کراچی: 2 کار ریس کی زد میں آنے والے موٹر سائیکل سوار میاں بیوی جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
کراچی مین کارساز روڈ پر کار سوار نے میاں بیوی کو روند ڈالا، حادثے میں موٹر سائیکل سوار میاں بیوی جاں بحق، کار سوار زیر حراست، لاشیں اسپتال منتقل کر دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی: ٹینکر کی موٹرسائیکل کو ٹکر، حاملہ خاتون شوہر سمیت جاں بحق، پیدا ہونے والا نومولود بھی چل بسا
ریسکیو ذرائع کے مطابق مشتعل شہریوں نے ٹکر مارنے والی گاڑی کو روک لیا تھا۔ ٹکر مارنے والی گاڑی کے ڈرائیور نے فرار ہونے کی کوشش کی، مگر ٹائر برسٹ ہوگیا تھا۔ کار میں سوار ایک شخص کو شہریوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔
پولیس کے مطابق ٹکر مارنے والی گاڑی میں 4 افراد سوار تھے، جن میں سے 3 فرار ہوگئے ہیں۔ مشتعل افراد کی جانب سے ملزمان کی گاڑی پر توڑ پھوڑ کرنے کے باعث ٹریفک جام رہا۔ صورتحال کو کنڑول کرلیا گیا۔
کار کے ڈرائیور کو تھانے منتقل کیا جارہا ہے، نفری موقع پر موجود، کار کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والے میاں بیوی ہیں۔ گاڑی کو توڑنے والے ایک شخص کو بھی پولیس نےحراست میں لے لیا ہے۔
عینی شاہد کے مطابق 2 کاریں ایئر پورٹ کی طرف سے ریس لگاتی آرہی تھیں، کارساز کے مقام پر سفید کار نے موٹر سائیکل سوار کو ٹکر ماری، کار نے میرے سامنے موٹر سائیکل سوار مرد اور خاتون کو ٹکر ماری ، میں بیوی بچوں کیساتھ گزر رہا تھا ، ہم کار سے بال بال بچے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
کار ریس کارساز روڈ کراچی.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کار ریس کارساز روڈ کراچی موٹر سائیکل سوار میاں بیوی نے والے
پڑھیں:
کراچی:کارساز پر ٹریفک حادثے کا مقدمہ درج، تفصیل سامنے آگئی
تصویر: اسکرین گریبکراچی میں شارع فیصل کارساز پر گزشتہ روز ہونے والے ٹریفک حادثے کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقدمہ متوفیہ کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
مدعی مقدمہ کے مطابق ایک تیز رفتار کار نے بیٹی اور داماد کو ٹکر ماری جس سے دونوں دم توڑ گئے۔
عینی شاہد کے مطابق کار نے میرے سامنے موٹرسائیکل سوار مرد اور خاتون کو ٹکر ماری۔
پولیس کے مطابق گاڑی کے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا گیا ہے، ملزم کے پاس ڈرائیونگ لائسنس بھی موجود نہیں ہے اور اس کی عمر 17 سال ہے۔
ملزم نے بتایا کہ اس نے گاڑی چلانے کے لیے اپنے دوست سعد سے لی تھی۔