امریکی رپورٹ میں بھارتی انٹیلیجنس را پر سنگین الزامات، سکھ رہنماؤں کے قتل میں ملوث ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را" سکھ علیحدگی پسند رہنماؤں کے قتل میں ملوث رہی ہے۔ رپورٹ میں بھارت کی اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک اور مذہبی آزادی پر بڑھتے دباؤ پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں امریکی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ "را" پر خصوصی پابندیاں عائد کی جائیں کیونکہ یہ ایجنسی 2023 میں سکھ رہنماؤں کے خلاف قاتلانہ سازشوں میں ملوث رہی۔ اس کے علاوہ، بھارتی انٹیلیجنس کے سابق افسر وکاش یادیو پر بھی سکھ علیحدگی پسندوں پر حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، 2024 میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف حملے اور امتیازی سلوک شدت اختیار کر گئے۔ مودی حکومت اور ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی نے مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کو انتخابی مہم کے طور پر استعمال کیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت میں اقلیتوں کے حقوق پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں، جن میں امتیازی شہریت قوانین، زبردستی مذہب تبدیلی کے خلاف سخت قوانین، کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی، اور مسلم املاک کی مسماری شامل ہیں۔ ان وجوہات کی بنا پر، بھارت کو "خصوصی تشویش کے حامل ملک" قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی برادری بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مسلسل سوالات اٹھا رہی ہے۔ اگر امریکہ بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی پر پابندیاں عائد کرتا ہے، تو یہ مودی حکومت کے لیے ایک بڑا سفارتی چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اقلیتوں کے کیا گیا ہے رپورٹ میں میں ملوث کے خلاف
پڑھیں:
امریکہ کی جانب سے بھارتیوں کی ہزاروں ویزا درخواستیں منسو خ ہونے کی وجہ سامنے آ گئی
امریکہ نے بھارت میں دو ہزار سے زائد ویزا درخواستیں منسوخ کر دی ہیں۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امیگریشن اور ویزا پالیسی کو مزید سخت کر دیا ہے۔
امریکی سفارت خانے کے مطابق، بھارت میں ویزا اپوائنٹمنٹ کے نظام میں دھوکہ دہی اور بدنظمی کے شواہد ملے، جس میں بوٹس اور دیگر ”بدنیت عناصر“ شامل تھے۔ اس کے نتیجے میں سفارت خانے نے ان مشتبہ اکاؤنٹس کو معطل کر دیا اور ان کے ویزا اپوائنٹمنٹس منسوخ کر دیے۔
سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں لکھا، ’قونصلر ٹیم انڈیا تقریباً 2,000 ویزا اپوائنٹمنٹس منسوخ کر رہی ہے جو بوٹس کے ذریعے حاصل کی گئی تھیں۔ ہم ایسے ایجنٹس اور افراد کے لیے زیرو ٹالرنس رکھتے ہیں جو ہمارے شیڈولنگ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ان تمام اپوائنٹمنٹس کو فوری طور پر منسوخ کیا جا رہا ہے اور متعلقہ اکاؤنٹس کو معطل کر دیا گیا ہے۔‘
بھارت میں امریکی ویزا درخواست گزار پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں، خاص طور پر ”B1“ (کاروباری) اور ”B2“ (سیاحتی) ویزا کے امیدواروں کو کئی سالوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ 2022-23 میں ویزا کے لیے انتظار کا وقت 800 سے 1,000 دن تک جا پہنچا تھا۔
اس طویل انتظار کے مسئلے کو کم کرنے کے لیے امریکہ نے جرمنی کے شہر فرینکفرٹ اور تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں بھارتی شہریوں کے لیے ویزا اپوائنٹمنٹس کی سہولت فراہم کی تھی۔
بھارتی حکومت کئی بار اس طویل انتظار کے مسئلے پر واشنگٹن سے شکایت کر چکی ہے۔ 2022 میں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن سے اس معاملے پر بات کی تھی۔ بائیڈن انتظامیہ نے اس تاخیر کی بڑی وجہ ”COVID-19“ وبا کو قرار دیا تھا۔
رواں سال جنوری میں، جب جے شنکر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے واشنگٹن کا دورہ کیا، تو انہوں نے بلنکن کے جانشین، مارکو روبیو، سے اس مسئلے پر دوبارہ بات کی۔
ویزوں کے اجرا میں تاخیر کے علاوہ، مجموعی طور پر ویزا کی منظوری کی شرح میں بھی کمی آئی ہے، جس سے خاص طور پر بھارتی طلبہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اب ویزا درخواستوں میں دھوکہ دہی کے انکشاف کے بعد، امریکہ جانے کے خواہشمند افراد کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔