فنگر پرنٹس کی کہانی… محسن نقوی کے لیے
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
میرے والد انتقال سے قبل اپنے گاؤں میں 17 کنال زمین کا ٹکڑا چھوڑ گئے تھے‘ میں نے اس پر اسکول بنا دیا‘ یہ پورے علاقے کا واحد انگلش میڈیم اسکول ہے جس میں پرائمری تک بچے اور بچیاں اکٹھے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اس کے بعد بچیاں میٹرک تک پڑھتی ہیں‘ یہ پروجیکٹ ریڈ فاؤنڈیشن چلا رہی ہے‘ میرا عمل دخل اسکول بنانے کے بعد ختم ہو گیا تاہم اگر کسی جگہ کسی چیز کی ضرورت پڑ جائے یا اسکول پر کوئی افتادآ جائے تو پرنسپل مجھ سے رابطہ کر لیتی ہیں‘ بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔
دوسرا پرائمری کے بعد لڑکوں کو میٹرک کے لیے شہر جانا پڑتا ہے لہٰذا ہم نے لڑکوں کے لیے چھٹی جماعت سے ہائیر سکینڈری تک نیا کیمپس بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور ہم اس کے لیے فنڈز اکٹھے کر رہے ہیں‘ تین مارچ کی رات اس اسکول میں چوری ہو گئی‘ چور اسکول کا ٹرانسفارمر اتارنے کے لیے آئے تھے‘ عمارت میں کیمرے لگے ہوئے تھے‘ انھوں نے سیفٹی وائر کاٹی اور اسکول کے اندر داخل ہو گئے اور پرنسپل کے آفس سے ڈی وی آر بھی لے گئے‘ لیپ ٹاپس اور کمپیوٹر بھی اور آفس میں موجودرقم بھی‘ چور بچوں کے بیگز‘ یونیفارمز‘ کتابیں اور کاپیاں بھی لے گئے اور جاتے جاتے اسکول کی الماریاں‘ میز اور دروازے توڑ گئے‘ ہماراعلاقہ خطرناک ہے۔
اس میں جب اس قسم کی واردات ہوتی ہے تو پھر یہ سلسلہ رکتا نہیں‘ ہرگزرتا ہوا شخص پھر اس عمارت یا شخص کو مندر کا گھنٹا بنا کر بجاتا چلا جاتا ہے لہٰذا ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے تھے‘ پرنسپل نے پہلے 15 پر کال کی‘ پھر تھانے سے رابطہ کیا لیکن ان کی سنوائی نہ ہو سکی‘ مجھے انھوں نے چار مارچ کو دوپہر کے وقت اطلاع دی‘ میں نے ڈی ایس پی سے رابطہ کیا‘ مجھے تسلی دی گئی لیکن عمل نہ ہوا لہٰذا مجھے مجبوراً آئی جی ڈاکٹر عثمان سے رابطہ کرنا پڑا‘ میں انھیں اس وقت سے جانتا ہوں جب یہ اے ایس پی تھے‘ یہ حقیقتاً شان دار اور متحرک انسان ہیں‘ انھوں نے فوراً نوٹس لیا اور اس کے بعد پولیس متحرک ہو گئی اور یہاں سے وہ کہانی شروع ہوئی جس کے لیے میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں۔
ہمارا اسکول کھیتوں کے درمیان گاؤں سے ذرا سے فاصلے پر ہے‘ اس کے اردگرد کوئی دوسری عمارت نہیں‘ چور عمارت کے کیمرے توڑ گئے تھے اور ڈی وی آرساتھ لے گئے تھے چناں چہ پولیس کے پاس فنگرپرنٹس کے علاوہ ملزم تک پہنچنے کا کوئی دوسراراستہ نہیں تھا‘ اسکول میں چوروں کے فنگر پرنٹس موجود تھے‘ پولیس نے یہ لے لیے اور اس کے بعد ٹرک کی بتی آن ہو گئی‘ پولیس کے پاس پنجاب کے19 لاکھ ملزموں کے فنگر پرنٹس کا ریکارڈ موجود ہے‘ پولیس جب بھی کسی شخص کو گرفتار کرتی ہے تو یہ اس کے فنگر پرنٹس لے لیتی ہے‘ یہ پرنٹس بعدازاں لاہور فنگر پرنٹس بیورو بھجوا دیے جاتے ہیں‘ بیورو کے پاس روزانہ پنجاب سے 30 سے 40 پرنٹس آتے ہیں‘ ایک پرنٹ کی ویری فکیشن پر 15 سے 20 منٹ لگتے ہیں۔
ان کے پاس 27 ایکسپرٹس ہیں جب کہ 116 آسامیاں خالی پڑی ہیں لہٰذا جب فنگر پرنٹس ان کے پاس آتے ہیں تو یہ پہلے سے موجود پرنٹس میں دفن ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات مہینہ مہینہ باری نہیں آتی‘ میرے کیس میں بھی یہی ہوا‘ آئی جی کے حکم کے باوجود فنگر پرنٹس کو پہلے لاہور پہنچنے میں وقت لگ گیا اور اس کے بعد ویری فکیشن میں بھی اچھے خاصے دن ضایع ہو گئے‘ میرا اس دوران ڈی جی آئی جی آپریشنز اور ڈی پی او سے مسلسل رابطہ رہا‘ ان کے کنسرن اور کوشش کے باوجود سسٹم نے اپنا طبعی وقت لیا اور اس میں ان لوگوں کی قطعاً کوئی کوتاہی نہیں تھی‘ اصل ایشو ہماری حکومتوں کی نالائقی ہے‘ حکومتوں نے کبھی جدید ترین ٹیکنالوجی پر توجہ اور سرمایہ لگایا ہی نہیں چناں چہ ہم جن سیکٹرز کو تھوڑی سی توجہ دے کر پولیسنگ کو بہتر بنا سکتے ہیں وہ ہمارا فوکس ہی نہیں‘ بہرحال قصہ مختصر وہ فنگر پرنٹس پولیس ڈیٹا میں موجود نہیں تھے‘ اس کا مطلب تھا چور نیا ہے یا وہ اس سے قبل پکڑا نہیں گیا تھا۔
اس سے اگلا پروسیجر نادرا تھا‘ پولیس اپنے ریکارڈ کے بعد نادرا سے فنگر پرنٹس ویری فائی کراتی ہے‘ اس کے لیے اے آئی جی مانیٹرنگ خط ٹائپ کراتے ہیں‘ سائن کرتے ہیں اور اس کے بعد فنگر پرنٹس بائی ڈاک وزارت داخلہ جاتے ہیں‘ وہاں سیکشن آفیسر نادرا ہے‘ فنگر پرنٹس سیکریٹری اور ایڈیشنل سیکریٹری کی فائلوں سے ہوتے ہوئے سیکشن آفیسر کے پاس جاتے ہیں اور ان تمام اسٹیپس پر فائلوں کا انبار لگا ہوتا ہے لہٰذا پرنٹس کو نادرا تک پہنچنے میں بیس پچیس دن لگ جاتے ہیں‘ میرے کیس میں اے آئی جی زخمی تھے‘ یہ اسپتال میں تھے‘ اس بے چارے نے اسپتال کے بیڈ سے سائن کر کے پرنٹس وزارت داخلہ بھجوا دیے اور اس کے بعد یہ وزارت کی فائلوں میں دفن ہو گئے۔
پولیس کوشش کرتی رہی جب یہ تھک گئی تو میں فنگر پرنٹس کے پیچھے دوڑ پڑا‘ بہرحال قصہ مزید مختصر وزیر داخلہ کے اسٹاف نے فنگر پرنٹس تلاش کیے اور انھیں سائن کر کے بائی ڈاک چیئرمین نادرا کے آفس بھجوا دیا‘ تین دن ڈاک میں خرچ ہوگئے‘ نادرا میں بھی فائلوں کا انبار ہوتا ہے‘پرنٹس وہاں بھی تین چار دن خوار ہوتے رہے‘ میں نے نادرا کے حکام سے رابطہ کیا‘ انھوں نے پرنٹس تلاش کیے اور دس منٹ میں ویری فائی کر دیے۔
ویری فکیشن کے بعد پھر ایک لمبا پروسیجر شروع ہو گیا‘ خط سائن ہوا اور پرنٹس کی واپسی کا سفر شروع ہو گیا‘انھوں نے پہلے وزارت داخلہ‘ وہاں سے لاہور اے آئی جی کے دفتر اور وہاں سے لالہ موسیٰ کا سفر کرنا تھا‘ اے آئی جی صاحب اسپتال میں پڑے تھے‘ میں نے ان سے رابطہ کیا‘ انھوں نے اسپتال کے بیڈ سے کام شروع کر دیا‘ اس سارے عمل میں 20 دن لگ گئے اور یہ بیس دن بھی آئی جی‘ وزیر داخلہ اور چیئرمین نادرا کی ذاتی توجہ کی وجہ سے لگے ورنہ یہ پراسیس تین چار ماہ لمبا تھا اور اس دوران ملزم دس پندرہ مزید وارداتیں بھی کرلیتے ہیں اور یہ دو چار لوگوں کو قتل کر کے بیرون ملک بھی بھاگ جاتے ہیں۔
میری اب محسن نقوی سے درخواست ہے آپ جدید ذہن کے سمجھ دار انسان ہیں‘ آپ دنیا جہاں کے دورے بھی کرتے رہتے ہیں لہٰذا آپ خود بتائیں کیا آج کے فائیو اور سکس جی کے زمانے میں کسی ملک میں فنگر پرنٹس کے لیے خط بازی ہوتی ہے‘ کیا اس معمولی سے کام کے لیے راستے میں اتنی دیواریں اور اسپیڈ بریکرز ہوتے ہیں؟ پولیس اور نادرا دونوں سرکاری محکمے ہیں لہٰذا حکومت پولیس کو نادرا تک رسائی کیوں نہیں دے دیتی؟ پولیس فنگر پرنٹس لے اور چند منٹوں میں نادرا کے سسٹم سے ویری فکیشن کر لے‘ آخر اس میں کیا حرج ہے؟ اگر سرکار کے ایک محکمے کو سرکار کے دوسرے محکمے پر اعتبار نہیں ہے تو پھر عوام کو سرکار پر کیوں اعتبار ہو گا؟ اگر اس میں کوئی سیکیورٹی ایشو ہے تو بھی حکومت نادرا میں پولیس کا ایک ڈیسک بنا سکتی ہے‘ پولیس وہاں اپنے آفیسر تعینات کر دے‘ یہ نادرا کے دفتر میں بیٹھیں اور ان کے کسی ڈائریکٹر لیول کے افسر کے ساتھ مل کر ویری فکیشن کر لیا کریں۔
اس سے مہینوں کا کام دنوں اور دنوں کا گھنٹوں میں نبٹ جائے گا اور اگر یہ بھی ممکن نہیں تو بھی حکومت کم از کم وزارت داخلہ کو اس عمل سے نکال سکتی ہے‘ یہ پولیس کو نادرا سے ڈائریکٹ کر دے‘ پولیس نادرا کو براہ راست فنگر پرنٹس بھجوا دے اور ان کی تصدیق کرالے‘ ہم نے درمیان میں چودہ سو دیواریں کیوں کھڑی کر رکھی ہیں؟ دوسرا آج خط بازی کا کون سا زمانہ ہے‘ ایس ایچ او فنگر پرنٹس کے لیے ڈی پی او‘ ڈی پی ڈی آئی جی اور ڈی آئی جی آئی جی کے آفس میں خط کیوں لکھ رہے ہیں اور اے آئی جی خط کے ذریعے فنگر پرنٹس وزارت داخلہ کیوں بھجوا رہے ہیں؟ہماری حکومت کو شاید ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوا دنیا میں کمپیوٹر‘ سکینرز‘ انٹرنیٹ اور سافٹ وئیرز آ چکے ہیں اور ان کی مدد سے تھانے سے چند منٹوں میں فنگر پرنٹس اور ایف آئی آر ملک کے کسی بھی دفتر میں بھجوائی جا سکتی ہیں اگر حکومت کو ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا تو مہربانی فرما کر انھیںیہ بتا دیں‘ آپ انھیں یہ اطلاع بھی دے دیں اب اس ساری کارروائی کے لیے موبائل فون ہی کافی ہیں‘ آپ فنگر پرنٹس موبائل فون میں کاپی کریں اور بھجوا دیں‘ نادرا کے لوگ چوبیس گھنٹے موجود ہوتے ہیں۔
یہ اسی وقت ویری فائی کر کے بھجوا دیا کریں گے‘ صرف فنگر پرنٹس کے لیے ہزار کاغذ ضایع کرنے اور دس بیس دستخطوں کی کیا ضرورت ہے؟ حکومت محکمہ ڈاک پر اتنا بوجھ کیوں ڈال رہی ہے؟موبائل فون کی سی ڈی آر کے معاملے میں بھی یہی ہو رہا ہے‘ پولیس پہلے اپنے افسروں کو لکھتی ہے‘ افسر یہ درخواست وزارت داخلہ یا آئی بی کو بھجواتے ہیں اور پھر اس کے بعد دس جگہوں سے فلٹر ہو کر سی ڈی آر ملتی ہے یوں محسوس ہوتا ہے پولیس اور آئی بی دو مختلف ملکوں کے محکمے ہیں۔
حکومت پولیس کو بھی اس سسٹم میں شامل کیوں نہیں کرتی؟آپ بے وقوفی کالیول چیک کیجیے‘ جرائم روکنا‘ مجرم کو گرفتار کرنا اور تفتیش کرنا پولیس کا کام ہے لیکن فنگر پرنٹس اور موبائل فون ڈیٹا وزارت داخلہ اور خفیہ اداروں کے پاس ہے‘ اس کا کیا تک بنتا ہے چناں چہ میری درخواست ہے آپ چار پائی بے شک نہ دیں لیکن کم از کم سوئیں تو تمیز کے ساتھ‘ آپ نیا سسٹم بے شک نہ بنائیں لیکن کم از کم موجودہ سسٹم کو آسان تو بنا دیں‘ اس کے راستے میں موجود غیر ضروری رکاوٹیں تو ختم کر دیں‘ اس سے ملک میں جرائم بھی کنٹرول ہو جائیں گے اور پولیس کا غیر ضروری بوجھ بھی کم ہو جائے گا‘ آخر اس میں کیا حرج ہے!کیا ہم یہ بھی نہیں کر سکتے؟۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فنگر پرنٹس کے اور اس کے بعد سے رابطہ کیا وزارت داخلہ ویری فکیشن موبائل فون اے آئی جی جاتے ہیں پولیس کو انھوں نے نادرا کے ہیں اور میں بھی کے پاس اور ان کے لیے
پڑھیں:
محسن نقوی کی کلمت میں مسلح افراد کی فائرنگ سے 6 مسافروں کی ہلاکت پر سخت مذمت
اسلام آباد:وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کلمت میں بس سے اتار کر مسافروں پر فائرنگ کے افسوسناک واقعہ کی شدید مذمت کی ہے، جس کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔
وزیر داخلہ نے واقعہ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ دہشتگردوں نے بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بے گناہ افراد کو ناحق قتل کرنا انسانیت سوز جرم ہے اور شناخت کر کے مسافروں کو نشانہ بنانا بربریت اور درندگی کی مثال ہے۔
مزید پڑھیں: سانحہ جعفر ایکسپریس؛ ریلوے پولیس کا شہید اہلکار بہترین کمانڈوز میں شمار ہوتا تھا
وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور ان کے دکھ درد میں شریک ہیں۔
محسن نقوی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں ہماری قوم کے دہشتگردی کے خلاف پختہ عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔
وزیر داخلہ نے واقعے کی مکمل تحقیقات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ حکومت اس طرح کی دہشتگردی کو ہر قیمت پر روکنے کے لیے تمام اقدامات کرے گی۔