غزہ میں اسرائیلی درندگی جاری ہے، مسلسل آٹھویں روز حملوں میں7بچوں سمیت مزید 37فلسطینی شہید ہوگئے۔ اسرائیلی حملوں میں الجزیرہ کے رپورٹر حسام اور ایک صحافی منصور بھی شہید ہوئے۔ غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی جنگ میں 50ہزار 82 فلسطینی شہید ہو چکے۔
بچوں کی عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن کے مطابق رواں ہفتے اسرائیلی جارحیت میں 270 فلسطینی بچے شہید ہوئے۔مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں نے آسکر ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم نو آدر لینڈ کے ڈائریکٹر بلال حمدان سمیت تین فلسطینیوں کو شدید زخمی کردیا، جس کے بعد اسرائیلی فوج نے تینوں کو گرفتار کرلیا۔ فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے 9ارکان مسلسل تیسرے روز لاپتہ ہیں، اسرائیلی افواج نے رفح میں ان کا محاصرہ کیا تھا۔سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کا کہنا ہے غزہ میں صورتحال خطرناک ہوچکی ہے۔
امدادی اداروں کے 100میں سے 30ارکان حفاظت کے لیے غزہ چھوڑ رہے ہیں۔ادھر یمنی حوثیوں نے اسرائیل کے بن گوریان ایئرپورٹ کو کامیابی سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔انھوں نے بحیرہ احمر میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ٹرومین کو بھی نشانہ بنانے کا دعوی کیا اور کہاکہ یمن پر حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔
ادھر شام میں درعا کے قریب اسرائیلی حملے میں خاتون سمیت5 افراد شہید ہوگئے۔سعودی عرب اور مصر نے غزہ سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے لیے اسرائیل کی جانب سے ایجنسی کے قیام اور مغربی کنارے میں 13 نئی بستیوں کی منظوری کی شدید مذمت کی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے فلسطینی المقاصداسپتال کو 64.
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار میں آ کر غزہ سے فلسطینیوں کے انخلا کا اعلان کر دیا‘ دنیا میں شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ مقامی باشندوں کوان کے علاقوں سے بزور قوت نکالنے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرنے کا خیال بہت پرانا ہے‘صیہونی سیاسی دانشوروں نے اس حوالے سے بہت کام کیا ہے لیکن تمام ترکوششوں، سازشوں اور جنگوں کے باوجود اسرائیل اور اس کے سب سے بڑے حمایتی امریکا کو منہ کی کھانا پڑی،کیونکہ دنیا میں کسی بھی ملک نے اس کی حمایت نہیں کی ۔ غزہ میں جنگ بندی کے بعد مغربی کنارے پر آباد فلسطینی باشندوں پر یہودی آباد کاروں اور اسرائیلی فوج کے حملے، اس ایجنڈے کا حصہ ہے۔
اقوام متحدہ کی طرف سے غیرقانونی قرار دیے جانے کے باوجود اسرائیل نے دریائے اُردن کے مغربی کنارے اور دیگر مقبوضہ عرب علاقوں میں سات سے آٹھ لاکھ یہودیوں پر مشتمل بستیاں تعمیرکر رکھی ہیں۔ غزہ کے بعد اب مغربی کنارے میں بھی اسرائیل فلسطینی آبادیوں کو حملوں کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ مغربی کنارے میں بھی غزہ جیسے حالات پیدا کرکے فلسطینیوں کے انخلا کا جواز پیش کیا جاسکے۔
صدر ٹرمپ سے بائیڈن انتظامیہ نے بھی غزہ کے فلسطینیوں کو اُردن منتقل کرنے کا خیال ظاہر کیا تھا اور یہ اُردنی اور قطری حکام کے ساتھ سابق سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن کی ملاقاتوں کے دوران پیش کیا گیا تھا مگر اُردن کے شاہ عبداللہ دوم نے گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا۔ اب بھی اُردن، مصر اور قطر نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے فلسطین کے مسئلے کو صرف دو ریاستوں کے فارمولے کی بنیاد پر حل کرنے پر زور دیا ہے۔لیکن امریکا کے صدر ٹرمپ اور ان کے نائب صدر اب بھی اپنے اس ارادے میں لچک پیدا کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آ رہے۔
اسلامی تعاون تنظیم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پر قبضے اور اس کے باشندوں کو بے گھر کرنے کے منصوبے کے خلاف عرب لیگ کی جوابی تجویزکو باضابطہ طور پر منظورکر لیا تھا‘ او آئی سی نے عالمی برادری سے منصوبے کی حمایت کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے، دوسری جانب فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے ہفتے کو غزہ کی تعمیر نو کے عرب منصوبے کی حمایت کا اعلان کردیا ہے، جس پر 53 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔اب یہ معاملات چل ہی رہے تھے کہ اسرائیل نے جنگ بندی ختم کر کے غزہ میں کارروائیوں کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے‘ ادھرامریکی صدر ٹرمپ فلسطینیوں کو غزہ سے ہمسایہ ملک مصر اور اردن منتقل کرنے کے مطالبے پربدستور قائم ہیں ۔عجیب بات ہے کہ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور اردن کے شاہ عبداللہ دوئم تک نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد جب برطانیہ نے فلسطین پر قبضہ کیا تو اس وقت یہاں یہودی بہت چھوٹی اقلیت تھے جب کہ عرب فلسطینیوں کی آبادی 90 فیصد سے زیادہ تھی۔ مگر برطانوی تسلط کے دور میں 20ویں صدی میں یورپ میں ظلم و ستم سے بھاگنے والے یہودیوں نے اس فلسطین پر ایک یہودی ریاست قائم کرنے کی کوشش شروع کر دی۔حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ سے تباہ ہونے والی غزہ کی پٹی 2007 سے اسرائیلی ناکہ بندی کے تحت ایک فلسطینی علاقہ ہے۔اس معاملے میں کبھی کسی کو اعتراض نہیں ہے۔
اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں غزہ اس وقت ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ اسرائیل کی جنگی جارحیت نے غزہ کے بنیادی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس میں پانی، بجلی، اسپتال اور خوراک کی قلت نمایاں ہے۔ توقع تھی کہ جنگ بندی سے امدادی تنظیموں کو متاثرہ علاقوں میں پہنچنے اور عوام کو ضروری سہولیات فراہم کرنے کا موقع ملے گا، لیکن ایسا اسرائیل نے نہیں ہونے دیا۔ اگرچہ جنگ بندی ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی درپیش ہیں۔
اسرائیل کا جنگی جنون ہمیشہ سے خطے کے امن کے لیے ایک خطرہ رہا ہے اور اسرائیل چونکہ ایک غاصب ریاست ہے تو بطور غاصب ریاست اس کا ہمیشہ سے یہ چلن رہا ہے کہ جارحیت کر کے فلسطینیوں کے حق خودارادیت کو دبا دے۔ غزہ کی جنگ بندی بلاشبہ ایک خوش آیند قدم ہے، جس سے خطے میں امن قائم کرنے کی امید پیدا ہوئی ہے، تاہم اصل کامیابی تب ہوگی جب مسئلہ فلسطین کا مستقل حل تلاش کیا جائے گا اور فلسطینی عوام کو ان کے حقوق دیے جائیں گے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ساتھی اس انداز میں کام کر رہے ہیں اور ان کی جو سوچ ہے‘ اسے مدنظر رکھا جائے تو حالات کچھ زیادہ اچھے نظر نہیں آتے۔ فلسطینیوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ انتہائی کمزور پوزیشن میں ہیں۔ فلسطینیوں کے اندر بھی تقسیم بہت گہری ہے۔ شروع میں یہ تقسیم مذہبی نوعیت کی تھی ‘اس وجہ سے عیسائی فلسطینی رہنما جارج ہباش الگ ہوئے‘ اس کے بعد مسلم فلسطینیوں میں سیکولر لبرل اور مذہبی تقسیم پیدا ہوئی ۔
یوں فلسطینیوں کی قوم پرست تحریک کا خاتمہ ہوا جس کا تمام تر فائدہ اسرائیل کو ہوا ۔ دوسری جانب حماس نے پی ایل او اور الفتح کی مخالفت شروع کر دی ‘یوں فلسطینی تحریک انتہائی کمزور پوزیشن میں چلی گئی۔ اسرائیل مسلسل آگے بڑھتا چلا گیا ‘اسے یورپ اور امریکا کی حمایت وراثت میں ملی ہے۔ جہاں تک عرب ملکوں کا تعلق ہے تو ان کی پالیسی میں بھی بہت فرق ہے۔
ماضی میں شام اور عراق بعث پارٹی کے زیر اثر رہا ہے جب کہ مصر اور یمن بھی قوم پرست اور سوشلسٹ خیالات والے حکمرانوں کے زیر اثر رہا ہے جب کہ تیل پیدا کرنے والے امیرعرب ملکوں کی پالیسی ان کے برعکس تھی ‘شہنشاہ ایران کے دور میں ایران کی پالیسی امریکا اور مغرب نواز تھی جب کہ آج کی ایرانی حکومت کی پالیسی امریکا اور مغرب کے خلاف ہے۔اس تقسیم کا بھی فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی پر گہرا اثر پڑا ہے۔
فلسطینی آج کے دورمیں سب سے زیادہ تنہائی کا شکار نظر آتے ہیں ۔امریکا کے عزائم واضح ہو چکے ہیں۔ برطانیہ اور یورپی یونین کی پالیسی بھی فلسطینیوں کے بہت زیادہ حق میں نظر نہیں آتی۔ جس طرح برطانیہ اور یورپ میں یوکرین میں صدر زیلنسکی کا ساتھ دیا ‘اس طرح یورپ نے فلسطینیوں کا ساتھ نہیں دیا ۔ روس یوکرین میں بری طرح پھنسا ہوا ہے ‘اس کی پوری کوشش ہے کہ وہ کسی طرح امریکا کے صدر ٹرمپ کی مدد سے یوکرین کے بحران سے نکل جائے۔ اسی لیے روس نے شام میں بشار الاسد حکومت کو بچانے کے لیے کوئی قابل عمل کام نہیں کیا۔ چین کا معاملہ بھی خاصا پیچیدہ ہے ۔
چینی قیادت امریکا کے خلاف ضرور ہے لیکن وہ امریکا کے ساتھ ایک حد سے زیادہ تنازعہ کو بڑھانا نہیں چاہتی۔اسی لیے تنازعہ فلسطین کے معاملے میں چینی قیادت بھی عملی قدم اٹھانے کے قابل نہیں آتی۔بھارت کے لیے تو یہ فضا خاصی ساز گار ہے اس لیے وہ بھی فلسطینیوں کے لیے کچھ نہیں کرے گا۔ امیر عرب ملکوں کی پوزیشن بھی واضح ہے۔ ان کا مین فوکس تجارت اور سرمایہ کاری پر ہے۔ اس لیے وہ بھی کوئی بڑا تنازعہ کھڑا کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ یوںدیکھا جائے تو فلسطینی قیادت کو ہی اپنے لیے کوئی راستہ بنانا پڑے گا۔
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فلسطینیوں کو فلسطینیوں کے اقوام متحدہ امریکا کے کی پالیسی کی حمایت کرنے کا کے ساتھ کرنے کے کے بعد نہیں ا اور اس رہا ہے کیا ہے کے صدر کے لیے غزہ کی کر دیا دیا ہے
پڑھیں:
فلسطین نے عصر حاضر میں بہت سارے چہروں کو بے نقاب کر دیا، علامہ مقصود ڈومکی
القدس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ اللہ کی نصرت سے حماس، حزب اللہ، انصار اللہ اور اہل غزہ اس معرکہ حق و باطل میں سرفراز ہونگے اور اسرائیل و امریکہ کے مقدر میں ذلت و رسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئیگا۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ فلسطین نے عصر حاضر میں بہت سارے چہروں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کے ہاتھوں غزہ کے قتل عام کے بعد آج منافقین کے مکروہ چہرے امت مسلمہ کے سامنے واضح ہو چکے ہیں۔ فلسطین حق اور صداقت کا میزان بن کر امت مسلمہ کے خائن غداروں کو رسوا کر رہا ہے۔ امت مسلمہ پوچھتی ہے کہ 50 ہزار سنی مسلمان فلسطین میں ذبح ہو گئے مگر امارت اسلامیہ افغانستان کے سربراہ اور طالبان کے امیر المومنین کیوں خاموش ہیں؟ عرب دنیا کے حکمران امام کعبہ اور خادم حرمین شریفین کیوں اسرائیلی مظالم پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں؟ کیوں مسجد نبوی کے ملا اور مفتی صاحبان نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے؟
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اصغریہ علم و عمل تحریک ڈویژن سکھر اور ضلع گھوٹکی کے زیر اہتمام منعقدہ القدس سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علامہ مقصود دومکی نے کہا کہ یمن کے مجاہدین جنہیں باغی کہہ کر آٹھ سال سعودی عرب اور امریکہ کی قیادت میں نام نہاد اسلامی فوج نے بمباری اور ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا آج وہی انصار اللہ اور یمن کے غیرت مند مسلمان قبلہ اول کے محافظ بن چکے ہیں۔ جن کے خلاف دین فروش ملا اور مفتیوں نے سعودی حکمرانوں کے ساتھ مل کر یہ پروپیگنڈا کیا کہ ان سے کعبے کو خطرہ ہے۔ آج پتہ چلا کہ کعبے کو خطرہ انصار اللہ یمن سے نہیں بلکہ خائن حرمین شریفین اور اسرائیل سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کی نصرت سے حماس، حزب اللہ، انصار اللہ اور اہل غزہ اس معرکہ حق و باطل میں سرفراز ہوں گے اور اسرائیل و امریکہ کے مقدر میں ذلت و رسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ القدس سیمینار سے جامع مسجد جعفریہ گھوٹکی کے خطیب مولانا پہلوان علی سنگھڑ، اے ایس او پی کے مرکزی صدر سید منظر حسین نقوی، مبلغ رمضان مرکزی امام بارگاہ مولانا محمد اقبال کریمی، مبلغ رمضان امام بارگاہ جعفریہ مولانا حامد علی رضوی، مبلغ رمضان گاؤں عبداللہ شاھاٹی مولانا جعفر حسین، ڈویژنل صدر اصغریہ علم و عمل تحریک احسان علی مصطفائی، ڈویژنل ابلاغ عامہ سیکریٹری اصغریہ علم و عمل تحریک سید فرمان حیدر نقوی اور ضلعی صدر گھوٹکی سید محسن رضا نقوی نے بھی خطاب کیا۔