سے 20 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی کے دوسرے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، جس کے مطابق پولیس اور ایف آئی اے سمیت متعلقہ اداروں کے افسران نے کمیٹی کو کیس پر بریفنگ دی۔
ڈی آئی جی سی آئی اے نے کہا کہ ارمغان، شیراز اور مصطفیٰ تینوں دوست ہیں، تینوں پہلی سے ساتویں کلاس تک ساتھ پڑھے ہیں،
ذرائع کا کہنا ہے کہ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ارمغان کے 40 مختلف بینک اکاؤنٹس سے 20 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی، اکاؤنٹس کے بینک منیجرز کو بھی شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ارمغان کو 2 سیکیورٹی کمپنیز، ایک باکسر ایسوسی ایشن سیکیورٹی گارڈز فراہم کرتے تھے، ارمغان کو سامان پہچانے والی کوریئر کمپنی کو بھی نوٹس کیا گیا ہے۔
پولیس نے ارمغان کی گرفتاری اور اسلحہ برآمدگی کی رپورٹ بھی عدالت میں جمع کروادی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے نے انٹرپول کے ذریعے ارمغان سے ملنے والوں سے رابطے کیے، جبکہ ارمغان کے زیر استعمال غیر رجسٹرڈ گاڑیوں سے متعلق بھی تحقیقات جاری ہیں۔
ارمغان کے گھر سے بڑی تعداد میں برآمد اسلحہ فارنزک کیلئے بھیج دیا گیا، موبائل فونز اور لیپ ٹاپز کو بھی فرانزک کیلئے بھیج دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے گھر سے اربوں روپے سے زائد مالیت کی دو کرپٹو کرنسی کی مائننگ مشینیں بھی برآمد کی گئی تھیں۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ برآمد دونوں مشینوں کی پاکستان میں مالیت 2 ارب روپے سے زائد ہے،
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والی دونوں مشینوں کی پاکستان میں مالیت 2 ارب روپے سے زائد ہے۔
ملزم غیر قانونی کال سینٹر کی کمائی امریکا میں کزن کو بھیجتا تھا، ملزم کا کزن امریکی ڈالرز کا ڈیجیٹل اکاؤنٹ ہولڈر ہے۔
کیس کا پس منظر:۔واضح رہے کہ مصطفیٰ عامر کراچی کے علاقے ڈیفنس سے 6 جنوری کو لاپتہ ہوگیا تھا، جس کی لاش 14 فروری کے روز پولیس کو حب سے ملی تھی، مصطفیٰ کو اس کے بچپن کے دوستوں نے تشدد کرنے کے بعد گاڑی میں بٹھا کر جلایا تھا۔
23 سالہ مصطفیٰ عامر کی لاش ملنے کے بعد ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی آئی اے مقدس حیدر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مصطفیٰ عامر کو قتل کیا گیا، مصطفیٰ ارمغان کے گھر گیا تھا وہاں لڑائی جھگڑے کے بعد فائرنگ کرکے اس کو قتل کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مقتول کی لاش کو گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر حب لے جایا گیا، لاش کو گاڑی میں جلایا گیا، ملزمان نے لاش کی نشاندہی کی، اب تک کی تحقیقات کے مطابق ارمغان اور شیراز نے گاڑی کو آگ لگائی۔