امریکی کمپنیوں کا کرپٹو کرنسی کے استعمال کی جانب بڑھتا رجحان
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
امریکی ریٹیلرز کا کرپٹو کرنسی کے استعمال کی جانب رجحان بڑھ رہا ہے۔
کرپٹو کرنسی استعمال کرنے والی امریکی کمپنیاں امریکی ویڈیو گیم ریٹیلر گیم اسٹاپ نے بٹ کوائن کو بطور ٹریژری ریزرو اثاثہ شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وائٹ ہاؤس میں ’کرپٹو سمٹ‘ کا انعقاد کرپٹو کرنسی کی قیمتوں میں گراوٹ کا باعث کیوں بنا؟
گیم اسٹاپ کا کہنا ہے کہ کمپنی نے کارپوریٹ ہولڈنگز کو متنوع بنانے کے لیے بٹ کوائن کو بطور ٹریژری ریزرو اثاثہ شامل کرے گی، دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی پر شرط لگائی جائے تاکہ بنیادی کاروبار کو بدلنے میں مدد ملے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس مہینے کے شروع میں حکومت کی ملکیت والے ٹوکنز کا استعمال کرتے ہوئے ایک اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو قائم کرنے کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی طرف سے ’کرپٹو ریزرو‘ بنانے کے اعلان کے بعد کرپٹو کرنسی کی قدر میں بڑا اضافہ
بٹ کوائن کی سب سے بڑی کارپوریٹ ہولڈر ایم ایس ٹی آر ڈاٹ او نے فروری میں کرپٹو کرنسی کے لیے اپنی وابستگی پر بھی زور دیا تھا،گیم اسٹاپ کے ساتھ کئی دیگر کمپنیاں اب کرپٹو کرنسی کے استعمال کی جانب بڑھ رہی ہیں۔
ذیل میں ان امریکی کمپنیوں کی فہرست ہے جن کی بیلنس شیٹ پر 31 دسمبر 2024 تک بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیاں ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا بٹ کوائن کرپٹو کرنسی.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بٹ کوائن کرپٹو کرنسی کرپٹو کرنسی کے بٹ کوائن کے لیے
پڑھیں:
امریکہ کی جانب سے بھارتیوں کی ہزاروں ویزا درخواستیں منسو خ ہونے کی وجہ سامنے آ گئی
امریکہ نے بھارت میں دو ہزار سے زائد ویزا درخواستیں منسوخ کر دی ہیں۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امیگریشن اور ویزا پالیسی کو مزید سخت کر دیا ہے۔
امریکی سفارت خانے کے مطابق، بھارت میں ویزا اپوائنٹمنٹ کے نظام میں دھوکہ دہی اور بدنظمی کے شواہد ملے، جس میں بوٹس اور دیگر ”بدنیت عناصر“ شامل تھے۔ اس کے نتیجے میں سفارت خانے نے ان مشتبہ اکاؤنٹس کو معطل کر دیا اور ان کے ویزا اپوائنٹمنٹس منسوخ کر دیے۔
سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں لکھا، ’قونصلر ٹیم انڈیا تقریباً 2,000 ویزا اپوائنٹمنٹس منسوخ کر رہی ہے جو بوٹس کے ذریعے حاصل کی گئی تھیں۔ ہم ایسے ایجنٹس اور افراد کے لیے زیرو ٹالرنس رکھتے ہیں جو ہمارے شیڈولنگ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ان تمام اپوائنٹمنٹس کو فوری طور پر منسوخ کیا جا رہا ہے اور متعلقہ اکاؤنٹس کو معطل کر دیا گیا ہے۔‘
بھارت میں امریکی ویزا درخواست گزار پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں، خاص طور پر ”B1“ (کاروباری) اور ”B2“ (سیاحتی) ویزا کے امیدواروں کو کئی سالوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ 2022-23 میں ویزا کے لیے انتظار کا وقت 800 سے 1,000 دن تک جا پہنچا تھا۔
اس طویل انتظار کے مسئلے کو کم کرنے کے لیے امریکہ نے جرمنی کے شہر فرینکفرٹ اور تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں بھارتی شہریوں کے لیے ویزا اپوائنٹمنٹس کی سہولت فراہم کی تھی۔
بھارتی حکومت کئی بار اس طویل انتظار کے مسئلے پر واشنگٹن سے شکایت کر چکی ہے۔ 2022 میں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن سے اس معاملے پر بات کی تھی۔ بائیڈن انتظامیہ نے اس تاخیر کی بڑی وجہ ”COVID-19“ وبا کو قرار دیا تھا۔
رواں سال جنوری میں، جب جے شنکر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے واشنگٹن کا دورہ کیا، تو انہوں نے بلنکن کے جانشین، مارکو روبیو، سے اس مسئلے پر دوبارہ بات کی۔
ویزوں کے اجرا میں تاخیر کے علاوہ، مجموعی طور پر ویزا کی منظوری کی شرح میں بھی کمی آئی ہے، جس سے خاص طور پر بھارتی طلبہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اب ویزا درخواستوں میں دھوکہ دہی کے انکشاف کے بعد، امریکہ جانے کے خواہشمند افراد کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔