UrduPoint:
2025-03-29@10:50:04 GMT

امریکہ: پاکستانی فوجی سربراہ کے خلاف پابندی کا بل کیا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT

امریکہ: پاکستانی فوجی سربراہ کے خلاف پابندی کا بل کیا ہے؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 26 مارچ 2025ء) پاکستانی حکام پر پابندیوں کے لیے امریکی کانگریس میں بل پیر کے روز ایک ریپبلکن قانون ساز اور ایک ڈیموکریٹک رہنما نے مشترکہ طور پیش کیا تھا۔ اس بل کا عنوان: "پاکستان ڈیموکریسی ایکٹ" ہے اور اس میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے پاکستانی حکام پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پیر کے روز یہ بل جنوبی کیرولائنا سے ریپبلکن کانگریس کے رکن جو ولسن اور کیلیفورنیا کے ڈیموکریٹ رکن جمی پنیٹا نے مشترکہ طور پر پیش کیا تھا۔ اب اس پر مزید غور و خوض کے لیے ایوان کی خارجہ امور اور عدلیہ کی کمیٹیوں کو بھیجا گیا ہے۔

امریکی کانگریس کے ریپبلکن رکن جو ولسن پاکستانی فوج پر ایک طویل عرصے سے تنقید کرتے رہے ہیں اور وہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کی مسلسل وکالت بھی کرتے رہے ہیں۔

(جاری ہے)

وہ عمران خان کو ایک 'سیاسی قیدی' قرار دیتے ہیں۔

سفری پابندیاں: کیا پاکستانی بچوں پر امریکی تعلیم کے دروازے بند ہونے جا رہے ہیں؟

بل میں کیا ہے؟

اس بل میں امریکہ کے 'گلوبل میگنٹسکی ہیومن رائٹس اکاونٹیبلٹی ایکٹ' کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس ایکٹ کے تحت امریکہ کو انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیاں کرنے والے افراد پر ویزا اور ملک میں داخلے جیسی پابندی عائد کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔

اس مجوزہ امریکی بل میں کہا گیا ہے کہ اگر ملک نے انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات نہیں کیے، تو پاکستان کے آرمی چیف (جنرل عاصم منیر) پر 180 دن کے اندر پابندیاں عائد کر دی جائیں۔

بل کے مسودے میں امریکی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں مبینہ طور پر حزب اختلاف کو دبانے میں ملوث اہم افراد کی نشاندہی کرے اور پھر انہیں پابندیوں کی فہرست میں شامل کرے۔

البتہ اس بل میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ اگر پاکستان حکومت میں فوجی مداخلت کو ختم کرتا ہے اور "غیر قانونی طریقے سے زیر حراست سیاسی قیدیوں" کو رہا کر دیتا ہے، تو امریکی صدر ایسی پابندیاں ختم کرنے کے مجاز ہوں گے۔

شہری آزادیوں کی سنگین صورتحال، لسٹ میں پاکستان اور امریکہ بھی

اس بل میں پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل عاصم منیر پر "جان بوجھ کر سیاسی مخالفین کو غلط طریقے سے ظلم و ستم اور قید کرنے میں ملوث ہونے" کا الزام عائد کیا گیا ہے اور ایسے اہم افراد پر پابندیاں عائد کرنے کی وکالت کی گئی ہے۔

امریکی کانگریس میں پاکستانی انسانی حقوق اور اس کی جمہوریت سے متعلق پہلے بھی بات ہوئی ہے، تاہم شاید پہلی بار پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر پر پابندیاں عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس بل کا مقصد عمران خان جیسے سیاسی مخالفین کے خلاف "ظلم و ستم" میں ملوث افراد کو نشانہ بنانا ہے۔

پیر کے روز ہی میڈیا ادارے "دی ہل" سے بات کرتے ہوئے، ولسن نے اپنے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا تھا کہ پاکستان کی فوج نے عمران خان کی "غیر منصفانہ حراست" میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے پاکستان کی قیادت کو جوابدہ بنانے کی اہمیت پر مزید زور دیتے ہوئے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ ویزا پابندیوں جیسے سفارتی اقدامات کے ذریعے پاکستانی فوج پر دباؤ ڈالیں۔

افغان اور پاکستانی شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی؟

ولسن سینٹر میں جنوبی ایشیا انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین نے اس بل کے تعلق سے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا: "پاکستان کے حوالے سے ایک عرصے بعد یہ سب سے اہم قانون سازی میں سے ایک ہے۔

" البتہ انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ "اس بل کی منظوری ایک طویل مرحلہ ہو سکتا ہے، تاہم یہ پاکستانی قیادت کو خوفزدہ ضرور کرے گا۔" عمران خان کی رہائی کا مطالبہ

واضح رہے کہ فروری میں کانگریس کے ارکان جو ولسن اور اگست فلوگر نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایک مکتوب بھیجا تھا اور ان پر زور دیا کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالیں۔

انہوں نے خان کو پاکستان میں "بڑے پیمانے پر محبوب" رہنما قرار دیا تھا اور ان کی قید کو سابق صدر ٹرمپ کی طرح عدالتی زیادتی سے تعبیر کیا تھا۔

ولسن نے اپنے سوشل میڈیا ایکس پر اپنے خط کی ایک کاپی شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور فلوگر روبیو پر زور دے رہے ہیں کہ "عمران خان کو آزاد کرایں اور پاکستان میں جمہوریت کی بحالی میں مدد کریں۔

"

ولسن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی ایسا ہی ایک خط بھیجا ہے، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عمران خان کی قید کے امریکی اسٹریٹیجک مفادات پر اثرات مرتب ہوں گے۔

خطے میں امن کے لیے امریکہ کے ساتھ شراکت داری جاری رہے گی، شہباز شریف

پاکستان کا ردعمل کیا رہا؟

پاکستان کے معروف میڈیا ادارے ڈان کے مطابق واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے نے ابھی تک اس بل کے حوالے سے کوئی تبصرہ کرنے یا اس پر اس کا رد عمل اور اقدام کیا ہوگا، اس پر کچھ بھی کہنے سے انکار کیا ہے۔

البتہ اخبار نے لکھا ہے کہ اسے سفارتی ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ پاکستانی حکام سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے امریکی ایوان میں اس قانون سازی پر مزید کارروائی میں تاخیر کی کوشش کر سکتے ہیں۔

پاکستانی سفارت کاروں نے اس پیش رفت پر تحفظات کا اعتراف کیا ہے، تاہم وہ پر امید ہیں کہ شاید اس بل کو وہ حمایت حاصل نہ ہو، جس کی نفاذ کے لیے اس کی ضرورت ہو گی۔

صدر ٹرمپ کا امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے پہلا خطاب

پاکستان پر ایک اور قرارداد

جون 2024 میں اسی طرح کی ایک قرارداد ایوان نمائندگان میں دو طرفہ حمایت کے ساتھ منظور کی گئی تھی اور اس کے حق میں 98 فیصد ووٹ پڑے تھے۔ اس قرارداد میں اس وقت کے صدر جو بائیڈن پر زور دیا گیا تھا کہ وہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالیں۔ تاہم بائیڈن انتظامیہ نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔

ص ز/ ج ا (نیوز ایجنسیاں)

.

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پابندیاں عائد کر امریکی کانگریس عمران خان کی میں پاکستان پاکستان کے کانگریس کے پر زور دیا رہے ہیں کیا ہے کے لیے کی گئی گیا ہے

پڑھیں:

امریکہ، فلسطینی عوام کو بے گھر کرنا چاہتا ہے، سربراہ انصار الله

یوم القدس کے حوالے سے اپنے ایک خطاب میں سید عبدالمالک الحوثی کا کہنا تھا کہ دشمن مسئلہ فلسطین پر ایران کے کردار کی اہمیت سے آگاہ ہے۔ اسی وجہ سے تہران کو زیادہ سے زیادہ دباؤ کی امریکی پالیسی کا سامنا ہے۔ تاہم ایران دباؤ کے باوجود انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد سے اپنے راستے پر گامزن ہے۔ اسلام ٹائمز۔ یمنی انقلاب کے روحانی پیشواء اور مقاومتی تحریک "انصار الله" کے سربراہ "سید عبدالمالک بدر الدین الحوثی" نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کو ختم کرنے کے لیے امریکہ و صیہونی رژیم کی سیاسی اور میڈیا پر مشترکہ کوششیں سب پر واضح ہو چکی ہیں۔ ان کا مقصد نیل سے فرات تک صیہونی منصوبے کی تکمیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اب بھی فلسطینی عوام کو جبراً بے گھر کرنے کی بات کر رہا ہے۔ اس وقت امن و مصالحت کے نام پر جو کچھ کہا جا رہا ہے اس کا کوئی وجود نہیں۔ صہیونی رژیم مسجد اقصیٰ کو یہودیانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کی مزاحمت اور استقامت ناقابل بیان ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار یوم القدس کے حوالے سے اپنی تقریر میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ "طوفان الاقصیٰ" فلسطینی عوام کی جدوجہد میں ایک بڑا قدم ہے۔ فلسطینیوں کی اس استقامت کے نتیجے میں اسرائیل نے امریکی پَروں تلے پناہ لی۔ اس معاملے میں مغرب نے بھی شدید مداخلت کی۔ سید عبدالمالک الحوثی نے کہا کہ چونکہ یہ سوال اٹھنا شروع ہو گیا تھا کہ کیا صیہونی رژیم اپنی کمزور حالت کے باوجود قائم رہ سکے گی؟۔ اپنے وجود کی بقاء کے لئے امریکہ و اسرائیل نے فلسطینی عوام کے قتل عام اور نسل کشی کا راستہ اپنایا۔ دشمن انتہائی وحشت اور فوجی دباؤ کے ذریعے فلسطینی مجاہدین کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔  

سید عبدالمالک الحوثی نے غزہ کی حمایت میں لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک "حزب اللہ" کی تعریف کی۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف جنگ میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ یمن نے بھی ہر سطح پر غزہ کے عوام کی حمایت جاری رکھی حتیٰ کہ ہم نے صیہونی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو روک دیا۔ ہم نے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے فلسطین کی حمایت میں عراق کی مقاومت اسلامی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے اہم کردار کی جانب اشارہ کیا۔ اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ دشمن اس معاملے میں ایران کے کردار کی اہمیت سے آگاہ ہے۔ اسی وجہ سے تہران کو زیادہ سے زیادہ دباؤ کی امریکی پالیسی کا سامنا ہے۔ تاہم ایران دباؤ کے باوجود انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد سے اپنے راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام خمینی ره نے رمضان المبارک کے آخری جمعے کو یوم القدس کا نام دیا تاکہ یہ دن قوموں کی بیداری کا سبب بنے۔ انصار اللہ کے سربراہ نے صیہونی رژیم کے جرائم کے سامنے عرب اور اسلامی ممالک کی کمزوری پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے بھی غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں صیہونی رژیم کی نسل کشی کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا۔ اقوام متحدہ کو چاہئے کہ وہ صیہونی رژیم کی رکنیت معطل کر کے اُسے اس بین الاقوامی پلیٹ فارم سے باہر نکال دے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستانی نژاد محمد عباس کا پاکستان کے خلاف ڈیبیو میچ میں تیز ترین ففٹی کا ریکارڈ
  • پاکستانی نژاد کینیڈین شہری عسکری پروگرام سے منسلک کمپنیوں کو ٹیکنالوجی سمگل کرنے کے الزام میں گرفتار
  • امریکی عدالت کا وائس آف امریکہ کے حق میں فیصلہ
  • پاکستان کے جوہری پروگرام کیلئے ٹیکنالوجی سمگل کرنے کے الزام میں کینیڈین شہری گرفتار
  • امریکی ریاست ٹیکساس میں 23 مارچ کو یوم پاکستان کے طور پر تسلیم کرنے کی قرارداد منظور
  • امریکہ، فلسطینی عوام کو بے گھر کرنا چاہتا ہے، سربراہ انصار الله
  • "ٹرمپ کے دوست" کا "خطرناک مسودہ قانون"؛ ٹرک کی نئی بتی
  • اقلیتوں سے بدترسلوک:امریکی کمیشن کی پاکستانی حکام و سرکاری اداروں اور بھارتی ’’را ‘‘ پر پابندیوں کی سفارش
  • چین امریکا کیلئے سب سے بڑا فوجی اور سائبر خطرہ ، انٹیلی جنس رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات
  • برطانیہ نے پی آئی سے پابندی ہٹا لی یا اب بھی برقرار ہے؟